پنگریو :سکھر، کوٹری بیراج کی نہروں پر وارہ بندی،کسان پریشان
زیریں علاقوں تک مقررہ وقت پر پانی نہ پہنچنے سے کپاس و دیگر فصلوں کی بوائی متاثراصل چیلنج پانی کی کمی نہیں بلکہ اس کی منصفانہ تقسیم اور مؤثر انتظام ہے ،زرعی ماہرین
پنگریو (نمائندہ دنیا) خریف سیزن 2026 میں بہتر آبی صورتحال کے باوجود سکھر اور کوٹری بیراج کی نہروں پر وارہ بندی، کسانوں کو مشکلات کا سامنا۔ تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں خریف سیزن کا آغاز اگرچہ بہتر آبی ذخائر اور نسبتاً سازگار بارشوں کے ساتھ ہوا ہے ، تاہم زمینی سطح پر پانی کی تقسیم اور نہری نظام میں وارہ بندی کے باعث کسانوں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا)کے مطابق رواں سیزن کے لیے مجموعی طور پر 15 فیصد پانی کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ صوبوں کے لیے مجموعی آبی تقسیم تقریباً 67.451 ملین ایکڑ فٹ مقرر کی گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق سندھ کے اہم آبی ڈھانچے سکھر بیراج اور کوٹری بیراج سے نکلنے والی نہروں میں اس وقت باقاعدہ وارہ بندی نافذ ہے ، جس کے تحت مختلف نہری کمانڈ ایریاز کو باری باری پانی فراہم کیا جا رہا ہے ، اس نظام کے باعث کئی زیریں علاقوں تک مقررہ وقت پر پانی کی رسائی متاثر ہو رہی ہے ، جس کے باعث خریف کی ابتدائی کاشت خصوصاً کپاس ،سورج مکھی اور دھان کی پنیری کی بوائی کے عمل پر دباؤ بڑھ گیا ہے ۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق رواں سیزن میں اگرچہ ڈیموں میں پانی کی سطح گزشتہ 5 سے 6 سال کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے تاہم نظامی نقصانات اور تقسیم کے مسائل کے باعث نہری فراہمی میں توازن برقرار نہیں رکھا جا سکا۔ زرعی ماہرین کے مطابق اس وقت اصل چیلنج پانی کی کمی نہیں بلکہ اس کی منصفانہ تقسیم اور موثر انتظام ہے ۔