پہاڑی جنگلوں میں رات کی آسیبی دلکش اور پُرہیبت ہوتی ہے۔ ان دونوں کے ساتھ تیز دریا‘ تند ہوا اور گرتی بارش کا شور بھی شامل کر لیں۔ میں رات کا کھانا کھا کر کمرے میں واپس آ چکا تھا۔ نیند آنکھوں سے دور تھی اور ایک اجنبی جگہ پر ایک اجنبی کے سینے پر پائوں دھرتی رات قدم قدم اور لمحہ لمحہ گزر رہی تھی۔ کھلے دریچے سے آتی خنک ہوا اچھی لگ رہی تھی۔ نیند ابھی کہیں دور تھی لیکن اچھی اور پُرسکون نیند اس لیے بھی ضروری تھی کہ اگلی صبح اس علاقے میں گھومنے پھرنے کیلئے میرا تازہ دم ہونا لازمی تھا۔
ترکی کے کوجا ایلی (Kocaeli) صوبے کے ضلع کرتے پے (Kartepe) میں الا بالک وادی کا یہ گائوںسامانلی پہاڑ کے دامن اور ڈھلوانوں پر بسی ہوئی ایک چھوٹی سی بستی ہے۔ ساپانجا جھیل اور معشوقیے شہر 20 کلومیٹر نیچے میدان میں ہیں۔ دریا‘ گھنے پہاڑی جنگلات‘ ندیوں‘ 20 سے زائد چھوٹی آبشاروں اور پھلدار درختوں کی بہتات نے اس بستی کو غیر معمولی قدرتی خوبصورتی عطا کر رکھی ہے۔ بڑے شہروں سے دور خالص ہوا اور خوشگوار موسم اس حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔ استنبول سے قریب‘ یعنی تین گھنٹے کی مسافت پر ہونا بھی سیاحوں کیلئے کشش کی ایک بڑی وجہ ہے۔ تاریخی طور پر یہ کاکیشین مہاجروں کا بسایا ہوا گائوں تھا جو مراد بے کی قیادت میں 1864ء میں آباد ہوا۔ پہاڑی بستی ہونے کی وجہ سے یہاں سردی بھی بہت ہوتی ہے اور برف بھی کافی پڑتی ہے۔ سردیوں میں درجہ حرارت صفر سے نیچے جبکہ گرمیوں میں عام طور پر 15 سے 20 ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ ترک حکومت نے اسے پُرکشش سیاحتی مقام بنانے کیلئے کافی اقدامات کیے ہیں۔ یہاں زپ لائن بنائی گئی ہے‘ قریب ہی ایک جنگلی حیات کا پارک بنایا گیا ہے۔ ٹرامپولین (Trampoline) اور دیگر کھیلوں کا انتظام بھی ہے اور قریبی پہاڑوں پر 40 منٹ کا ایک ٹور بھی ہوتا ہے۔ پہاڑی چوٹی پر شیشے کا ایک ٹیرس بھی بنایا گیا ہے۔ ہائیکنگ وغیرہ کا انتظام ہے اور ایڈونچر پسند سیاحو ں کیلئے کئی دلچسپیاں موجود ہیں۔ لیکن ان سبھی کا تعلق گرمیوں سے ہے۔ برفانی موسم میں یہ بستی برف اوڑھ کر چھ ماہ کی نیند سو جاتی ہے۔ سب معلومات کے بعد میں فیصلہ کر چکا تھا کہ مجھے اگلے دن کہاں جانا ہے۔
اگلی صبح سورج کی کھلکھلاتی کرنیں دریچے سے اندر داخل ہوئیں۔ کئی دن کی بارشوں کے بعد ایک شفاف اور جگمگاتی صبح دیکھنا اچھا لگ رہا تھا۔ میں تیار ہو کر ناشتے کیلئے ہال میں آیا جہاں روایتی ترک ناشتہ میرا منتظر تھا ۔برصغیر میں ناشتے میں کھیرے‘ ککڑی‘ ٹماٹر‘ لیموں‘ سلاد وغیرہ کا تصور ہی نہیں لیکن روایتی ترک ناشتے کے یہ اہم جزو ہیں۔ سبز اور سیاہ زیتون‘ مکھن‘ پنیر‘ شہد‘ ڈبل روٹی‘ آپ کی پسند کے مطابق آملیٹ‘ ابلے ہوئے یا تلے ہوئے انڈے بھی ساتھ ہوتے ہیں۔ جس چیز نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی وہ ترک چائے کا میز پر سجا ہوا بندوبست تھا۔ میں نے اس کے بارے میں پہلے بھی سنا تھا لیکن دیکھنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ میز پر چائے کا یہ سیٹ چاندی کے رنگ کے تین حصوں پر مشتمل تھا۔ نیچے ایک خوبصورت انگیٹھی‘ جس میں آگ جلتی تھی لیکن انگارے باہر نہیں آ سکتے تھے۔ اس کے اوپر اسی سائز کا ایک جگ جس میں پانی ابل رہا تھا اور ا س کے اوپر عنابی ترک چائے کی کیتلی جس میں گرم چائے لبالب بھری تھی۔ انگیٹھی اور ابلتا پانی مل کر چائے مسلسل گرم رکھتے ہیں۔ آپ کیتلی اٹھائیں اور شیشے کے فنجان میں چائے انڈیل کر کیتلی دوبارہ ابلتے پانی پر رکھ دیں۔ جتنی بار چاہیے‘ چائے گرم ہی ملے گی۔ میں نے حسنِ ذوق کو داد دی۔ کیسا اچھا‘ عملی اور آسان طریقہ تھا۔ کیا یہ ہمارے ہاں نہیں اپنایا جاسکتا؟ شاید کبھی کسی کو اس کا خیال آئے اور اس کا چلن برصغیر میں بھی ہو جائے۔ایک گھنٹے کے بعد میں مقامی ڈرائیور کے ساتھ سرسبز درختوں سے ڈھکے پہاڑی راستے پر اُس پہاڑی چوٹی کی طرف جا رہا تھا جہاں شیشے کا ٹیرس ہے اور جس کی خوبصورت تصویریں میں پہلے دیکھ چکا تھا۔ ایک پہاڑی لومڑی دائیں طرف کی جھاڑیوں سے نمودار ہوئی‘ ایک لمحہ ٹھٹک کر رکی اور پھر تیزی سے سڑک پار کرتی ہوئی دوسری طرف چلی گئی۔ اس علاقے میں کالا ریچھ‘ بھیڑیے‘ گیدڑ اور لومڑیوں سمیت بہت سی جنگلی حیات موجود ہیں اور سردیوں میں یہ جانور نیچے اترتے ہوئے شہروں اور بستیوں تک آ جاتے ہیں۔
پہاڑی چڑھائی ہو یا اترائی‘ میرے لیے گاڑی کا سفر ہمیشہ صبر آزما ہوتا ہے۔ بچپن سے میرا مسئلہ ہے کہ پہاڑی چکراتے راستوں پر سر چکرانے لگتا ہے اور متلی کی کیفیت شروع ہو جاتی ہے۔ اگر پیٹ بھرا ہو تو مسئلہ دُگنا ہو جاتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ میں خود ڈرائیو کر رہا ہوں تو یہ کیفیت بہت کم ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ گلاس ٹیرس قریب 20 منٹ کے فاصلے پر تھا۔ ہم وہاں پہنچے اور یہ میرے تصور سے الگ جگہ نکلی۔ ایک کھلی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کر کے ہم سیڑھیاں چڑھے۔ ٹکٹ خریدا اور پندرہ بیس سیڑھیاں مزید چڑھ کر ایک راستے پر آ گئے جہاں دائیں بائیں دکانیں تھیں۔ ان صاف ستھری خوبصورت دکانوں میں چائے‘ برگر‘ کھانا‘ کافی‘ سووینیئرز‘ سب موجود تھے۔ ایک طرف واش رومز تھے۔ اس راستے سے اوپر پھر سیڑھیاں تھیں۔ میں اوپر پہنچا‘ ایک قدم بڑھایا اور میں گلاس ٹیرس پر تھا۔ ایک بہت بڑا ٹیرس‘ جس کے دو تین لیول اور حصے تھے۔ کئی سیاح پہلے سے موجود تھے۔ ہم پہاڑی چوٹیوں کے برابر بلندی پر تھے۔ چاروں طرف ٹیرس کی ریلنگ کے پار نیچے گہری کھائیوں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ جس پہاڑی چوٹی پر ہم تھے وہاں کے تمام درخت بھی نیچے دکھائی دیتے تھے۔ معلوم نہیں یہ ٹیرس اس بلندی پر کس طرح بنایا گیا تھا۔ بظاہر مصنوعی سہاروں کے ذریعے کانچ کا یہ چبوترہ ہوا میں معلق تھا۔ اوپر آسمان‘ سامنے جنگلوں سے ڈھکی پہاڑی چوٹیاں‘ نیچے حد نظر تک صرف خلا۔ اس ٹیرس کا فرش مضبوط شیشے کا تھا۔ سورج نے اپنی ترچھی کرنوں سے پورا منظر جگمگا رکھا تھا۔ ہم ہوا میں معلق اس چبوترے پر تصویریں بناتے‘ کافی پیتے‘ چلتے پھرتے رہے۔ یہ لمحے کمیاب تھے اور جلد ختم ہونے والے بھی۔ کوشش تھی کہ اس وقت کو آنکھوں کے ذریعے دل میں اتار کر ہمیشہ کیلئے محفوظ کر لیں۔ ہمارے نیچے بھی بادل تھے اور سامنے پہاڑوں کی گھاٹیوں سے بھی بادل اٹھتے نظر آتے تھے۔ ابھی گیارہ بجے کا وقت تھا لیکن کبھی کبھی یہ بادل سورج کے چہرے پر نقاب ڈال کر شام کا ملگجا رنگ اور جھٹپٹا منظر پیدا کر دیتے تھے۔ دھوپ چھائوں کا یہ کھیل جاری تھا۔ پہاڑوں اور وادیوں میں پرچھائیاں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتیں اور کبھی کھیل یکدم ختم ہو جاتا۔ چاروں طرف پہاڑ‘ لیکن ایک سمت میں ایک درہ تھا جس کے پار میدان میں دور نیچے‘ شہر اور اس کے قریب ساپانجا جھیل کا نیلا پانی جھلملاتا تھا۔ میں ٹیرس پر اس درے کی طرف چلا گیا۔ درے کے پار وادی میں دھوپ چمکتی تھی اور گھروں کی سرخ چھتیں روشن تھیں۔ یہ اس گلاس ٹیرس کا سب سے خوبصورت منظر تھا جسے کوئی وڈیو‘ کوئی تصویر قید نہیں کر سکتی تھی۔ میں نے دور نیلی جھیل اور اس کے قریب شہر کو دیکھا۔ ساپانجا! میں تیرے اور تیری وادیوں کے حسن کی تلاش میں یہاں آیا ہوا ہوں۔ میں لاہور میں رہ کر تیرے خواب دیکھتا تھا اور اب تیرے پاس ہوں تو مجھے لاہور ایک خواب کی طرح یاد آ رہا ہے۔ انسانی فطرت کو نہ کسی راستے پر قرار‘ نہ کسی مقام پر سکون ہوتا ہے۔ مجھے دو دن بعد ان پہاڑوں سے اترنا ہے‘ تیرے پہلو میں پہنچنا ہے اور پھر وہاں سے استنبول۔ گلاس ٹیرس سے نہ استنبول نظر آ رہا ہے نہ ہزاروں میل دور فاصلے پر میرا گھر۔ یہ سب فاصلے اور وقت کی دھند کے پار کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ مجھے اسی دھند کی دیوار چیر کر لاہور پہنچنا ہے۔ پتا نہیں اب زندگی کبھی دوبارہ یہ منظر دیکھنے کی مہلت دے گی یا نہیں۔ معشوقیے! تو بہت حسین‘ بہت خوبصورت ہے! لیکن میری زندگی میں کچھ جگہیں تجھ سے بھی زیادہ حسین ہیں۔ تجھے ان کے نام بتائوں؟ میرا لاہور اور میرا گھر۔ (ختم)
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments