زرعی مصنوعات کی عالمی رسائی یقینی بنائی جائے ،ایف اے او

زرعی مصنوعات کی عالمی رسائی یقینی بنائی جائے ،ایف اے او

آم کے کاشتکاروں کی استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے ، ڈاکٹر آصف علی

ملتان (لیڈی رپورٹر)ایوانِ تجارت و صنعت ملتان میں وزارتِ تجارت، حکومتِ پاکستان کے زیر اہتمام اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے اشتراک سے جغرافیائی اشاریوں (جی آئی)اور مجاز صارفین کی رجسٹریشن کے حوالے سے آگاہی و استعداد کار میں اضافے کا سیشن منعقد ہوا۔ اس موقع پر زرعی مصنوعات کی شناخت، معیار، برآمدات کے فروغ اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایف اے او پنجاب آفس کی نمائندہ نوئیلا کامویندو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب اپنے زرعی ورثے اور آم کی منفرد اقسام کے باعث دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ جغرافیائی اشاریوں کے ذریعے چونسہ آم جیسی مصنوعات کی شناخت اور شہرت کو ان کے مخصوص علاقے سے منسلک کرکے صارفین کا اعتماد بڑھانے اور عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس نظام کے مؤثر نفاذ کیلئے یکساں معیار، شفاف نگرانی، مصنوعات کی تیاری و ترسیل کا قابلِ سراغ ریکارڈ اور مجاز صارفین کی رجسٹریشن ضروری ہے۔ ایم این ایس یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان کے وائس چانسلر ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ پاکستان میں متعدد منفرد زرعی مصنوعات موجود ہیں جنہیں جغرافیائی اشاریوں کے ذریعے عالمی سطح پر متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ ان میں سرگودھا کا کینو، سوات اور مینگورہ کے چلغوزے ، ملتان کا چونسہ آم، سندھ کا سندھڑی آم اور چولستان و بہاولپور کی علاقائی مصنوعات شامل ہیں۔ انہوں نے آم کے کاشتکاروں کی استعداد بڑھانے ، برآمدات کے فروغ، مارکیٹ روابط مضبوط بنانے اور کاشتکاروں کی تربیت پر زور دیا۔ انہوں نے جغرافیائی اشاریوں سے متعلق آگاہی کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے اور ‘‘ون کنٹری، ون پراڈکٹ’’ کے تصور کے تحت پاکستانی مصنوعات کی عالمی شناخت مستحکم کرنے کی تجویز بھی دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...