اس مسافر کو جنگلوں سے محبت ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ یہ فقیر سردیوں میں کسی نہ کسی جنگل میں‘ خواہ چند روز کیلئے ہی سہی‘ جا بسرام کرتا تھا۔ سردی‘ تنہائی‘ خاموشی اور شہر کی ہاؤ ہُو سے یہ چند دن کی دوری ایسا لطف دیتی کہ اگلے کئی ماہ اسی نشے میں گزر جاتے تھے۔ اس سے پہلے یہ مسافر شکار کے سلسلے میں جنگلوں‘ صحراؤں‘ دریاؤں کے کناروں اور انکے درمیان خشکی کے ٹاپوؤں پر خوار ہونے کا مزہ لیتا تھا۔ پھر سب کچھ جیسے کہ ختم ہی ہو گیا۔ شکاری پارٹی غیرمحسوس طریقے سے غائب ہو گئی‘ جنگلوں میں ساتھ دینے والی ہمسفر بیچ راستے کے چھوڑ گئی۔ دل بجھ گیا اور گھٹنوں نے ساتھ چھوڑ دیا۔ بقول شاعر:
اب نہ چڑیاں ہیں‘ نہ اخبار‘ نہ کپ چائے کا
ایک کرسی ہے جو دالان میں رکھی ہوئی ہے
اب یہ مسافر جب درختوں‘ جنگلوں‘ ندی نالوں‘ ویرانوں‘ صحراؤں اور پہاڑوں کے ساتھ سے گزرتا ہے تو فارسی ضرب المثل ''گندم اگر بہم نرسد، جو غنیمت است‘‘ کے مصداق اسی سے لطف اندوز ہو لیتا ہے۔ جوانی کا ٹھرک کم تو ہو سکتا ہے مرتا نہیں ہے۔
ادھر امریکہ جنگلوں‘ درختوں‘ ندی نالوں‘ جھیلوں اور ویٹ لینڈ سے پٹا پڑا ہے۔ فی الوقت میں امریکی ریاست پنسلوینیا میں ہوں اور سڑکوں کے دونوں طرف دور دور تک دکھائی دینے والے بلندی کی کئی پرتوں پر مشتمل درختوں کے لامتناہی سلسلوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے پاکستان میں جنگلوں کی کسمپرسی پر دکھی ہوتا رہتا ہوں۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے امریکی ریاست پنسلوینیا سے سات گنا بڑا ہے۔ اس ریاست میں جنگلات کا رقبہ 6.72ملین ہیکٹر سے زیادہ ہے ( یاد رہے کہ ایک ہیکٹر رقبہ اڑھائی ایکڑ کے لگ بھگ ہے)۔ یہ اس ریاست کے کل رقبے کا 76 فیصد ہے۔ اس سے سات گنا بڑے رقبے کے حامل پاکستان میں جنگلات کا کل رقبہ 4.11 ملین ہیکٹر ہے جو کل ملکی رقبے کا 4.7فیصد ہے۔ ایک سروے کے مطابق یہ چار فیصد جنگلات کا رقبہ بھی ہر سال گیارہ ہزار ہیکٹر مزید کم ہو رہا ہے۔ یعنی جنگلات لگنے اور کٹنے میں منفی گیارہ ہزار ہیکٹر کی نسبت ہے۔ جنگلات کے رقبے میں فرق سے ہٹ کر اگر پنسلوینیا اور پاکستان کے جنگلات میں گھنے پن کے حوالے سے موازنہ کروں تو صورتحال مزید قابلِ رحم ہو جاتی ہے۔ میں نے ایک دو بار پنسلوینیا میں درختوں کے عام سے جھنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی جو بری طرح ناکام ہو گئی۔ دوسری طرف پاکستان کے پہاڑی علاقوں کے قدرتی اور دیگر علاقوں میں لگے ہوئے مصنوعی جنگلات میں لگائے گئے درختوں کا یہ حال ہے کہ آپ ہر دو قریبی درختوں کے درمیان اپنی چارپائی بچھا کر مزے سے سو سکتے ہیں۔
پنسلوینیا میں فی ہیکٹر درختوں کی تعداد 1190کے لگ بھگ ہے اور ریاست میں فی کس درختوں کی تعداد 330 ہے۔ یعنی ایک آدمی کو آکسیجن فراہم کرنے کیلئے 330 درخت ایستادہ ہیں۔ ادھر پاکستان میں فی ہیکٹر کل 12 درخت ہیں۔ آپ کو اسی سے پاکستانی جنگلات کی حقیقت اور حالتِ زار کا اندازہ ہو گیا ہو گا۔ یعنی ایک تو پاکستان سے سات گنا چھوٹی اس ریاست میں جنگلات کا رقبہ پاکستان سے ڈیڑھ گنا سے زیادہ ہے‘ اوپر سے فی ہیکٹر درختوں کی تعداد سو گنا زیادہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پنسلوینیا میں جتنے درخت فی ہیکٹر ہیں پاکستان میں اتنے درخت فی مربع کلو میٹر میں ہیں۔ پاکستان میں فی کس درختوں کی تعداد صرف پانچ ہے اور یہ پانچ درخت بھی صحت کے اعتبار سے خود پتلی حالت میں ہیں۔
قارئین ! میں جس ریاست کے جنگلات کا موازنہ پاکستان سے کر رہا ہوں وہ خود کل رقبے کی جنگلات سے نسبت کے اعتبار سے امریکہ میں تیرہویں نمبر پر ہے۔ اس کے مقابلے میں بارہ دیگر ریاستیں جنگلات کے کل ریاستی رقبے سے نسبت کے حوالے سے اس سے آگے ہیں۔ پہلے نمبر پر امریکی ریاست Maine ہے جس میں جنگلات ریاست کے کل رقبے کا 89.06 فیصد ہیں اور فی کس درختوں کی تعداد 3292ہے۔ یہ مسافر جب پہلی بار امریکہ گیا تو وہاں ہر طرف درخت ہی درخت دکھائی دیے۔ درختوں سے محبت رکھنے والے اس مسافر نے جب پہلی مرتبہ نیویارک کے ہوائی اڈے پر اُترنے سے تھوڑی دیر پہلے نیچے نظر دوڑائی تو اسے دور دور تک درخت ہی درخت دکھائی دیے۔ یہ منظر مسافر کیلئے بڑا حیران کن تھا کیونکہ اس کے ذہن میں نیویارک کے بارے میں ایک بالکل مختلف تصور موجود تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ نیویارک صرف سیمنٹ‘ بجری اور سریے کا جنگل ہوگا‘ جہاں ہر طرف عمارتیں‘ دکانیں‘ پلازے‘ ہوٹل اور کاروباری مراکز ہی دکھائی دیں گے جبکہ درخت شاید کہیں خال خال نظر آئیں گے۔ لیکن وہاں پہنچنے پر اس کے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔ اس نے دیکھا کہ نیویارک ایک ایسی ریاست ہے جس میں آباد شہری علاقوں کے علاوہ ہر طرف سبزہ‘ جنگلات اور چھوٹے چھوٹے جھیل نما تالابوں کی ایسی بہتات ہے کہ اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔
پہلے پہل خالد منیر کے ساتھ پنسلوینیا میں گھومنا شروع کیا تو اس ریاست کے نام سے خیال آیا کہ شاید اس ریاست میں جنگلات امریکہ میں سب سے زیادہ ہیں۔ پنسلوینیا کا نام دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ ''Penn‘‘ ہے جو لارڈ ولیم پین کے نام سے اخذ کردہ ہے۔ لارڈ ولیم پین کو 1681ء میں برطانیہ کے بادشاہ چارلس دوم نے اس علاقے میں نوآبادی قائم کرنے کا چارٹر دیا تھا۔ نام کا دوسرا حصہ ''Sylvania‘‘ ہے‘ لاطینی زبان کے اس لفظ کا مطلب جنگل یا درختوں سے بھرا ہوا علاقہ ہے۔ پنسلوینیا سے مراد ''پن کے جنگلات‘‘ ہے۔ تاہم جب میں برادر بزرگ اعجاز احمد کے پاس جارجیا گیا تو اندازہ ہوا کہ یہ ریاست تو ''پن‘‘ کے جنگلات سے بھی زیادہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ جارجیا جنگلات کی شرح فیصد کے حساب سے امریکہ میں ساتویں نمبر ہے۔ اس ریاست کے کل رقبے کا تقریباً ستر فیصد جنگلات پر مشتمل ہے اور آبادی کے مقابلے میں فی کس درختوں کی تعداد 584 ہے۔
ادھر یہ عالم ہے کہ اول تو درخت ہیں ہی نہیں۔ اگر ہیں تو مافیا درخت کاٹنے پر اور سرکاری اہلکار بیچنے میں مصروف ہیں۔ نئے لگنے والے مصنوعی جنگلوں میں جلد بڑھوتری والے غیرمقامی اور فضول قسم کے درختوں کی بہتات ہے۔ مقامی درختوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہر طرف سفیدہ ہی سفیدہ ہے۔ چوڑے پتوں والے مقامی درختوں کے برعکس یہ پانی چوس باریک پتوں والا درخت ماحول کو بہتر کرنے کے بجائے الٹا خراب کرنے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ شیشم جیسا شاندار مقامی درخت عنقا ہو رہا ہے۔ لے دے کر خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں لگے ہوئے دیودار‘ کیل‘ چیڑ‘ سلور فِر‘ سپروس‘ بلوط اور چنار کے درختوں پر مشتمل جنگل ایسے ہیں جنہیں جنگل کہتے ہوئے شرم محسوس نہیں ہوتی۔
میں اپنے بچپن سے اس ملک میں ہفتۂ شجر کاری کا غلغلہ سن رہا ہوں مگر اس کے حقیقی اثرات کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ یہی حال جنگلی حیات کا ہے۔ ہر قسم کا جنگلی جانور ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ مقامی جانوروں کیساتھ تو ہم نے جو کیا وہ ایک الگ داستان ہے ہماری پاگل پن کی حد تک جانور اور پرندہ کشی کی بدولت تقریباً ہر قسم کا جانور ناپید ہو گیا ہے اور مہاجر پرندے بھی آہستہ آہستہ ادھر کا رخ کرنا چھوڑ رہے ہیں۔ ابھی عالم یہ ہے کہ ہمارے ہاں اسلحے کی وہ بہتات اور فراوانی نہیں جو امریکہ میں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 34 کروڑ امریکی شہریوں کے پاس 40 کروڑ کے لگ بھگ آتشیں اسلحہ ہے جو دنیا بھر کے شہریوں کے پاس موجود اسلحے کا 46 فیصد ہے۔ ہر سو امریکی شہریوں کے پاس 120 بندوقیں ہیں اور اسکے باوجود امریکہ میں صرف White-tailed Dee کی تعداد ہی ساڑھے تین کروڑ ہے۔