شہرمیں337خطرناک عمارتیں ،موثر اقدامات نہ ہوسکے

شہرمیں337خطرناک عمارتیں ،موثر اقدامات نہ ہوسکے

ہرسال جانی نقصان کے باوجودعمارتوں میں رہائشی و کمرشل سرگرمیاں جاری

لاہور (عمران اکبر )لاہور میںہر سال متعدد جانیں نگلنے کے باوجودخستہ حال عمارتوں کیخلاف موثر اقدامات نہ ہوسکے ، شہر میں اَب بھی سینکڑوں مخدوش عمارتیں موت کی تلوار بن کر لٹکنے لگیں۔ لاہور میں 337مخدوش و خطرناک عمارتوں کی نشاندہی،والڈ سٹی اتھارٹی میں 254،ایم سی ایل حدود میں 83خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ۔والڈ سٹی میں 101انتہائی خطرناک عمارتیں گرانے کیلئے خالی کروا لی گئیں۔ سروے رپورٹ کے مطابق والڈ سٹی میں 101 خطرناک عمارتیں موجود،ایم سی ایل حدود میں 78پرائیویٹ اور 5 سرکاری عمارتیں خطرناک قرار جن میں 54 رہائشی، 27 کمرشل اور دو انڈسٹریل عمارتیں شامل ہیں۔ایم سی ایل حدود میں 45 عمارتیں انتہائی خطرناک و نا قابل مرمت قرار،ایم سی حدود کی 31خطرناک عمارتیں قابل مرمت قرار،83 خطرناک عمارتوں میں سے 71میں اب بھی رہائشی و کمرشل سرگرمیاں جاری،83 خطرناک عمارتوں میں سے صرف 12خالی کرائی جا سکیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں