2014ء میں مجھے امریکی ریاست ڈیلا ویئر (Delaware) میں واقع اپنے بھائی ڈاکٹر عاصم صہبائی کے خوبصورت گھر میں پانچ ماہ تک رہنے کا موقع ملا۔ اس قیام کے دوران جتنا خیال ان کی فیملی نے ہمارا رکھا اتنا شاید میرا سگا بھائی بھی مشکل سے رکھ پاتا۔
اُن دنوں میرے پاس خاصا وقت ہوتا تھا لہٰذا پڑھنے لکھنے کا بہت موقع ملا۔ میں نے ڈاکٹر عاصم کے گھر قرآن پاک کا ایک نسخہ دیکھا جو بھارت کے ایک سکالر نے نہایت خوبصورت انداز میں مختلف انسانی موضوعات کو ابواب میں تقسیم کر کے ترجمہ کیا تھا‘ اور اس انداز میں کیا تھا کہ آپ پڑھتے جائیں اور سمجھتے جائیں۔ اگرچہ میں نے 1996ء میں اپنے ملتان کے قیام کے دوران ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کا قرآن کا اردو ترجمہ اور تفسیر پڑھی تھی لیکن شاید اس وقت ذہنی طور پر اتنا میچور نہ تھا کہ اہم موضوعات کی اصل روح کو سمجھ پاتا۔ برسوں کے بعد جب ڈاکٹر عاصم کے گھر اس نسخے کو پڑھنا شروع کیا تو بہت سی باتیں واضح ہوتی چلی گئیں۔
ایک باب حسد کے بارے میں تھا۔ اللہ تعالیٰ انسان کو حسد کرنے سے منع کرکے حسد کے شر سے بچنے کی دعائیں بھی سکھاتا ہے۔ اس باب کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ حسد انسانی کمزوریوں یا برائیوں میں سے نہایت خطرناک چیز ہے جو کسی اور کا نہیں بلکہ صرف اسی انسان کا نقصان کرتی ہے جو حسد بھرے احساسات پالتا ہے۔ اندازہ ہوا کہ اسی حسد کی وجہ سے حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی انہیں ایک کنویں میں پھینک کر اپنے تئیں مار آئے تھے۔ اگر آپ کے بھائی اور آپ کا اپنا لہو بھی آپ سے حسد کرے تو پھر کسی اجنبی سے کوئی کیا گلہ کرے۔ اس باب کو پڑھتے ہوئے مجھے انسان کی بے بسی پر بھی ترس آیا۔ پیدائش کے وقت ہی انسان کے اندر مختلف جبلتیں ڈال دی جاتی ہیں جن میں اچھی اور بری دونوں شامل ہوتی ہیں۔ انسان عمر بھر ان جبلتوں سے لڑتا ہے۔ اپنی جبلت کے خلاف لڑنا کوئی آسان کام نہیں۔ مجھ سے پوچھیں تو شاید صوفی درویش یا سادھو‘ سنت‘ فقیر ہی ان منفی جبلتوں سے لڑ سکتے ہیں ورنہ میرے جیسے گناہگار انسان کے بس کا یہ کام نہیں۔
حسد کے ساتھ ایک اور خطرناک جبلت انسانی اَنا ہے۔ اسی لیے گوتم بدھ بھی باپ کی شاہی چھوڑ کر جنگلوں کو نکل گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جب گوتم کے پاس شہزادے یا امیر گھرانوں کے لڑکے چیلے بننے کیلئے آتے تو وہ سب سے پہلے ان کی اَنا کو توڑتے کیونکہ یہی انسانی کمزوریوں پر حاوی ہوتی ہے۔ گوتم ان شہزادوں کو کشکول دے کر گاؤں گاؤں بھیجتے کہ جاؤ‘ بھیک مانگ کر لاؤ۔ یہ انسانی اَنا توڑنے یا اس پر قابو پانے کا گوتم کا طریقہ کار تھا۔
قرآن مجید میں حسد کے بارے میں پڑھنے اور سمجھنے سے پہلے اگر مجھے پتا چلتا کہ میرا کوئی قریبی حسد کا شکار ہو کر منفی باتیں کرتا ہے تو مجھے اس پر افسوس بھی ہوتا اور غصہ بھی آتا لیکن جب قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھا کہ حسد اس سے کیا جاتا ہے جسے میں نعمتیں عطا کرتا ہوں‘ اور جس سے حسد کیا جاتا ہے اسے اور زیادہ عطا کرتا ہوں‘ تو میں نے اپنی کونسلنگ شروع کر دی کہ نہ تو میں نے دوسروں سے حسد کرنا ہے‘ اور نہ ہی جو مجھ سے حسد کرتے ہیں انہیں برا سمجھنا ہے یا ان سے الجھنا ہے۔ ہم سب مجبور اور بے بس ہیں کیونکہ یہ بھی دیگر جبلتوں کی طرح ایک ایسی کیفیت ہے جس سے ہمیں مسلسل لڑتے رہنا ہے۔ اپنے آپ کو سمجھانا ہے کہ جو میرے مقدر میں ہے وہ مجھے مل رہا ہے۔ اگر یہ بھی میرے پاس نہ ہوتا تو میں کیا کر لیتا؟ آپ سے حسد وہ کرتا ہے جو آپ سے پیچھے قطار میں کھڑا ہوتا ہے یا جس کے پاس آپ سے کم علم‘ دولت یا مرتبہ ہوتا ہے۔ جو آپ سے علم‘ دولت‘ سٹیٹس یا عزت و احترام میں آگے ہے وہ آپ سے حسد محسوس نہیں کرتا۔ ہمیشہ وہی لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں جن میں یہ چیزیں کم ہوتی ہیں۔
اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جو آپ کے قریبی حسد کرتے ہیں اور آپ کو ان کے رویوں یا جذبات سے اس کا اندازہ ہوتا رہتا ہے تو انہیں زیادہ عزت اور احترام دیں۔ انہیں اپنے سے کمتر ہونے کا احساس نہ ہونے دیں۔ ان کیلئے دل کو کھلا رکھیں۔ یہ رویہ ان پر اثر کرے گا۔ ایک طرف آپ ان سے آگے ہوں اور دوسری طرف آپ کا رویہ بھی متکبرانہ یا غرور سے بھرا ہو تو پھر آپ حسد کرنے والے سے بھی بدتر انسان ہیں جسے خدا نے کچھ زیادہ عطا کر دیا تو وہ خود کو سنبھال نہ سکا اور ''اپن ہی بھگوان ہے‘‘ والی سوچ اپنا لی۔ وہی بات کہ اگر انسان اپنے مقدر پر قناعت کر لے تو بہت ساری مشکلات آسان ہو جاتی ہیں لیکن ایک اہم بات جسے ہم نظر انداز کر دیتے ہیں‘ وہ یہ کہ خدا کہتا ہے کہ میں انسان کو اُتنا ہی دیتا ہوں جتنی وہ کوشش کرتا ہے۔ اگر آپ کو کسی سے متعلق حسد کا جذبہ محسوس ہوتا ہے تو اپنی محنت بڑھا دیں۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ محنت ضائع جائے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ کامیابی کیلئے مسلسل اور طویل محنت درکار ہوتی ہے جبکہ لوگ راتوں رات دوسروں جیسا بننا چاہتے ہیں‘ جلدی تھک جاتے ہیں اور پھر وہی حسد اور دشمنی پر اتر آتے ہیں اور خود کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
یہ سب باتیں مجھے کیوں یاد آ رہی ہیں؟ اس کی وجہ بھارت کا رویہ ہے جو اس نے ایران‘ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں پاکستان کے حوالے سے روا رکھا۔ اگر اِس وقت آپ بھارتی قیادت‘ میڈیا یا ماہرین کو سنیں تو آپ کو یقین آ جاتا ہے کہ حسد کتنی خوفناک چیز ہے۔ اس جنگ میں امریکی بمباری سے ہزاروں معصوم لوگ مارے گئے اور جنگ پھیلتی جا رہی تھی۔ خلیجی ریاستوں میں لاکھوں پاکستانی کام کرتے ہیں جن کے بھیجے ہوئے اربوں ڈالر پاکستان کیلئے لائف لائن ہیں۔ ہمارے ایران سمیت ان سب ممالک سے اچھے تعلقات ہیں۔ پوری دنیا اس جنگ کو نظر انداز کر سکتی ہے لیکن پاکستان نہیں کر سکتا۔ یہ جنگ پاکستان کو بھی لپیٹ میں لے سکتی تھی اور ممکن ہے اگلے مرحلے پر بھارت کو بھی متاثر کرتی۔ لہٰذا پاکستان کی اس جنگ کو روکنے کی کوششیں کرنا ایک فطری اور مثبت عمل تھا‘ جس کی اب پوری دنیا تعریف کر رہی ہے۔ پاکستانی شہریوں کو اپنے پاکستانی ہونے پر فخر محسوس ہو رہا ہے‘ ورنہ عمر بھر پاکستان نے عالمی انکوائریاں اور پیشیاں ہی بھگتی ہیں‘ کہیں پٹاخا بھی پھٹا تو چارج شیٹ ہمیں ہی دی گئی۔ ساری عمر ملزم بن کر گزار دی‘ اور اب خدا نے عزت کمانے کا موقع دیا ہے جس پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ لیکن بھارت جس طرح جلن اور حسد کا شکار ہوا ہے وہ حیران کن ہے۔ بھارت کا واویلا دیکھ کر یقین ہی نہیں آتا کہ دشمنی‘ بغض اور نفرت انسان یا ملکوں کو اس سطح تک لے جا سکتی ہے کہ بھلے پوری دنیا تباہ ہو جائے لیکن پاکستان کو کریڈٹ نہ ملے۔
پوری دنیا جنگ سے متاثر ہو رہی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت بھی شدید متاثر ہوا‘ جہاں توانائی کی ضروریات آبادی کی وجہ سے بہت زیادہ ہیں اور وہاں پٹرول پمپس پر ہنگامے بھی شروع ہو چکے ہیں۔ بھارت کو اس امن کا سب سے زیادہ فائدہ ہو گا لیکن وہ اپنے ڈیڑھ ارب عوام اور معیشت کے فائدے سے زیادہ اس بات کی فکر میں ہے کہ چاہے ہماری دیوار گر جائے‘ مگر پاکستان کے صحن میں گرے تاکہ ملبہ وہ صاف کرتے رہیں۔ حسد کی تکلیف کا اندازہ کرنا ہو تو بھارتی قیادت اور میڈیا کو دیکھیں اور سبق سیکھیں کہ حسد کتنی خطرناک جبلت ہے‘ جس سے انسان سب کچھ بھلا کر اپنا ہی نقصان کرنے پر تل جاتا ہے۔ اس وقت بھارت کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ صرف انسان ہی حسد نہیں کرتے بلکہ اپنے آپ کو وِشوا گرو سمجھنے والے بھی پاکستان سے حسد کر سکتے ہیں‘ خواہ ان کے فارن ریزروز سات سو ارب ڈالر کیوں نہ ہوں اور پاکستان قرض کیلئے کوشاں ہو۔ حسد کا مرض کسی بھی وقت کسی کو بھی ہو سکتا ہے‘ بس خدا آپ کو ذرا سی عزت عطا کر دے۔