کرولا گینگ کے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد: خطرناک ملزم کے ساتھ نرمی نہیں برتی جاسکتی: سندھ ہائیکورٹ
ایسے گھٹیا اور معاشرے کے لیے خطرناک فرد کومعاشرے کے وسیع تر مفاد میں جیل میں ہی رہنا چاہیے ،جسٹس عمر سیال پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور ٹرائل کورٹ کو ملزم کی سابقہ سزاؤں اور سزا یافتہ ریکارڈ کو بھی عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے شارع فیصل تھانے کی حدود میں خاتون سے اسلحے کے زور پر ڈکیتی کے مقدمے میں کرولا گینگ کے رکن ملزم محمد علی ہاجانو کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایسے خطرناک ملزم کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جاسکتی، جسٹس عمر سیال نے درخواست پر فیصلہ سنایا۔ پراسیکیوشن کے مطابق خاتون مدعیہ فاطمہ مطیع نے شارع فیصل تھانے میں درج ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ 25 اکتوبر 2025 کو وہ اپنے شوہر کے ہمراہ گلستان جوہر میں واقع حبیب یونیورسٹی میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے گئی تھیں۔ دونوں نے اپنی گاڑی سروس روڈ پر پارک کی اور تقریب کے بعد واپس آکر گاڑی میں اپنے دوستوں کا انتظار کر رہے تھے ۔
رات تقریباً 11 بج کر 20 منٹ پر موٹر سائیکل سوار ایک شخص گاڑی کے قریب آیا، شیشہ نیچے کرنے کا اشارہ کیا اور انکار پر پستول نکال لیا۔ ملزم نے خاتون کا پرس، جس میں 7 ہزار روپے نقد، سونے کی چین، مصنوعی بالیاں اور کیسیو گھڑی موجود تھی، چھین لی اور فرار ہونے کی کوشش کی۔ خاتون نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی گاڑی موٹر سائیکل سے ٹکرا دی جس سے ملزم گر گیا۔ خاتون کے شور مچانے پر شہریوں نے ملزم کو پکڑ لیا جبکہ اسی دوران شارع فیصل تھانے کی پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس نے ملزم کی شناخت محمد علی ہاجانو کے نام سے کی اور اس کی تلاشی کے دوران لائسنس یافتہ پستول، پرس، نقد رقم، شناختی کارڈ کی رنگین کاپی، گھڑیاں اور ایک مصنوعی بالی برآمد کی، جن میں سے خاتون نے اپنی گھڑی اور مصنوعی بالی کی شناخت کرلی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم شناخت میں غلطی کا دعویٰ نہیں کرسکتا کیونکہ اسے جائے وقوعہ پر ہی گرفتار کیا گیا اور مسروقہ سامان بھی اس کے قبضے سے برآمد ہوا۔عدالت نے فیصلے میں مزید کہا کہ محمد علی ہاجانو وہی شخص ہے جو ماضی میں وائٹ کرولا کیس کے نام سے معروف متعدد خواتین سے زیادتی کے مقدمات میں ملوث رہا ہے اور کراچی میں خوف و ہراس کی علامت بن گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسے گھٹیا اور معاشرے کے لیے خطرناک فرد کے ساتھ کسی قسم کی ہمدردی یا رعایت نہیں برتی جاسکتی اور اسے معاشرے کے وسیع تر مفاد میں جیل میں ہی رہنا چاہیے ۔ عدالت نے مدعیہ خاتون کی بہادری اور حاضر دماغی کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا اقدام قابل تعریف ہے ۔ عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ فوجداری ضابطہ کار کے مطابق ٹرائل کے دوران ملزم کی سابقہ سزاؤں اور سزا یافتہ ریکارڈ کو بھی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے ۔