عملی امتحانات کے نئے طریقے کے نتائج کیلئے ریسرچ کافیصلہ
تھیوری اور پریکٹیکل میں حاصل کردہ نمبروں کا تقابلی تجزیہ کیا جائے گا
لاہور(خبر نگار )پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز نے عملی امتحانات کے نئے طریقہ کار کے نتائج اور اس کے اثرات کا جامع جائزہ لینے کے لیے خصوصی ریسرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس مقصد کے تحت طلبہ کے تھیوری اور پریکٹیکل امتحانات میں حاصل کردہ نمبروں کا تقابلی تجزیہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق ایسے امیدواروں کا ریکارڈ بھی الگ سے جانچا جائے گا جنہوں نے تھیوری امتحان میں کم جبکہ عملی امتحان میں غیر معمولی طور پر زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں۔ اگر تحقیقات کے دوران عملی امتحانات میں نمبروں کی فراہمی میں بے ضابطگیاں ثابت ہوئیں تو ذمہ دار اساتذہ کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔رواں سال پہلی مرتبہ عملی امتحانات میں طلبہ سے تحریری سوالنامہ بھی حل کرایا گیا، جبکہ عملی پرچوں کی پہلی بار سنٹرلائزڈ مارکنگ بھی کی گئی۔ حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد امتحانی نظام میں شفافیت اور میرٹ کو مزید مضبوط بنانا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹرک کے پہلے سالانہ امتحانات میں پنجاب بھر سے تقریباً 27 لاکھ امیدواروں نے شرکت کی۔ اب نئے عملی امتحانی نظام کے نتائج، افادیت اور مجموعی اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جس کی بنیاد پر آئندہ برسوں کے امتحانی نظام میں مزید اصلاحات اور بہتری کے لیے سفارشات مرتب کی جائیں گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments