حفاظتی آڈٹ : نجی سکولوں و ٹیوشن سنٹرز کی 25 فیصد عمارتیں خستہ حال قرار

حفاظتی آڈٹ  : نجی سکولوں  و ٹیوشن  سنٹرز کی 25 فیصد عمارتیں خستہ حال قرار

متعددعمارتوں کی چھتیں سرکنڈوں، لکڑی اور مٹی سے تعمیر شدہ یا انتہائی کمزور حالت میں پائی گئیں،80فیصد غیر رجسٹرڈ، ایک بھی ٹیوشن سنٹر رجسٹرڈ نہ نکلا،ابتدائی سروے ، معائنہ جاری

ملتان (شاہد لودھی سے )ملتان میں نجی سکولوں اور ٹیوشن سنٹرز کا حفاظتی آڈٹ شروع، 25 فیصد سکولوں کی عمارتیں مخدوش، 80 فیصد غیر رجسٹرڈ، ایک بھی ٹیوشن سنٹر رجسٹرڈ نہ نکلا۔ تفصیل کے مطابق پنجاب حکومت کی ہدایت سرکاری و نجی تعلیمی اداروں اور ٹیوشن سنٹرز کا جامع حفاظتی آڈٹ شروع کر دیا گیا ہے ۔ ابتدائی سروے میں کئی تشویشناک حقائق سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق ضلع بھر کے تقریباً 25 فیصد سکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں، جن میں متعدد کی چھتیں سرکنڈوں، لکڑی اور مٹی سے تعمیر شدہ یا انتہائی کمزور حالت میں پائی گئی ہیں، جبکہ تقریباً 80 فیصد نجی سکول محکمہ تعلیم کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ مزید حیران کن انکشاف یہ ہوا ہے کہ ضلع میں قائم کوئی بھی نجی ٹیوشن سنٹر باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ نہیں۔ذرائع کے مطابق محکمہ سکولز کی ٹیمیں مختلف علاقوں میں سکولوں اور ٹیوشن سنٹرز کا مرحلہ وار معائنہ کر رہی ہیں۔ آڈٹ کے دوران عمارتوں کی مضبوطی، ہنگامی اخراج کے راستے ، آگ سے بچاؤ کے انتظامات، بجلی کی وائرنگ، گیس اور دیگر حفاظتی سہولیات کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے قبل حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں ابتدائی رپورٹ کے مطابق متعدد سکول ایسے بھی سامنے آئے ہیں جہاں کلاس رومز کی چھتیں بوسیدہ ہیں، بارش کے دوران پانی ٹپکنے کی شکایات عام ہیں اور بعض عمارتیں کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتی ہیں کئی سکولوں میں حفاظتی دیواریں، فائر فائٹنگ آلات، ایمرجنسی ایگزٹ اور فرسٹ ایڈ کی سہولیات بھی موجود نہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان عمارتوں کی مضبوطی، آگ سے بچاؤ، ہنگامی اخراج اور دیگر حفاظتی انتظامات کی جانچ کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ حفاظتی آڈٹ مکمل ہونے کے بعد تمام تعلیمی اداروں کو خطرے کی نوعیت کے مطابق درجہ بندی کی جائے گی ۔مخدوش عمارتوں کی فوری مرمت، ناقابل استعمال کمروں کی بندش، غیر محفوظ سکولوں میں تدریسی سرگرمیوں کی منتقلی اور غیر رجسٹرڈ اداروں کی رجسٹریشن کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ طلبہ اور اساتذہ کو محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں