گاڑیوں کے پٹرول میں سنگین بےضابطگیوں کی تحقیقات ڈیڑھ سال بعد بھی مکمل نہ ہوسکی
گاڑیوں کے پٹرول میں سنگین بےضابطگیوں کی تحقیقات ڈیڑھ سال بعد بھی مکمل نہ ہوسکی اخراجات زیادہ حقیقی پٹر ول کا استعمال نسبتاً کم ظاہر کیا جاتا ،ریکارڈ میں مبینہ فرق کے باعث قومی خزانے کو ماہانہ لاکھوں اور سالانہ کروڑوں روپے نقصان پہنچ رہا
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سرگودھا میں موٹر وہیکل ایگزامنیر کی مبینہ ملی بھگت سے مختلف سرکاری محکموں کی گاڑیوں کے پٹرول اخراجات میں سنگین بے ضابطگیوں کے حوالے سے شروع کی گئی تحقیقات ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں جبکہ سرکاری گاڑیوں کے حقیقی پٹرول استعمال اور کاغذی ریکارڈ میں مبینہ فرق کے باعث قومی خزانے کو ماہانہ لاکھوں اور سالانہ کروڑوں روپے نقصان پہنچ رہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق سپیشل ایجوکیشن، ایجوکیشن اتھارٹی، ہیلتھ اتھارٹی، لوکل گورنمنٹ، بلڈنگز، ہائی وے سمیت مختلف سرکاری محکموں اور بلدیاتی اداروں کے افسران کے زیر استعمال گاڑیوں کے علاوہ خصوصی بچوں کو پک اینڈ ڈراپ فراہم کرنے والی کوسٹرز اور وینز کی فی لیٹر پٹرول اوسط معلوم کرنے کیلئے موٹر وہیکل ایگزامنیر سے معائنہ کروا کر سرٹیفکیٹ حاصل کیا جاتا ہے ، تاہم مبینہ طور پر بعض ڈرائیوروں اور ایم وی ای عملے کی ملی بھگت سے گاڑیوں کی فی لیٹر اوسط اور پیٹرول کی کھپت اصل ضرورت سے 50 فیصد تک زیادہ ظاہر کی جاتی ہے ، جس کی بنیاد پر اضافی پیٹرول کے اخراجات کی رسیدیں بننے کا الزام ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مبینہ طریقہ کار کے ذریعے ایسی گاڑیوں کے اخراجات بھی زیادہ ظاہر کیے جاتے ہیں جن کا حقیقی پیٹرول استعمال نسبتاً کم ہے جبکہ ادائیگیوں اور فیول ریکارڈ کی مؤثر جانچ پڑتال نہ ہونے سے سرکاری وسائل پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے ۔سرکاری گاڑیوں کے پیٹرول اخراجات میں مبینہ اضافے کی مالی اہمیت معمولی نہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments