27 ستمبر کو فاتح کے تاریخی علاقے‘ استنبول ترکی میں عنابی ترکی چائے کے گرم گھونٹ بھرتے ہوئے میں سامنے گرتی ہوئی موسلا دھار بارش دیکھ رہا تھا۔ سرکے میں بھیگی سلاد‘ ادرنا کباب اور ترکی لسی نے جسم سے دن بھر کی تھکن اتار کر توانائی بحال کر دی تھی اور اب ترکی چائے جسم میں نشے کی طرح رقص کر رہی تھی۔ قریب ہی سلیمان اعظم کی جامع سلیمانی سے عشا کی اذان بلند ہوئی اور بازگشت پھیلتی چلی گئی۔ میں دن بھر مسلسل چلتا اور جسم کے مختلف جوڑوں سے فریادوں کی صدائیں نظر انداز کرتا رہا تھا۔ استنبول پہاڑیوں پر بسا ہوا شہر ہے اور اونچے نیچے راستوں پر اترنا چڑھنا لازمی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ٹھان رکھی تھی کہ اس بار استنبول میں عوامی یعنی پبلک ٹرانسپورٹ ہی سے سفر کرنا ہے۔ ٹرامز‘ بسوں‘ ٹرینوں اور میٹرو کا نظام ترکی میں بہت اچھا ہے اور اگر آپ ایک بار راستے سمجھ لیں‘ پبلک ٹرانسپورٹ کی بنیاد پر اپنا ہوٹل منتخب کر لیں تو یہ سستاہونے کے ساتھ قابلِ عمل بھی ہے۔ مشورہ یہ ہے کہ سیاح کو ترکی جاتے ہی استنبول کارڈ خرید کر اس میں بیلنس ڈال لینا چاہیے۔ یہ استنبول کارڈ فیریز‘ ٹرامز‘ بسوں اور ٹرینوں سب کیلئے کارآمد ہے اور ہر جگہ نصب مشینوں سے خریدا جا سکتا ہے۔ لیکن صرف اس کارڈ سے تمام مسئلے حل نہیں ہو جاتے۔ میں کل کے سفر کے بارے میں پریشان تھا۔ عرصہ دراز سے یہ طریقہ اختیار کیا ہوا ہے کہ کسی ملک کسی بھی سلسلے میں جانا ہو تو گھومنے پھرنے کیلئے چند دن الگ نکالتا ہوں اور ایسا کوئی علاقہ منتخب کرتا ہوں جو پہلے دیکھا ہوا نہ ہو۔ استنبول‘ برصہ‘ بودرم‘ داتچا‘ مرمریس اور بولو‘ یہ سب علاقے ترکی کے گزشتہ سفروں میں دیکھ رکھے تھے اور اس بار ارادہ تھا کہ ساکاریا‘ ساپانجا جھیل‘ معشوقیے وغیرہ کی حسین جگہیں دیکھی جائیں۔ 27 ستمبر کو وہ کانفرنس ختم ہوئی جس کیلئے استنبول گیا تھا تو میں فاتح کے علاقے میں منتقل ہو گیا اور 28 ستمبر کو ساپانجا جھیل کی طرف جانے کا ارادہ تھا۔
دنیا کے سب سے زیادہ سیاحت والے ملکوں میں ترکی چوتھے نمبر پر ہے۔ 2026ء میں 61 ملین بین الاقوامی سیاح ترکی میں سیاحت کے لیے آئے اور ترکی نے تقریبا 57 ارب ڈالر صرف سیاحت سے کمائے ہیں۔ یہ بہت بڑی تعداد اور بہت بڑی رقم ہے۔ استنبول مرکز ہے اس لیے ہوٹل بھی لاتعداد ہیں۔ اس کے باوجود ہوٹلوں میں جگہ نہیں ہے۔ ترکی گزشتہ سالوں میں بہت مہنگا ہو چکا ہے اورچار یا پنج ستارہ جو فیملی کے قیام کیلئے موزوں ہیں‘ 250 سے 400 ڈالرز یومیہ لیتے ہیں۔ تین ستارہ ہوٹل بھی 100 سے 150 ڈالرز کے درمیان ہیں۔ اکیلا آدمی سفر کرے تو 100 ڈالرز یومیہ کا حساب ذہن میں رکھ لے۔ اس سے کم میں اگر ہوٹل ملے تو اگرچہ صاف ستھرا ہوگا اور بنیادی سہولتیں بھی ہوں گی لیکن مسائل بھی ہوں گے۔ ایک بات بہرحال قابلِ تعریف ہے‘ ہوٹل کسی بھی معیار کا ہو‘ صاف ستھرا ہوتا ہے اور بنیادی سہولتیں بھی ملتی ہیں۔ اسی طرح سٹریٹ فوڈ کی طعام گاہیں بھی صاف ستھری ملیں گی۔
28 ستمبر کو مجھے ناشتے کے بعد ساپانجا جھیل کی طرف جانا تھا جو استنبول سے بحر اسود یعنی بلیک سی کی طرف جاتے ہوئے تین گھنٹے کے فاصلے پر تھی۔ پرائیویٹ کار بہت مہنگی پڑتی ہے۔ آسان راستہ مرمرا ٹرین کا ہے۔ بحر مرمرا کے نام پر یہ ٹرین استنبول کے مختلف علاقوں کو جوڑتی ہے۔ مرمرا ٹرین گیبزے (Gebze) تک جاتی ہے۔ گیبزے سے عارفیے تک کیلئے دوسری ٹرین لینی پڑے گی جس کی ٹکٹ پہلے سے بک کرانا پڑتی ہے ورنہ جگہ نہیں ملتی۔ فاتح کے علاقے کے قریب مرمرا کے دو سٹیشن تھے۔ ینی کاپے اور سرکے جی۔ میرے ہوٹل سے یہ دونوں سٹیشن کم از کم تین میل دور تھے‘ یعنی سامان کے ساتھ پیدل جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ٹیکسی ہی لینی پڑے گی۔ اور ترکی کی ٹیکسیاں اور ڈرائیور‘ خدا کی پناہ! ہر قسم کی لوٹ مار ہے۔ ہر سیاح ان کی شکایت کرتا نظر آتا ہے۔ ٹیکسی سے بہت زیادہ تیز میٹر‘ میٹر سے اوپر زبردستی رقم کی وصولی‘ دانستہ لمبے راستوں سے گھما کر لے جانا وغیرہ۔ زبان سے ناواقفیت سونے پر سہاگہ۔ آپ کس طرح اور کتنا جھگڑ سکتے ہیں۔ ترکی میں آن لائن ٹیکسی (Bitaksi) قدرے غنیمت ہے لیکن اس میں بھی سختی سے ہدایت ہے کہ ایپلی کیشن سے زائد رقم ہرگز نہ دیں۔ میرے ساتھ ایک بڑا اور ایک چھوٹا بیگ تھے‘ لیپ ٹاپ اس کے علاوہ۔ اس سامان کے ساتھ میںاگلا سفر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ کوشش تھی کہ میرا ہوٹل یا قریب کا کوئی ہوٹل پانچ دن کیلئے بڑا بیگ رکھ لے لیکن کوئی بھی ہوٹل کسی بھی طرح راضی نہ ہوا۔ مزید یہ کہ 2 اکتوبر کو میری استنبول واپسی کے دن کسی بھی ہوٹل میں ایک رات کیلئے بھی بکنگ نہیں مل سکی۔ اب سارا سامان لے جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ سرکے جی سٹیشن کیلئے بی ٹیکسی منگوائی تو 350 لیرا ریٹ تھا۔ لیکن موصوف نے آتے ہی 500 لیرا طلب کیے۔ وہ کیوں؟ معلوم نہیں! لیکن زبان غیر میں جھگڑا کون کرے اور کتنی دیر کرے جبکہ ٹرین تک پہنچنا بھی ہو۔ خیر 400 لیرا میں معاملہ طے ہوا اور میں سرکے جی سٹیشن پہنچ گیا۔ لیکن سفر کا مشکل مرحلہ یہی تھا۔ تصور کریں کہ ایک ہاتھ میں 23 کلو کا بیگ‘ دوسرے میں سات کلو کا بیگ۔ گلے میں 5 کلو کا لیپ ٹاپ۔ برقی زینوں سے بلا مبالغہ 500 سیڑھیاں اترنا۔ اور ہاتھوں سے کوئی سہارا لینا ناممکن۔ خیرکرم ہوا کہ زیادہ دقت نہیں ہوئی۔ پھر زیر زمین سٹیشن میں سامان کے ساتھ بہت دور تک پیدل چلنا۔ خیر سعود صاحب! اگر اس کیلئے تیار نہیں تھے تو ادھر آئے کیوں؟ اب برداشت کرو اور حوصلہ بلند رکھو۔
مرمرا ٹرین کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ بیٹھنے کی کیا کھڑے ہونے کی جگہ بھی نہیں تھی۔ کسی طرح سامان کے ساتھ ایک گوشہ پکڑ لیا اور ہلتے جلتے‘ لڑکھڑاتے‘ سنبھلتے کچھ سٹیشن گزر گئے۔ بالآخر جگہ بنی اور نشست بھی مل گئی۔ ٹرین زیر زمین راستوں سے باہرکھلے میں نکلی تو موسلا دھار بارش نے استقبال کیا۔ سامنے نیلا بحر مرمرا تھا اور کھڑکی کے شیشے پر بارش کی بوندیں پھسلتے بچوں کی طرح ایک دوسرے کا تعاقب کرتی تھیں۔ ٹرین کے اندر ایک ترک مرد عورت درد بھری آواز میں پیسے مانگتے اور ایک پلے کارڈ لیے پھرتے تھے۔ ذرا دیر میں ایک سمٹ بیچنے والا نمودار ہوا۔ simit ایک گول چھلا نما ترکی روٹی ہے جس پر تل لگے ہوتے ہیں۔ سٹریٹ فوڈ اور ناشتے کیلئے ہر جگہ نظر آتی ہے۔ چائے کے ساتھ ترکوں کی مرغوب روٹی ہے۔ کچھ ہی دیر میں چائے والا بھی آگیا۔ مجھے اپنے بسوں‘ ٹرینوں میں سودے بیچنے والے یاد آنے لگے۔ مسلسل فکر تھی کہ کہیں گیبزے سٹیشن نکل نہ جائے لیکن قریب بیٹھے نوجوان نے جو انگلش جانتا تھا‘ تسلی دی کہ گیبزے مرمرا ٹرین کا آخری سٹاپ سے اس سے آگے یہ کہیں نہیںجاتی۔
گیبزے چھوٹا سا خوبصورت بارش میں بھیگتا شہر تھا۔ بارش میں سٹیشن سے نکل کر قریب ہی دوسری لوکل ٹرین کے سٹیشن جانا پڑا۔ یہ ٹرین یہاں سے عارفیے جائے گی۔ اب ایک اور مسئلہ تھا۔ میں نے کل رات ہی دوپہر دو بجے کی اس ٹرین کی آن لائن بکنگ کی تھی‘ لیکن میں تو گیارہ بجے سے پہلے ہی پہنچ گیا تھا۔ اور اب تین گھنٹے انتظار بھاری پڑ رہا تھا۔ چاہتا تھا کہ کسی طرح میری بکنگ 11 بجے والی تیار ٹرین سے تبدیل ہو جائے اور حال یہ کہ ٹرین گارڈ سے لے کر ٹکٹ کاؤنٹر پر بیٹھی خاتون تک کوئی بھی انگریزی کا ایک لفظ بھی نہیں جانتا تھا۔ کسی طرح اپنی مشکل سمجھائی۔ اس نے بکنگ تبدیل کرنے کے 25 لیرا طلب کیے۔ لیکن اب مشکل یہ کہ کمپیوٹر سسٹم ڈاؤن تھا اور بکنگ مکمل نہیں ہو رہی تھی۔ ٹرین روانہ ہونے میں دو منٹ رہ گئے تو عورت‘ گارڈ اور میں تینوں ہی بہت پریشان اور بے بس کھڑے تھے۔ مسئلہ یوں حل ہوا کہ ایک منٹ پہلے گارڈ نے مجھے میری کوچ اور سیٹ نمبر بتایا۔ عورت نے پیسے واپس کیے اور میں 11 بجے والی ٹرین میں بیٹھ گیا۔ چلو سعود میاں! عارفیے چلتے ہیں شاید وہاں کچھ معرفت مل جائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments