28 ستمبر کوگیبزے سے عارفیے جاتے ہوئے ٹرین کے باہر مسلسل بارش نے منظر اور بھی حسین بنا دیا تھا۔ یہ علاقہ حسن اور قدرتی خوبصورتی سے مالا مال تھا۔ پہاڑ‘ جنگل‘ میدان‘ ہریالی‘ جھیل اور موسم کی پریاں ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر رقص کرتی تھیں۔ آسمان سے اترتی چنچل اور شوخ بارش کی پری بھی آج اس رقص میں شامل تھی۔ منظر اتنا خوبصورت تھا کہ پلک جھپکنے کو بھی جی نہیں چاہتا تھا۔ خوبصورت اور آرام دہ لوکل ٹرین کی اکثر نشستیں خالی تھیں۔ کچھ فاصلے پر بھیگے پردے کے اُس پار ساپانجا جھیل رہ رہ کر اپنی جھلک دکھاتی اور مسافر کو حیران کرتی تھی۔ یہ جھیل میرے تصور سے کہیں بڑی تھی۔
ذرا ترکی کا نقشہ اپنے فون پر نکالیے اور دیکھیے کہ یہ علاقہ ہے کہاں؟ نظر آئے گا کہ ترکی کئی سمندروں سے گھرا ہوا ملک ہے۔ بحیرہ مرمرا‘ بحیرہ ایجین‘ بحیرہ اسود وغیرہ۔ ترکی میں استنبول کو مرکز مان لیجیے اور شمال مشرق کی طرف بلیک سی یعنی بحیرہ اسود کی طرف روانہ ہو جائیے۔ ساحلی شہر شیلے (Sile)یہاں سے تقریباً 85 کلو میٹر دور ہے‘ لیکن ابھی آپ شیلے نہیں جا رہے۔ راستے میں ایک بڑی جھیل ساپانجا اپنے حسن کی زنجیر ڈال کر آپ کو آگے جانے نہیں دے گی۔ٹرین سے جائیں تو لگ بھگ ڈھائی گھنٹے میں اس جھیل کے کنارے بسی خوبصورت بستیوں تک پہنچ جائیں گے۔ساپانجا لگ بھگ 250 مربع کلو میٹر میں پھیلی ہوئی ایک میٹھے پانی کی جھیل ہے۔ اتنی بڑی جھیل کے کنارے کوئی ایک نہیں‘ کئی چھوٹے شہر اور بستیاں آباد ہیں۔ ساکاریا‘ عارفیے‘ ساپانجا‘ معشوقیے چند شہروں کے نام ہیں۔ یہ سب شہر نیم میدانی اور نیم پہاڑی ہیں۔ جھیل کے اطراف میں چھوٹے اور بڑے جنگلا ت سے ڈھکے ہوئے پہاڑ ہیں۔ دریا اور ندیاں پہاڑوں میں گھومتے بل کھاتے آتے ہیں اور جھیل کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ دل اور آنکھوں کی شادابی کا اس سے بہتر مقام کون سا ہو سکتا ہے؟
میرے ایک عزیز ترک دوست ڈاکٹر عبد الحمید برائشک ترکی کے سفروں میں ہمیشہ مدد اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ان کے ایک دوست ڈاکٹر محمود ازجی ساکاریا یونیورسٹی میں استاد ہیں۔ مزید یہ کہ انگریزی جانتے اور بولتے ہیں۔ برصغیر کے بارے میں تحقیقی کام بھی کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر برائشک کے حوالے سے ڈاکٹر محمود سے رابطہ ہوا تو انہوں نے غیرمعمولی مدد اور محبت کا اظہار کیا۔ پہلا مسئلہ یہ تھا کہ میں استنبول سے عارفیے کیسے پہنچوں؟ راستے اور ٹرینوں کے بارے میں ڈاکٹر محمود نہ بتاتے تو میرے لیے پہنچنا مشکل ہوتا۔ ڈاکٹر محمود ازجی نے کہا کہ آپ عارفیے پہنچ جائیں‘ وہاں ٹرین سٹیشن سے میں آپ کو لے لوں گا۔ پردیس میں ناواقفیت سے جو مسافر کو خواری ہوتی ہے‘ وہ مسافر ہی جانتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں زبان کا بہت بڑا مسئلہ ہو۔ کوئی آپ کی قدم قدم رہنمائی کر دے تو آپ کا دل شکر اور شکریے سے بھر جاتا ہے۔ ساپانجا سٹیشن سے ٹرین گزری۔ جھیل اپنے حسن کے ساتھ سامنے پھیلی ہوئی تھی۔ اگلا سٹیشن عارفیے تھا۔ دس منٹ بعد میں عارفیے پر اترا‘ اور ایک ہی نظر میں اس خوبصورت چھوٹے سے شہر نے دل موہ لیا۔ سٹیشن سے باہر ایک چھوٹا سا قہوہ خانہ تھا۔ میزبانوں نے کچھ فاصلے پر ساکاریا یونیورسٹی سے یہاں آنا تھا اس لیے دس منٹ میں ترکی چائے کے ایک اور فنجان سے لطف اندوز ہوا جا سکتا تھا۔ بھیگے ہوئے شہر میں موسم کی خنکی جسم کو خوشی دیتی تھی۔ ڈاکٹر محمود آئے تو ان کے محقق دوست ڈاکٹر خلیل ابراہیم بھی ساتھ تھے۔ ڈاکٹر خلیل بھی انگریزی میں گفتگو کر سکتے تھے۔ یہ نوجوان دوست مجھ سے کم عمر لیکن علم میں زیادہ تھے۔ بڑی آسانی انہوں نے یہ کی تھی کہ میرا تین چار دن کا پروگرام مرتب کر دیا تھا۔ یعنی مجھے کیا کرنا ہے‘ کہاں ٹھہرنا ہے‘ کیا دیکھنا ہے۔ یہ سب گفتگو راستے میں ہوتی رہی۔ ابھی ہم ساکاریا یونیورسٹی جارہے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ میں ایک نظر یونیورسٹی بھی دیکھوں۔ یہ میرے لیے ایک علمی مرکز کو دیکھنے کا ایک اچھا موقع بھی تھا۔
ساکاریا (شاید اصل نام سقاریا یا سقریہ ہوگا) بحیرہ اسود کے قریب ترکی کا ایک صوبہ ہے۔ اب ساکاریا اس شہر کا نام بھی ہے جسے عثمانی سلاطین کے زمانے میں ''اڈاپازاری‘‘ کہا جاتا تھا اور آج بھی یہ نام بولا جاتا ہے۔ اس طرح اڈا پازاری اور ساکاریا ایک ہی شہر کے دو نام ہیں۔ اڈا ترکی میں جزیرے کو کہتے ہیں اور پازاری بازار ہے؛ یعنی جزیرے کا بازار۔ دراصل یہاں دریائے ساکاریا بہتا ہے جو ترکی کا تیسرا بڑا دریا ہے۔ دریا بالآخر بحیرہ اسود میں گر کر اپنا سفر ختم کردیتا ہے۔ کسی زمانے میں دریا میں کوئی جزیرہ یا جزیرے ہوتے ہوں گے۔ اسی لیے اس علاقے کا نام جزیرے کا بازار تھا۔ اس علاقے کی ترکوں کی جنگ آزادی میں بھی بڑی اہمیت رہی اور یہاں کمال اتا ترک کے زمانے میں یونانیوں سے ترکوں کی کئی لڑائیاں ہوئی تھیں۔ ہم ساکاریا شہر سے گزرے اور میزبان اسکے بارے میں بتاتے رہے۔ پھر میدانی سفر ختم ہوا اور گاڑی ایک موڑ مڑ کر قریب کے ایک پہاڑ پر چڑھنے لگی۔ پہاڑی ڈھلانوں کا یہ سفر حسین اور سرسبز تھا‘ اور تھوڑی ہی دیر میں ساپانجا جھیل نیچے ایک چاندی کے تالاب کی طرح نظر آنے لگی۔ ہم کچھ چڑھائی اور چڑھے اور دو تین کلو میٹر کے بعد ساکاریا یونیورسٹی کے محرابی دروازے نے ہمارا استقبال کیا۔ ڈھلانوں پر بنائی گئی بڑی ساکاریا یونیورسٹی ایک گھنے اور سرسبز جنگل کے بیچ اپنی دلکشی کیساتھ ہماری منتظر تھی۔ یونیورسٹی کی عمارات دائیں بائیں ڈھلانوں اور زمین کے قطعات پر پھیلی ہوئی تھیں اور بالآخر گاڑی ایک پارکنگ میں ٹھہر گئی۔ برستی بارش میں ہم اترے اور اس گھنے جنگل کی طرف چلے جو اَب سبز اور زرد خزاں کے حسن سے بھرا ہوا تھا۔ اس جنگل کے ایک گوشے میں یونیورسٹی کیفے ٹیریا تھا۔ جتنی دیر میں میزبانوں نے کافی لی‘ میں نے کیفے کیساتھ ملحق چھوٹے سے اس خوبصورت کتب خانے کے منظر محفوظ کر لیے جو بنانے والوں کے حسنِ ذوق کی ترجمانی کرتا تھا۔ ہر حسین جنگل میں چھوٹے چھوٹے لکڑی کے بنچ بارش سے بھیگے ہوئے تھے لیکن یہ جنگل اتنا خوبصورت تھا کہ یہاں کچھ وقت نہ گزارنا بد ذوقی ہوتی۔ ہم کافی کے کپ لیے ایک سائبان تلے کھڑے ہوئے اور جنگل ہمارے ساتھ آکھڑا ہوا۔ لمبے اونچے درختوں کے سبزپتے زرد اور سرخ ہونے لگے تھے۔ ہر درخت کے پیروں میں اسکے پتوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ کبھی کبھی ہوا کا جھونکا آتا اور کچھ پتے اڑا کر ساتھ لے جاتا۔
ساکاریا یونیورسٹی 1992ء میں قائم ہوئی تھی۔ یہ صوبے کا پہلا سب سے بڑا تعلیمی ادارہ تھا۔ لگ بھگ دو لاکھ سے زیادہ طالبعلموں‘ 10 ہزار اساتذہ‘ 13 فیکلٹیز‘ چار انسٹیٹیوٹس‘ چار کالجز‘ 14 ووکیشنل سکولز کا یہ ادارہ قابلِ رشک خوبصورت جامعہ ہے۔ انڈر گریجویشن سے ڈاکٹریٹ تک سبھی درجات کی تعلیم ہے۔ ایک نظر ہی میں محسوس ہوتا تھا کہ یہ ادارہ اپنے تعلیمی معیار میں بھی ممتاز ہے۔ ہمارے سامنے ہیومینٹیز یعنی غیرسائنسی علوم کی عمارت تھی اور بائیں طرف سماجی علوم یعنی سوشل سائنسز فیکلٹی کی عمارت۔ اتنا وقت نہیں تھا کہ اس وقت یہ عمارتیں دیکھی جائیں‘ سو یہ کام اگلے دن پر موقوف کیا۔ اونچی نیچی ڈھلوانوں اور چڑھائیوں پر بنی عمارتوں کی سیر کی اور پھر سکاریا کا رخ کیا۔ میزبانوں نے ایک مناسب سے ہوٹل کا بندوبست سکاریا شہر کے مرکزی علاقے دیوان سرائے میں کیا ہوا تھا۔ اس علاقے میں طعام گاہیں اور دکانیں بھی تھیں۔ ایک چھوٹے سے خوبصورت ہوٹل نے مجھے خوش آمدید کہا جس میں خاموشی مجھ سے پہلے مقیم تھی۔ میں نے میزبانوں کو شکریے کے ساتھ رخصت کیا۔ شام اترنے لگی تھی اور جیسی لگاتا بارش ہو رہی تھی اسے دیکھتے ہوئے رات تک کہیں جانا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ سو اب آج کا کام کل پر ٹالے بغیر گزارہ نہیں تھا۔ اس وقت ایک گرم شاور‘ نرم بستر اور گہری نیند سے زیادہ طلب کسی چیز کی نہیں تھی۔ اور یہ تینوں چیزیں جلد ہی مجھے میسر آ گئیں۔ لیکن نیند سے پہلے ضروری رابطے کیے‘ وہ حسین مناظر تازہ کیے جو دن بھر کی یادگار تھے۔ بستر کے قریب دریچہ کھول کر خنک ہوا کو خوش آمدید کہا اور نیند کی گہری وادی میں اتر گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments