"SUC" (space) message & send to 7575

ملک گیر جماعت یا صوبائی جماعت؟

میرے مرحوم والد گرامی جناب زکی کیفی برسوں تک سیاسی‘ سماجی و معاشرتی مسائل پر اخباری قطعات لکھتے رہے جو اَب کتابی شکل میں بھی شائع ہو چکے ہیں۔ یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کی ایک اہم دستاویز ہے۔ حالیہ لانگ مارچ کے حوالے سے ان میں سے ایک قطعہ تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ یاد آ رہا ہے۔
بیٹھتا ہے یہ ا ونٹ کس کروٹ؍ اپنی گردن ابھار کر دیکھو
حال کیا لانگ مارچ کا ہو گا؍ اور کچھ انتظار کر دیکھو
مذاکرات ناکام ہو چکے اور تحریک انصاف کا لانگ مارچ شروع ہو چکا۔ دونوں فریق میز سے اُٹھ کر اپنے اپنے مورچوں میں جا بیٹھے اور اب بات چیت کی نہیں مقابلے کی حکمت عملی اور اقدامات طے ہو رہے ہیں۔ تادم تحریر لانگ مارچ کوہاٹ سے پشاور کی طرف رواں دواں ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ابتدائی طور پر پانچ ہزار افراد لانگ مارچ میں شامل تھے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی نفسیاتی اثرات کیلئے سرگرمیاں شروع ہیں۔ تحریک انصاف کو لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے لیکن لانگ مارچ میں بالآخر کتنے افراد شامل ہوتے ہیں‘ وہ اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی بکھر جاتا ہے یا حکومت کو بکھیر کر دارالحکومت کے دل تک پہنچتا ہے‘ یہ چند دن بعد ہی واضح ہو سکے گا۔ اسی دوران حزبِ اختلاف کُل جماعتی کانفرنس کی تجویز پر بھی مشورے کر رہی ہے اور مولانا فضل الرحمن کی پریس کانفرنس میں حزبِ اختلاف کی بڑی شخصیات ان کے دائیں بائیں کھڑی تھیں۔ گویا سب دروازے ابھی بند نہیں ہوئے‘ اور یہ اچھی بات ہے۔
ماضی میں علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی وغیرہ کی قیادت میں اسلام آباد پہنچنے والی احتجاجی ریلیاں اور مارچ اتنے مؤثر نہیں تھے کہ اپنے مطالبات منوا سکیں۔ ایسے ہر قدم کے بعد پی ٹی آئی مزید اختلافات کا شکار ہوئی۔ سابق وزیراعلیٰ پرمخالفین سے ملے ہونے کے الزامات بھی لگتے رہے اور پارٹی کی جانب سے ان کی بطور وزیراعلیٰ معزولی نے ان باتوں کو تقویت پہنچائی۔ سہیل آفریدی پر اس طرح کا کوئی الزام نہیں ہے۔ انہیں جارحانہ کردار سونپا گیا تھا اور وہ یہی ادا کررہے ہیں‘ لیکن ان کی اب تک ساری احتجاجی سیاست‘ خاص طور پر پنجاب اور سندھ کے دورے کوئی خاص ہلچل نہیں مچا سکے۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد سے اب تک تحریک انصاف کے فیصلے اب ایک بڑا سوال سامنے لائے ہیں‘ اور وہ یہ کہ کیا پی ٹی آئی ملک گیر مقبول جماعت کے مرتبے سے اُتر کر ایک صوبائی جماعت بننے جا رہی ہے؟ کیا پی ٹی آئی پیپلز پارٹی کی طرح ایک گوشے میں سمٹ جائے گی اور آئندہ اس کی سیاست کا دارو مدار خیبر پختونخوا پر رہ جائے گا؟ پی ٹی آئی کے رہنمائوں کے پیش نظر یہ ضرور ہو گا کہ کے پی میں وہ اکلوتی سیاسی طاقت نہیں‘ جمعیت علمائے اسلام کافی بڑا حلقہ رکھتی ہے اور کے پی کے جو اپنی بنیاد میں مذہبی فکر رکھتا ہے‘ تحریک انصاف وہاں کب تک اور کتنے علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط رکھ سکتی ہے۔
اگرچہ یہ افسوس کی بات ہے لیکن روز بروز یہ واضح ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف ملک گیر سے علاقائی جماعت بنتی جا رہی ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ خان صاحب ہر دلعزیزی اور ملک گیر مقبولیت میں پہلے نمبر پر ہیں۔ ان سے محبت کرنے والے اور نظریے سے متفق لوگ پورے ملک میں ہیں۔ انہیں 2024ء کے انتخاب میں ہر صوبے سے بہت بڑی تعداد میں ووٹ پڑے تھے لیکن پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کا اثر دیگر صوبوں میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ لانگ مارچ ہی کو دیکھ لیجیے۔ اصولاً اس کیلئے قافلے پنجاب‘ سندھ اور بلوچستان کے اہم شہروں سے بھی اسلام آباد کی طرف نکلنے چاہئیں تھے لیکن ایسا ہوا نہیں۔ خود کے پی میں بھی زیادہ جوش وخروش نظر نہیں آ رہا۔انتظامیہ کی بندشیں‘ پکڑ دھکڑ اور دیگر صوبوں میں مخالف حکومتوں کا ہونا اہم وجوہات سہی لیکن عملی طور پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کو یہ سرگرمیاں صرف ایک صوبے تک نظر آتی ہیں تو وہ مایوسی کا شکار ہوتے ہیں۔
میں پی ٹی آئی کی مخالف کسی جماعت کے بارے میں خوش فہمی یا غلط فہمی کا شکار نہیں ہوں لیکن یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ یہ جماعتیں تحریک انصاف سے کم مقبول ہوتے ہوئے بھی اپنے قدم جمائے ہوئے ہیں‘ جبکہ پی ٹی آئی کے بارے میں ہر وقت اندیشہ رہتا ہے کہ کب اس کے قدم اکھڑ جائیں۔ کئی سیاسی عناصر ساتھ ملانے کے باوجود پی ٹی آئی اگر کمزور نظر آ رہی ہے تو اسے اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ بنیادی کمزوری یہ ہے کہ اس کا ہر فیصلہ اور ہر قدم عمران خان کے فیصلے کے گرد گھومتا ہے اور خان صاحب سے اسیری میں مشاورت ممکن نہیں۔ مشاورت کیا‘ اب تو ملاقات ہی کے لالے پڑے ہیں۔ محمود خان اچکزئی‘ علامہ راجا ناصر عباس‘ بیرسٹر گوہر علی خان اور بیرسٹر سلمان اکرم راجا کی موجودگی میں ایک فیصلہ ساز کمیٹی ہونی چاہیے اور شاید ہے بھی۔ لیکن اہم فیصلوں کا حتمی اختیار اس کے پاس نہیں ہے۔
حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے باعث لانگ مارچ کو ایک ہفتے کیلئے مؤخر کیا گیا تھا لیکن بنیادی اختلافات دور نہ ہو سکے اور بالآخر مارچ کا آغاز ہو گیا۔ حسبِ روایت فریقین نے مذاکرات کی ناکامی پر ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ کیا سچ ہے کیا جھوٹ‘ یہ الگ معاملہ ہے۔ لیکن اب آگے کیا ہے؟ ہر ذہن میں اس وقت کچھ بڑے سوال ہیں۔ مثلاً یہ کہ کیا یہ لانگ مارچ اپنے مقاصد حاصل کر سکے گا؟ اس میں کتنے لوگ شریک ہوں گے اور یہ حکومت کیلئے دبائو کا پیغام لائے گا؟ یہ کس حد تک پُرامن اور منظم ہوگا؟ خدانخواستہ یہ لانگ مارچ تصادم اور جانی نقصان پر تو منتج نہیں ہو گا؟ خدا نہ کرے ایسا ہو‘ لیکن ایسی صورت میں کیا لاشوں پر سیاست کا ایک نیا دروازہ کھلے گا؟ یہ سب سوالات سب کے سامنے ہیں۔ ظاہر ہے پی ٹی آئی نے کچھ تو سوچا ہو گا کہ کون سے مطالبات اس طرح پورے ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ لانگ مارچ کا بنیادی مقصد حکومت پر دبائو ڈال کر عمران خان کو رہا کرانا ہے‘ کم ازکم درجے میں ان سے ملاقاتوں کا راستہ کھولنا۔ لیکن کیا یہ مقاصد حاصل ہو سکیں گے۔ بلکہ اس سے بھی پہلے یہ سوال کہ کیا پی ٹی آئی ملکی اور غیر ملکی سطح پر ایسا دبائو بنا سکے گی کہ حکومت یہ مطالبہ ماننے پر مجبور ہو جائے۔ اگر لاکھوں افراد اسلام آباد پہنچ جائیں تو یقینا بین الاقوامی میڈیا اس طرف متوجہ ہو گا اور اس کی تفصیلات سفارتکاروں کے ذریعے پوری دنیا تک پہنچیں گی لیکن سابقہ تجربات اور حالیہ تیاریوں کو دیکھتے ہوئے بہت کم امکان نظر آتا ہے کہ یہ قافلے اٹک پار کر سکیں۔ وفاقی اور پنجاب حکومت کے یکجان ہوتے ہوئے بہت مشکل ہے کہ کسی راستے سے لانگ مارچ یا اس کی ٹکڑیاں اسلام آباد پہنچ سکیں۔ اسلام آباد میں اس مارچ کو روکنے کیلئے غیر معمولی انتظامات ہو رہے ہیں۔ اب راستے بند کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ کنٹینرز ہیں‘ سو پورا شہر کنٹینرز کی فولادی دیواروں میں محصور ہے۔
تحریک انصاف آزمائشی دور سے گزر رہی ہے۔ اس کیلئے بھی یہ مارچ آسان نہیں۔ اگر لانگ مارچ پُرتشدد راہ پر چل پڑتا ہے تو اس کے مضمرات کیا ہوں گے‘ یہ باتیں بھی ہو رہی ہیں کہ لانگ مارچ صوبائی حکومت کے اختتام اور سیاسی جماعت پر پابندی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ یہ پی ٹی آئی کا بڑا نقصان ہو گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ پی ٹی آئی کیلئے یہ لانگ مارچ کوئی خوشخبری لائے گا۔ اس سے بھی بڑے دکھ کی بات یہ ہو گی کہ پی ٹی آئی ایک ملک گیر جماعت سے صوبائی جماعت بن کر رہ جائے۔ یہی اس کا سب سے بڑا امتحان ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...