رجسٹری برانچ میں 1 ارب 86 کروڑ کی کرپشن

رجسٹری برانچ میں 1 ارب 86 کروڑ کی کرپشن

گریڈ17کے سابق سب رجسٹرارز کیخلاف تحقیقات کیلئے خصوصی انکوائری کمیشن تشکیل دے دیا گیا،سابق سب رجسٹرارز کے معاملات کی تفصیلی جانچ کرے گاذمہ داروںاور سرکاری خزانے کے نقصان کا تعین کرنے کیلئے ای رجسٹریشن سسٹم اور دستی رجسٹریوں کی مکمل چھان بین کی جائے گی ،کمیشن سفارشات مجاز حکام کو پیش کرے گا،رپورٹ

ملتان (لیڈی رپورٹر)رجسٹری برانچ میں مبینہ میگا کرپشن سیکنڈل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ۔ کمشنر ملتان عامر کریم خان کی نشاندہی پر شروع ہونے والی تحقیقات کے دوران ایک ارب 86 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں اور شارٹ ریکوری کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد گریڈ 17 کے سابق سب رجسٹرارز کے خلاف تحقیقات کے لیے خصوصی انکوائری کمیشن تشکیل دے دیا گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق انکوائری افسر عائشہ ممتاز کی سفارش پر مجاز اتھارٹی نے خصوصی کمیشن قائم کیا ہے جو سابق سب رجسٹرارز کے معاملات کی تفصیلی جانچ کرے گا۔ کمیشن ہزاروں رجسٹریوں، جعلی کمپیوٹرائزڈ پے پرمٹ رسیدوں (سی پی آرز)، ایف بی آر کی رسیدوں، اسٹامپ ڈیوٹی، دیگر سرکاری واجبات اور مالی ریکارڈ کا جامع آڈٹ بھی کرے گا۔رپورٹ کے مطابق ای رجسٹریشن سسٹم اور دستی رجسٹریوں کی مکمل چھان بین کی جائے گی تاکہ مالی بے ضابطگیوں کی نوعیت، ذمہ داران اور سرکاری خزانے کو ہونے والے نقصان کا تعین کیا جا سکے ۔ خصوصی کمیشن اپنی سفارشات پر مشتمل رپورٹ مجاز حکام کو پیش کرے گا۔دریں اثنا سابق تحصیلدار و سب رجسٹرار کو محکمانہ کارروائی کے بعد ملازمت سے برطرف کیا جا چکا ہے جبکہ ان سے 8 کروڑ 16 لاکھ 99 ہزار 853 روپے کی ریکوری اور ان کے خلاف اینٹی کرپشن کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے ۔ادھر اے ڈی سی آر ملتان نے سابق سب رجسٹرار کینٹ کے معاملات پر بھی کارروائی تیز کر دی ہے ۔ آڈٹ اعتراضات میں ایک ارب 78 کروڑ 26 لاکھ 80 ہزار 863 روپے کی شارٹ ریکوری کی نشاندہی کی گئی ہے ، جبکہ متعلقہ سابق سب رجسٹرارز سے ریکارڈ، وضاحت اور ریکوری سے متعلق پیش رفت کی تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں