اسلام آباد ہائیکورٹ : ملازمین بحالی و مستقلی، پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد روکنے کا فیصلہ برقرار
کمیٹی کا کردار ایڈوائزری نوعیت کا تھا، بحالی و مستقلی کی ہدایات جاری کرنا قانون کے مطابق نہیں:عدالت، انٹرا کورٹ اپیلیں مسترد اقدامات انتظامیہ و عدلیہ کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف، سول سرونٹس ایکٹ اور قواعد کی بھی خلاف ورزی:تحریری فیصلہ
اسلام آباد (رضوان قاضی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے سرکاری ملازمین کی بحالی اور مستقلی سے متعلق قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد روکنے کے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیلیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ خصوصی کمیٹی کی جاری ہدایات آئینی اور قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز کے مترادف ہیں۔ جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بینچ نے تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ خصوصی کمیٹی کا کردار محض ایڈوائزری نوعیت کا تھا، کارروائی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرنے تک محدود رہتی ہے۔
اداروں کے سربراہان کو ملازمین کی بحالی اور مستقلی سے متعلق ہدایات جاری کرنا قانون کے مطابق نہیں تھا، ملازمین کی سنیارٹی اور تنخواہوں کے تعین سے متعلق ہدایات بھی دائرہ اختیار سے باہر تھیں، انہیں محض انتظامی بے ضابطگی نہیں بلکہ آئینی و قانونی فریم ورک کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے ۔ یہ اقدامات انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف اور سول سرونٹس ایکٹ اور متعلقہ قواعد کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا سنگل بینچ کا خصوصی کمیٹی کی ہدایات غیر قانونی قرار دینا بالکل درست تھا۔
متعلقہ ادارے ملازمین کی بحالی، ریگولرائزیشن یا مستقلی کا اختیار رکھتے تھے ، خصوصی کمیٹی کی ہدایات کی بنیاد پر استعمال کیے گئے اختیارات کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے کہا وہ متعلقہ اداروں کو ایسے کیسز پر دوبارہ غور کیلئے کوئی ہدایات جاری نہیں کرے گی کیونکہ یہ معاملہ مکمل طور پر اداروں کے اپنے دائرہ اختیار اور صوابدید میں آتا ہے ، اگر وہ چاہیں تو قانون کے مطابق ایسا کر سکتے ہیں۔ واضح رہے خصوصی کمیٹی نے کنٹریکٹ، ڈیلی ویجر اور پراجیکٹ ملازمین مستقل کرنے سے متعلق ہدایات دی تھیں، کمیٹی کے چیئرمین قادر خان مندوخیل تھے ۔