ماحولیاتی آلودگی کے خدشات، حکومتی ایس او پیز پر عملدر آمد مصلحتوں کی نذر ہوگیا

ماحولیاتی آلودگی کے خدشات، حکومتی ایس او پیز پر عملدر آمد مصلحتوں کی نذر ہوگیا

کینو کی امپورٹ، ایکسپورٹ، دھلائی، پالشنگ اور فنشنگ سے وابستہ 102 فیکٹریوں سمیت 3 شوگر ملز اور 4 جوس فیکٹریوں کا حکومتی گائیڈ لائنز پر تاحال مکمل عملدرآمد نہ ہوسکا

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) ضلع بھر میں قائم بڑی فیکٹریوں سے ماحولیاتی آلودگی کے خدشات کے باوجود حکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد کا معاملہ سیاسی وابستگیوں اور مبینہ مصلحتوں کی نذر ہونے کا انکشاف، کینو کی امپورٹ، ایکسپورٹ، دھلائی، پالشنگ اور فنشنگ سے وابستہ 102فیکٹریوں سمیت 3 شوگر ملز اور 4جوس فیکٹریوں کو آلودگی پر قابو پانے کیلئے جاری حکومتی گائیڈ لائنز پر تاحال مکمل عملدرآمد نہ ہوسکا، جبکہ کینو اور گنے کا کرشنگ سیزن سر پر آنے سے صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے ۔ ذرائع کے مطابق سال رواں کے آغاز پر مذکورہ فیکٹریوں کو قانونی دائرہ کار میں لاتے ہوئے ری سائیکل سسٹم پر نظرثانی، صنعتی فضلے کے مناسب اخراج اور آبی و فضائی آلودگی پھیلانے والی دیگر وجوہات پر قابو پانے کیلئے واضح گائیڈ لائنز جاری کی گئی تھیں، تاہم مقررہ اقدامات پر عملدرآمد کی رفتار انتہائی سست قرار دی جارہی ہے ۔

فیکٹریوں کے بوائلرز سے خارج ہونے والا دھواں فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے جبکہ کینو سمیت پھلوں پر موجود زرعی سپرے اور کیمیکل دھلائی کے دوران خارج ہونے والا آلودہ پانی ماحولیاتی آلودگی کے خدشات بڑھا رہا ہے ، اس کے باوجود متعلقہ اداروں کی جانب سے ایس او پیز پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کا معاملہ بدستور التوا کا شکار ہے ۔ نومبر، دسمبر میں کینو اور گنے کا کرشنگ سیزن شروع ہونے سے قبل حکومتی گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کی ڈیڈ لائن بھی قریب آچکی ہے ، مگر صنعتی یونٹس میں مطلوبہ ماحولیاتی اقدامات مکمل نہ ہونے سے آئندہ سیزن کے دوران آبی اور فضائی آلودگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...