"SUC" (space) message & send to 7575

بے عزت شہری، بے وقعت کاغذ

کیا کبھی تصور کیا تھا کہ بیچ بازار میں کھڑے ہو کر‘ سرکاری افسران اپنے نچلے عملے اور پٹواریوں کے ساتھ کہیں گے کہ کسی جائیداد کی رجسٹری کوئی چیز نہیں ہوتی‘ یہ ایک بے وقعت کاغذ ہے۔ میں ان کے الفاظ دہرائوں؟ ''رجسٹریاں تو بن جاتی ہیں‘ ہو جاتی ہیں‘ ان کا کیا ہے‘‘۔ ایک لمحے کے لیے تو اس بات پر یقین ہی نہیں آتا کہ کوئی پٹواری‘ کوئی اسسٹنٹ کمشنر اور محکمہ مال کا کوئی عہدیدار سب کے سامنے یہ بات کہہ سکتا ہے کہ ان کا اپنا جاری کردہ سرکاری کاغذ‘ تمام دستخطوں اور تمام مہروں کے ساتھ‘ تمام ٹیکس اور سرکاری فیسیں جمع کروانے کے بعد‘ اور دفتروں کے بے شمار چکروں اور ہزار ذلتوں کے بعد‘ مشکل سے حاصل کیا ہوا کاغذ‘ بے وقعت اور بے فائدہ ہے! اس میں درج پیمائشیں بیکار اور ناقابل اعتبار ہیں۔ اس میں موجود ملکیتی حقوق کچھ ثابت نہیں کرتے۔ لیکن یہ بات حرف بحرف سچ ہے اور میں اس کا عینی گواہ ہوں۔
آپ نے کبھی کسی دکان‘ کسی جائیداد‘ کسی گھر کی رجسٹری ضرور کرائی ہو گی۔ آپ کو اندازہ ہو گا کہ ایک جائیداد جسے آپ نے خون پسینے کی محنت سے ایک ایک پیسہ جوڑ کر خریدا ہے‘ اس کا حقِ ملکیت کا کاغذ آسانی سے حاصل کرنا آپ کا ہر لحاظ سے حق ہے۔ اس سے پہلے آپ فرد بیعانہ‘ فرد بیع‘ عکس شجرہ‘ اسٹامپ‘ ٹیکس وغیرہ سب کارروائیوں کو پورا کرکے رجسٹری کا حق مانگتے ہیں۔ یہ حق کیسے ملتا ہے؟ مجھے یقین ہے کہ 99 فیصد پاکستانیوں نے کسی دقت‘ کسی مسئلے کے بغیر خود سرکاری دفتروں سے یہ حق کبھی حاصل نہیں کیا ہوگا۔ محکمہ مال کے ہوتے ہوئے یہ آسانی ہو بھی کیسے سکتی ہے؟ کمر توڑ دینے والے سارے ٹیکسوں کی رقم جیب میں لے کر پھرتے رہیں تو بھی یہ آسانی ملنے والی نہیں۔ اگر یہ آسان ہو جائے تو پھر پٹواریوں اور ایکسائز کے عملے کی جیبیں کیسے گرم ہوں۔ اسٹامپ فروشوں کے کاروبار کیسے چلیں۔ آپ جوتے گھستے رہیے‘ آپ کا کام نہیں ہوگا۔ سو اس کا راستہ یہی ہے کہ آپ بینکوں میں سرکاری ٹیکس جمع کرائیں اور رسیدیں لے کر کسی سٹامپ فروش کے پاس حاضری دیں۔ وہ بتائے گا کہ فلاں محکمے میں اتنا چائے پانی دینا ہے اور فلاں میں اتنا۔ اس چائے پانی کا سرکاری ٹیکسوں سے کوئی تعلق نہیں۔ مجتنی قیمتی جائیداد اتنا زیادہ نرخ۔ سرکاری ٹیکس بھر کر اب اسٹامپ فروش کے سامنے جیب خالی کرنی ہے۔ نہیں کریںگے تو جائیداد کا حقِ ملکیت کیسے ملے گا؟ چنانچہ لوگ چپ چاپ اس نظام کے ہاتھوں لٹتے اور ہر تکلیف سہتے ہیں۔ بے شمار چکروں کے بعد بالآخر وہ کاغذ آپ کے ہاتھ میں آتا ہے جسے رجسٹری کہتے ہیں اور جو یہ ثابت کرتا ہے کہ زمین کے اس ٹکڑے پر جس کی پیمائش اتنی ہے‘ فلاں شخص کا یا فلاں فلاں افرادکا بلا شرکت غیرے حقِ ملکیت ہے۔ یہ کاغذ کا ٹکڑا جس میں آپ کی جان اٹکی ہوئی تھی‘ بالآخر آپ کے ہاتھ میں آتا ہے تو آپ کو لگتا ہے کہ ساری عمر کی محنت وصول ہو گئی۔ آپ اس کیلئے دربدر کی ذلتیں بھی بھول جاتے ہیں۔ آپ خوش ہوتے ہیں کہ اب آپ کے ہاتھ میں رجسٹری ہے اور کوئی اس زمین کے ٹکڑے سے بے دخل نہیں کر سکتا۔ اس لیے کہ حکومت نے محکمہ مال‘ ایکسائز‘ ریونیو‘ پٹواری‘ گرداور سب سے تصدیق کے بعد اس کاغذ پر اور اس کے مندرجات پر‘ اس کی پیمائشوں پر دستخط ثبت کر دیے ہیں‘ مہریں لگا دی ہیں۔ کسی جائیداد کی رجسٹری ہی وہ بنیادی کاغذ ہے جس سے آپ تحفظ حاصل کرتے ہیں۔ یہ کرایہ نامہ نہیں ہے کہ کوئی آپ کو اس جائیداد سے نکال دے گا‘ یہ معاہدہ نہیں ہے کہ کوئی اسے منسوخ کر دے گا۔ یہ رجسٹری ہے۔ آپ کا سب سے اہم ملکیتی ثبوت۔
اور پھر ایک دن آپ بیچ بازار میں یہ کاغذ لے کر اسسٹنٹ کمشنر‘ پٹواری‘ وغیرہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیںاور انہیں بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ میرا حقِ ملکیت ہے۔ زمین کے اس ٹکڑے کی پیمائش اتنی ہے۔ کوئی حکومت‘ کوئی محکمہ اور کوئی فرد میری مرضی کے بغیر اس ٹکڑے کو یا اس میں سے کچھ حصے کو نہیں لے سکتا۔ جواب میں جو کچھ آپ کو سننے کو ملتا ہے‘ اس پر آپ کو یقین نہیں آتا۔ وہ کاغذ دیکھے بغیر کہتے ہیں ''رجسٹریاں تو بن جاتی ہیں‘ ہوجاتی ہیں‘ ان کا کیا ہے‘‘۔ یہ سب سرکاری عہدیداران مل کر آپ کو بتاتے ہیں کہ رجسٹری کوئی چیز نہیں ہوتی‘ یہ کچھ ثابت نہیں کرتی۔ نہ ملکیت‘ نہ پیمائش۔ وہ واحد کاغذ جس پر آپ کا دارو مدار ہے اس کے بارے میں کاغذ جاری کرنے والے‘ دستخط کرنے والے‘ مہریں لگانے والے کس ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ رجسٹریاں تو بن جاتی ہیں‘ یہ کوئی چیز نہیں ہوتیں۔
لاہور کو تاریخی حیثیت میں بحال کرنے کا کام جاری ہے۔ یہ بہت اچھا کام ہے اور میں اس کی تحسین کرتا آیا ہوں۔ سرکلر روڈ‘ انارکلی‘ نیلا گنبد‘ پرانے شہر کے کئی اور علاقے‘ سب اس بحالی کے کام کے دائرے میں ہیں۔ غیر سرکاری اور سرکاری ادارے سب اس کام میں شریک ہیں۔ ان سرکاری اداروں میں سٹی گورنمنٹ بھی ہے۔ کوئی شک نہیں کہ بے حد و بے حساب تجاوزات سے سبھی شہری تنگ ہیں اور اگر تجاوزات گرائی جاتی ہیں تو اس کی تحسین کرنی چاہیے۔ سرکلر روڈ‘ نیلا گنبد اور انارکلی وغیرہ کے علاقوں میں اس کام کے سلسلے میں دکانداروں اور سرکاری عملے کے لوگوں کی کئی میٹنگ ہوتی رہی ہیں۔ ان میں سے کچھ میں شریک ہونے کا موقع مجھے بھی ملا ہے‘ اور اس کام کے اعتراف کے ساتھ جو کچھ میرے مشاہدے میں آیا‘ وہ نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ ہے۔ کچھ دکانیں یا مکانات جو عملے کی نظر میں تجاوزات ہیں‘ ان سے سب سے پہلے ملکیتی کاغذات مانگے جاتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے پاس رجسٹری یا کوئی اور ملکیتی کاغذ نہیں ہوتا‘ سو عملے کا کام آسان ہو جاتا ہے۔ فوراً کہہ دیا جاتا ہے کہ یا ثبوت دیں یا جگہ خالی کریں۔ اس کے بعد وہ لوگ ہیں جو اپنے جائز اور تصدیق شدہ ملکیتی ثبوت پیش کر دیتے ہیں‘ جیسے رجسٹری وغیرہ۔ ان پر ساری تفصیلات اور پیمائشیں درج ہوتی ہیں‘ جن کی تصدیق خود سرکاری اداروں نے کی ہوئی ہوتی ہے۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ چونکہ یہ کاغذات سرکاری عملے کی منشا کے خلاف جاتے ہیں‘ اس لیے وہ انہیں بھی ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ''رجسٹریوں کا کیا ہے؟ رجسٹریاں تو بن جاتی ہیں‘‘۔ جائیداد کے ایک مالک نے کہا: اگر رجسٹری کوئی ثبوت ہے ہی نہیں‘ تو انہیں جاری کرنے کی کیا ضرورت ہے‘ اس پر بھاری ٹیکس وصول کرنے کا کیا جواز ہے۔ اس نے بہت جائز بات کہی کہ اگر رجسٹری کوئی ثبوت نہیں ہوتا‘ یہ بے وقعت کاغذ ہے تو آپ یہ بات مجھے لکھ کر دے دیں۔ اب پٹواری اور سرکاری عملے کے پاس کوئی جواب نہیں تھا‘ سوائے ڈھٹائی سے اپنی بات دہرانے کے۔
باقی معاملات تو بعد میں‘ پہلے اس مسئلے کا فیصلہ کیا جانا ضروری ہے کہ رجسٹری کی کوئی وقعت یا حیثیت ہے یا نہیں؟ اس کی پیمائشوں کا کوئی اعتبار ہے کہ نہیں؟ اگر نہیں تو اس بے وقعت کاغذ پر اتنے ٹیکس کیوں لیے جاتے ہیں‘ اور اس کے لیے اتنا ذلیل کیوں کیا جاتا ہے۔ اگر اس کا غذ کی کوئی حیثیت ہے تو سرکاری عملے کو یہ کہنے کا حق کس نے دیا ہے کہ ہم رجسٹریوں کو اور ان کے مندرجات کو نہیں مانتے۔ اگر رجسٹری کوئی اہم کاغذ نہیں تو کوئی پاکستانی شہری اپنا حق ملکیت کس طرح ثابت کرے؟ اربابِ مسند و اختیار! ذرا سنیے اور دیکھیے کہ ملک کے کروڑوں شہری تو پہلے بھی قابلِ عزت نہیں تھے‘ اب ان کے کاغذات بھی اچانک بے وقعت اور بے حیثیت کیوں ہو گئے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...