توانائی بچت مہم، حکومتی احکامات دیہی علاقوں میں بے اثر

توانائی بچت مہم، حکومتی احکامات دیہی علاقوں میں بے اثر

دکانیں جلد بند کرنے کا نوٹیفکیشن مذاق بن گیا، مارکیٹیں رات 11 بجے تک اوپن

سکندرآباد (نامہ نگار) ملک میں جاری شدید توانائی بحران کے دوران حکومت کی جانب سے کاروباری مراکز جلد بند کرنے کے واضح احکامات اور نوٹیفیکیشن تحصیل کے دیہی علاقوں میں بے اثر ثابت ہو گئے ۔ تحصیل انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث مضافاتی علاقوں اور دیہی بازاروں میں بجلی کی بچت مہم کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، جہاں دکانیں اور تجارتی مراکز رات ۱۱ بجے تک کھلے رہنا معمول بن گیا ہے ۔اطلاعات کے مطابق انتظامیہ کی کارروائی صرف شہر اور مین شاہراہوں تک محدود ہے ، جبکہ دیہی مراکز کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے ۔

حکومتی نوٹیفیکیشن کے مطابق مقررہ وقت پر کاروبار بند کرنے کی پابندی کے برعکس، دیہات میں دکاندار اپنی مرضی سے کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے قومی خزانے اور بجلی کے گرڈ پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے ۔عوامی حلقوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مساوی پالیسی شہری علاقوں میں سختی اور دیہات میں لاپرواہی کا سبب بنی ہے ۔ توانائی کا ضیاع بڑھنے سے عوام لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیل رہے ہیں جبکہ رات گئے تک تجارتی سرگرمیاں جاری رہنے سے بجلی کا بے دریغ ضیاع ہو رہا ہے ۔شہریوں نے ڈپٹی کمشنر اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ توانائی بحران کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے دیہی علاقوں میں بھی سختی سے حکومتی نوٹیفیکیشن پر عمل درآمد کرایا جائے۔ تاکہ بجلی کی بچت کا ہدف پورا ہو اور قانون کی بالادستی قائم رہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں