محکمہ جنگلات میں مبینہ کرپشن نے شفافیت کا پول کھول دیا

محکمہ جنگلات میں مبینہ کرپشن نے شفافیت کا پول کھول دیا

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) محکمہ جنگلات میں مبینہ کرپشن کے دو بڑے معاملات نے حکومتی میرٹ پالیسی اور شفافیت کا پول کھول دیا۔

سابق افسر کو شکایت پر کلین چٹ، بھلوال میں کروڑوں کی سرکاری لکڑی چوری کے مقدمات بھی بے نتیجہ، بااثر افسران و ٹھیکیداروں کو مبینہ ریلیف دینے پر تحقیقات کی غیر جانبداری مشکوک ہوگئی،تفصیل کے مطابق سرکاری جنگلات کی حفاظت پر مامور محکمہ ہی مبینہ بے ضابطگیوں اور کارروائیوں میں دوہرے معیار کے الزامات کی زد میں آگیا، ایک طرف سابق افسر اسیم اظہر نقوی کیخلاف مبینہ غیر قانونی اثاثوں اور محکمانہ بے ضابطگیوں کی شکایت پر مکمل چھان بین کیے بغیر اعتراضات کی بنیاد پر معاملہ داخل دفتر کرنے کی سفارش کردی گئی۔

 جبکہ دوسری طرف چند ماہ قبل بھلوال کے علاقے میں ٹھیکیدار اور جنگلات افسران کی مبینہ ملی بھگت سے ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کے سرکاری درختوں کی چوری کے معاملے میں مقدمہ درج ہونے کے باوجود کارروائی آگے نہ بڑھ سکی، ذرائع کے مطابق کنزرویٹر فاریسٹ سرگودھا سرکل نے ڈپٹی کمشنر کو جمع کرائے گئے تحریری جواب میں سابق افسر کے خلاف شکایت کو یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے مسترد کرنے کی سفارش کی کہ شجرکاری، ادائیگیوں کی تیاری و منظوری، مرمت و بحالی اور ورک چارج و ڈیلی ویجز ملازمین سے متعلق امور کنزرویٹر کے بجائے ڈی ایف او کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...