18 کروڑ کا بھلوال روڈ اور سیوریج کا منصوبہ غائب
ہری پورہ مچھلی منڈی ،اسلام پورہ ،ملت آباد اور گل والا کی آبادیوں کے مکین بدستور نکاسی آب کے عذاب میں مبتلا،منصوبہ کی افادیت بھی داؤ پر لگنے کا اندیشہمنصوبہ بندی میں سڑک کے اطراف آباد درجنوں آبادیوں اور کاروباری مراکز کے بنیادی مسئلے ، سیوریج اور نکاسی آب کو نظر انداز کیے جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا
سرگودھا(سٹاف رپورٹر ) 18 کروڑ کا بھلوال روڈ منصوبہ، سیوریج کا مستقل حل غائب، سڑک بننے سے پہلے ہی شہریوں کے مسائل نظر انداز، ہری پورہ مچھلی منڈی ،اسلام پورہ ،ملت آباد اور گل والا کی آبادیوں کے مکین بدستور نکاسی آب کے عذاب میں مبتلا،منصوبہ کی افادیت بھی داؤ پر لگنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا،تفصیل کے مطابق سرگودھا میں 18 کروڑ روپے کی ابتدائی تخمینہ لاگت سے ہری پور پھاٹک سے گل والا کے راستے 33 پھاٹک تک بھلوال روڈ کی تعمیر کا کام تو شروع کر دیا گیا، مگر منصوبہ بندی میں سڑک کے اطراف آباد درجنوں آبادیوں اور کاروباری مراکز کے بنیادی مسئلے ، یعنی سیوریج اور نکاسی آب، کو نظر انداز کیے جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے سڑک تعمیر کرنے کی تیاری ہے ، لیکن اس کے ساتھ موجود آبادیوں کو گندے پانی سے نجات دلانے کے لیے کوئی واضح اور جامع حکمت عملی سامنے نہیں آ سکی۔ ہری پورہ میں مچھلی منڈی سیوریج کے مناسب انتظام سے محروم ہے ، جہاں نکاسی آب کی ناقص صورتحال کے باعث کاروباری افراد اور شہری طویل عرصے سے مشکلات برداشت کر رہے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ منڈی کی منتقلی کے لیے بھی عرصہ دراز سے کوششیں جاری ہیں، مگر مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے ۔ دوسری طرف گل والا اور ملحقہ آبادیوں کے مکین سیوریج کے مسائل پر متعدد بار احتجاج کر چکے ہیں، لیکن متعلقہ ادارے تاحال انہیں مستقل ریلیف فراہم نہیں کر سکے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments