ادویات چوری غریب کاخون چوسنے کے مترادف، ایڈیشنل سیشن جج

ادویات چوری غریب کاخون چوسنے کے مترادف، ایڈیشنل سیشن جج

اعلیٰ حکام کی شمولیت کے بغیر ڈگری میں 90لاکھ کی ادویات غائب نہیں کی جاسکتیںسیکریٹری ہیلتھ سے نوٹس لینے اور چیف سیکرٹری کو آرڈر کی کاپی بھیجنے کا حکم دے دیا

میرپور خاص (بیورو رپورٹ)پی پی ایچ آئی ڈگری دفتر سے مبینہ 90 لاکھ کی میڈیسن چوری کے ڈگری تھانے میں درج مقدمے میں زیر حراست ملزم حافظ کاشف کی ضمانت کی درخواست کو رد کرنے کے آرڈر میں ایڈیشنل سیشن جج نے سخت ریمارکس دیے ہیں ۔ 19 مئی کو ضمانت رد کرنے کے تفصیلی آرڈر میں ایڈیشنل سیشن جج نے پیرا نمبر 15 میں ریمارکس دیے کہ 90 لاکھ روپے سے زائد کی ادویات کی خوردبرد میں چھوٹے ملازم اعلی حکام کی شمولیت اور ملی بھگت سے کچھ نہیں کرسکتے ، اس معاملے کی مکمل انکوائری ہونی چاہیے ۔ آرڈر میں میڈیسن چوری کو غریب عوام کے خون چوسنے جیسا قرار دیا گیا ۔ معزز جج نے اپنے تفصیلی فیصلے میں سیکریٹری ہیلتھ سے اس پورے معاملے کا نوٹس لینے اور میڈیسن کی چوری میں ملوث کرداروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔

ساتھ ہی تفصیلی فیصلے کے اختتام پر لکھا ہے کہ یہ آرڈر چیف سیکرٹری تک پہنچایا جائے تاکہ وہ سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی تقسیم کے معاملے کی کڑی نگرانی کرائیں۔ ایڈیشنل سیشن جج نے تفصیلی فیصلے میں اس معاملے کو غریب عوام کی صحت سے متعلقہ قرار دیا اور ضمانت رد کردی ۔ واضح رہے کہ ڈگری تھا نے میں درج مقدمے میں تین ملزمان پہلے ہی ضمانت پر ہیں جبکہ ایک ہی ملزم گرفتار ہے ، پولیس نے مقدمے کا چالان ڈگری کورٹ میں پیش کردیا ہے جس کے بعد مقدمے کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہوچکا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں