سندھ ہائیکورٹ : معذور کوٹہ پر دو ماہ میں تقریوں کا عمل مکمل کرنے کا حکم
معذور افراد کو سرکاری ملازمتوں میں شامل کرنا اب کوئی متنازعہ قانونی معاملہ نہیں بلکہ مساوات کے اصولوں کا حصہ ہے فیصلے پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے ، اس ضمن میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی، عدالت کے ریمارکس
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے معذور افراد کے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سے متعلق دائر متعدد آئینی درخواستیں نمٹاتے ہوئے حکومت سندھ کو دو ماہ میں تقرریوں کا عمل مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔ درخواست گزاروں نے معذور افراد کے لیے مختص کوٹہ پر ملازمتوں کی فراہمی کے لیے رجوع کیا تھا، فریقین نے دوران سماعت اتفاق کیا کہ یہ درخواستیں سپریم کورٹ کے 20 مارچ 2025 کے مشترکہ فیصلے کی روشنی میں نمٹائی جا سکتی ہیں، جس میں حکومت کو معذور افراد کے لیے مقررہ کوٹہ پر عملدرآمد کا پابند بنایا گیا تھا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ معذور افراد کو سرکاری ملازمتوں میں شامل کرنا اب کوئی متنازعہ قانونی معاملہ نہیں بلکہ یہ آئین کے آرٹیکل 4، 18 اور 25 کے تحت مساوات کے اصولوں کا حصہ ہے ، اور ریاست پر لازم ہے کہ وہ اس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے ۔ عدالت نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ واضح طور پر قرار دے چکی ہے کہ یہ کوٹہ محض ہدایت نہیں بلکہ لازمی نوعیت کا حامل ہے ۔ سماعت کے دوران اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے موقف اختیار کیا کہ حکومت سندھ کی جانب سے ایک ڈیجیٹل جاب پورٹل اور شکایات کے ازالے کا مربوط نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔
جس کے تحت مرحلہ وار منصوبہ بندی کی گئی ہے ، جبکہ یہ اقدام سندھ امپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبلٹیز ایکٹ 2018 کے تحت کیا جا رہا ہے ، جس میں سرکاری اداروں میں 5 فیصد کوٹہ، مساوی مواقع اور دیگر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی شقیں شامل ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس ضمن میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ متعلقہ ڈی آر سیز کو ہدایت کی گئی کہ درخواست گزاروں کی اہلیت کا ازسرنو جائزہ لے کر تقرریوں کا عمل مکمل کیا جائے ۔ عدالت نے حکم دیا کہ حکومت سندھ اور متعلقہ حکام دو ماہ کے اندر تمام تقرریوں کا عمل مکمل کریں، بصورت دیگر عدم تعمیل پر آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے ۔