موسمی تبدیلی کے تناظر میں زرعی تحقیق مؤثر بنانے پر زور
موسمی تبدیلی کے تناظر میں زرعی تحقیق مؤثر بنانے پر زورکیڑوں کے بروقت تدارک اور جدید ٹیکنالوجی اپنانے کی ضرورت: ماہرین
فیصل آباد (خصوصی رپورٹر)بدلتے موسمی حالات میں فوڈ سکیورٹی کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کا بروقت اور مؤثر تدارک ناگزیر قرار دیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے شعبہ حشرات کے سالانہ خریف ریسرچ پروگرام 2026-27 کی منظوری کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت چیف سائنٹسٹ زراعت (ریسرچ) پنجاب ڈاکٹر ساجد الرحمن نے کی، جبکہ مختلف تحقیقی اداروں کے زرعی ماہرین، سائنسدانوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
ڈاکٹر ساجد الرحمن نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں زرعی تحقیق میں جدت اور جدید پیداواری ٹیکنالوجیز کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ انہوں نے فصلوں کے ضرر رساں کیڑوں کے مربوط طریقہ انسداد (Integrated Pest Management - IPM) کو ایک مؤثر اور ماحول دوست حکمت عملی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں احتیاطی تدابیر، حیاتیاتی کنٹرول اور ضرورت کے مطابق محدود کیمیائی زہروں کا استعمال شامل ہوتا ہے ۔ انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر پر بھی زور دیا کہ نئی کیمسٹری کی حامل زرعی ادویات کی تیاری اور تعارف کو تیز کیا جائے تاکہ ملکی فوڈ سکیورٹی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔