لیڈی سکول ٹیچرز کے فوکل پرسن پرہراسانی کے سنگین الزامات

لیڈی سکول ٹیچرز کے فوکل پرسن پرہراسانی کے سنگین الزامات

اچانک تیز رفتار گاڑی سکول میں داخل ، تذلیل ،غیر مناسب الفاظ کا استعمال کیاٹیچر کی درخواست پرڈی ای او سیکنڈری کی کارروائی کیلئے سی ای اوسے سفارش

مظفرگڑھ(سٹی رپورٹر)مظفرگڑھ میں سرکاری سکول کی خواتین ٹیچرز نے صوبائی وزیر تعلیم کے ذاتی لیٹر پیڈ کے ذریعے فوکل پرسن نامزد ہونے والے شخص پر ہراسانی کے الزامات عائد کردئیے ،خواتین ٹیچرز کا کہنا تھا کہ فوکل پرسن نے اپنی گاڑی تیزرفتاری سے زبردستی گرلز سکول میں داخل کی جس سے طالبات اور خواتین اساتذہ کو نقصان پہنچ سکتا تھا،بعدازاں گاؤن نہ پہننے پر سکول کی ہیڈمسٹریس اور خواتین ٹیچرز کو نہ صرف ہراساں کیا بلکہ انکی تذلیل بھی کی،خواتین ٹیچرز کے الزامات پر محکمہ تعلیم نے معاملے کی تحقیقات شروع کردیں۔ خواتین ٹیچرز نے ڈی ای او سیکنڈری کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ مذکورہ فوکل پرسن 23 اپریل کو سکول کے سرپرائز وزٹ پر آئے اور تیز رفتاری سے اپنی گاڑی سکول کے اندر داخل کر دی جس سے طالبات اور عملے کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔گارڈ نے بتایا کہ اس روز سکول میں کوئی امتحانی سرگرمی نہیں ہو رہی تھی، اس کے باوجود گاڑی اندر لائی گئی، کچھ اساتذہ نے اس موقع پر گاؤن نہیں پہن رکھا تھا جس پر فوکل پرسن نے مبینہ طور پر ان کی تذلیل کی اور غیر مناسب الفاظ استعمال کیے ، انہیں مختلف مواقع پر ہراساں کیا گیا اور سکول کے لاگ بک میں منفی ریمارکس درج کیے گئے ۔ فوکل پرسن رانا عارف جاوید نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا سکول میں امتحانی سنٹر کے دوران نقل کا مواد ملا تھا جس پر پوچھ گچھ کی، انہیں سکول میں گاڑی داخل کرنے سے نہیں روکا جا سکتا اور عملے کو نظم و ضبط کا پابند کیا گیا تھا۔ادھر ڈی ای او سیکنڈری ایجوکیشن نعیم لغاری کا کہنا ہے کہ خواتین ٹیچرز کی درخواست پر کارروائی کے لیے سی ای او ایجوکیشن سے سفارش کی ہے جبکہ سی ای او ایجوکیشن نزہت پروین نے اس معاملے پر تاحال سرکاری طور پر کوئی مؤقف نہیں دیا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں