تیل، ڈالر اور بارود

دنیا اس وقت بارود کے ڈھیر پر کھڑی ہے۔ گولیاں اگر مشرقِ وسطیٰ میں چل رہی ہیں تو ان کی بازگشت نیویارک‘ لندن‘ دبئی اور کراچی کی منڈیوں میں سنائی دے رہی ہے۔ ایران‘ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے صرف خطے کو نہیں عالمی معیشت کی بنیادوں کوبھی ہلا دیا ہے۔ اس کشیدگی کا سب سے پہلا شکار عالمی معیشت بن رہی ہے۔ سٹاک مارکیٹیں جنگی طیاروں سے زیادہ رفتار سے کریش کر رہی ہیں۔ تیل کی منڈیوں میں بے چینی ہے‘ سونے کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں اور سرمایہ کار اپنے اثاثوں کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔ مغربی فوجی ماہرین کو یقین تھا کہ ایران کی فوجی اور عوامی مزاحمت چند دنوں میں دم توڑ دے گی‘ مگر زمینی صورتحال اس کے برعکس سامنے آ رہی ہے۔ ایران نہ صرف ڈٹا ہوا ہے بلکہ بھرپور جواب دے رہا ہے۔ جنگ پانچویں دن میں داخل ہو چکی ہے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کے اثرات میدانِ جنگ سے نکل کر عالمی منڈیوں تک پہنچ رہے ہیں۔ جنگ کا پہلا اور سب سے فوری جھٹکا تیل کی منڈی کو لگتا ہے۔ دنیا روزانہ تقریباً 102 ملین بیرل خام تیل استعمال کرتی ہے۔ اس میں سے لگ بھگ 20ملین بیرل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ یہ عالمی توانائی رسد کی شہ رگ ہے۔ اگر یہاں صرف ایک ہفتے کے لیے رکاوٹ پیدا ہو جائے تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نفسیاتی حدیں عبور کر جائیں۔ایران پر حملے کے ایک روز پہلے برینٹ خام تیل کی قیمت 72ڈالر فی بیرل تھی جو اس وقت82 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ اگر صورتحال طول پکڑتی ہے توتیل کی قیمتیں 110 سے 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں جس سے پاکستانی معیشت بھی متاثر ہوگی۔ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پچھلے ایک ماہ میں دو بار بڑھائی جا چکی ہیں۔ لوگوں کی قوتِ خرید پہلے ہی کم ترین سطح پر ہے اوپر سے جنگ کے اثرات پاکستانی معیشت پر بہت بھاری ہوں گے۔ تیل کی قیمت میں ہر 10ڈالر اضافے سے عالمی مجموعی پیداوار میں اوسطاً 0.2 سے0.3 فیصد کمی آتی ہے۔ اگر قیمتیں 30ڈالر بڑھتی ہیں تو عالمی نمو میں تقریباً ایک فیصد کمی ممکن ہے۔ اس وقت عالمی شرح نمو تقریباً تین فیصد کے قریب ہے‘ ایک فیصد کی کمی اسے خطرناک حد تک سست کر سکتی ہے۔ توانائی کی قیمتوں کا جھٹکا صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ بجلی‘ ٹرانسپورٹ‘ کھاد‘ خوراک اور صنعت سب کو متاثر کرتا ہے۔ 2022ء کے توانائی بحران میں کئی ترقی یافتہ ممالک میں افراطِ زر 8 سے 10 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ اگر یہی رجحان دوبارہ ابھرتا ہے تو عالمی مرکزی بینکوں کے لیے شرح سود میں کمی مشکل ہو جائے گی۔
دنیا کا مجموعی قرضہ 300کھرب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ بلند شرح سود اور مہنگی توانائی کا امتزاج مالیاتی نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ شپنگ اور انشورنس مارکیٹ بھی اس بحران کا فوری شکار بنتی ہے۔ جنگی ماحول میں بحری جہازوں کی انشورنس کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ماضی میں خلیج میں کشیدگی کے دوران بعض ٹینکرز کی انشورنس لاگت میں دو سو فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو مال برداری کے اخراجات میں پانچ سے سات فیصد اضافہ عالمی افراطِ زر میں شامل ہو جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ صرف تیل نہیں گندم‘ چاول‘ خوردنی تیل‘ ادویات اور صنعتی خام مال سب مہنگے ہوں گے۔ تاریخی طور پر جنگی ماحول میں امریکی ڈالر مضبوط ہوتا ہے کیونکہ سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی طرف جاتے ہیں مگر اس بار سوال یہ ہے کہ کیا ڈالر مضبوط ہو گا؟ اگر توانائی کی قیمتیں امریکہ میں بھی مہنگائی بڑھاتی ہیں تو مالیاتی پالیسی مزید سخت ہو سکتی ہے‘ جس سے ابھرتی معیشتوں پر دباؤ بڑھے گا۔ جنگ کے فوری معاشی اثرات اپنی جگہ مگر جنگ ابھی جاری ہے۔ ایران کے داخلی منظرنامے میں قیادت کا سوال بھی اہم ہے۔ رہبرِ اعلیٰ کی شہادت کے بعد جانشینی کا مرحلہ ریاستی ڈھانچے کے لیے آزمائش ہو سکتا ہے۔ 1980ء کی ایران عراق جنگ آٹھ برس جاری رہی اور اس تجربے نے ایران کی مزاحمتی حکمتِ عملی کو مضبوط کیا۔ ایران کا ہتھیار ڈالنے کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔ ایران ڈٹ کر کھڑا ہے۔ اس پورے منظرنامے میں پاکستان کی پوزیشن بڑی نازک ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ سالانہ درآمدی بل تقریباً 25 سے 60 ارب ڈالر کے درمیان رہتا ہے جس میں پٹرولیم مصنوعات کا حصہ 15سے 20 ارب ڈالر تک ہے۔ اگر تیل کی قیمت 30 ڈالر فی بیرل بڑھتی ہے تو درآمدی بل میں چار سے پانچ ارب ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ زرِمبادلہ ذخائر عموماً آٹھ سے دس ارب ڈالر کے درمیان ہوتے ہیں جو دو ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ ایسے میں روپے پر دباؤ بڑھنا یقینی ہے۔
روپے کی قدر میں ایک فیصد کمی مہنگائی میں تقریباً 0.15 سے 0.20 فیصد اضافہ کرتی ہے۔ اگر روپے میں 10 فیصد کمی آتی ہے تو مہنگائی میں ڈیڑھ سے دو فیصد اضافہ ممکن ہے۔ پاکستان پہلے ہی بلند افراطِ زر کا سامنا کر چکا ہے۔ نئی لہر سماجی دباؤ بڑھا سکتی ہے۔ ایسے میں حکومت کے پاس یا تو سبسڈی دینے کا راستہ ہوگا‘ جس سے بجٹ خسارہ بڑھے گا یا قیمتوں کو مکمل طور پر نیچے منتقل کرنے کا‘ جس سے عوامی ردعمل میں اضافہ ہو گا۔ اگر عالمی نمو سست ہوتی ہے تو پاکستان کی برآمدات‘ خصوصاً ٹیکسٹائل برآمدات‘ متاثر ہو سکتی ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں طلب کم ہوئی تو آرڈرز میں کمی ہو سکتی ہے۔ صنعتی پیداوار بھی متاثر ہو گی۔ روزگار میں کمی آ سکتی ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے داخلی استحکام‘ مالی نظم و ضبط اور سکیورٹی حکمتِ عملی میں ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
یہ جنگ صرف میزائلوں کی نہیں ‘ اعصاب کی جنگ ہے۔ جدید جنگ پابندیوں‘ ادائیگی نظام اور ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہے۔ اگر اس جنگ سے عالمی تجارت کا ڈھانچہ متاثر ہوتا ہے تو اس کے اثرات برسوں باقی رہیں گے۔ پال کینیڈی نے اپنی کتاب ''طاقتور اقوام کا عروج و زوال‘‘ میں لکھا تھا کہ طاقت کا اصل پیمانہ معاشی استحکام ہے۔ آج بھی یہی سچ ہے۔
دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر کشیدگی چند ہفتوں میں کم ہو جاتی ہے تو عالمی معیشت ایک اور جھٹکا سہہ کر آگے بڑھ سکتی ہے لیکن اگر توانائی رسد میں مستقل خلل آتا ہے تو دنیا شرح نمو میں کمی اور بلند مہنگائی کے نئے دور میں داخل ہو سکتی ہے۔ اس ماحول میں سب سے زیادہ کمزور وہ ممالک ہوں گے جو توانائی درآمد کرتے ہیں اور جن کی معیشت پہلے سے مالی مشکلات سے دوچار ہے۔ جنگ کے شعلے شاید سرحدوں تک محدود رہیں مگر ان کی تپش اشیائے ضروریہ اور توانائی کی قیمتوں میں محسوس ہو گی۔ آنے والے دنوں میں فیصلہ شاید توپوں سے نہیں بلکہ تیل کی قیمت‘ ڈالر کی قدر اور سونے کی چمک کرے گی۔ سوال صرف یہ نہیں کہ کون میدان میں غالب آئے گا‘ سوال یہ ہے کہ عالمی معیشت کتنی دیر تک یہ دباؤ برداشت کر پائے گی۔ اور پاکستان اس طوفان میں اپنی کشتی کس مہارت سے سنبھالتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں