ہارڈ سٹیٹ پلس کا تصور

تھامس ہابز اپنی شہرہ آفاق کتاب ''Leviathan‘‘ میں لکھتا ہے کہ مضبوط ریاست جبر کی علامت نہیں بلکہ بقا کی ضمانت ہوتی ہے۔ اگر ریاست اپنی رِٹ قائم نہ رکھ سکے تو اخلاق‘ قانون‘ سیاست اور معیشت سب بکھر جاتے ہیں۔ ریاست کا مضبوط ہونا اس لیے ضروری نہیں کہ وہ طاقت دکھائے بلکہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ کوئی اور اسے اپنی طاقت نہ دکھائے۔ یہی فکری نکتہ آج پاکستان کے ریاستی رویے کو سمجھنے کی کنجی بن چکا ہے۔ پاکستان پچھلی دو دہائیوں سے دہشت گردی کے جس عذاب سے گزر رہا ہے وہ صرف بم دھماکوں‘ خودکش حملوں یا ٹارگٹ کلنگ کے واقعات تک محدود نہیں رہا۔ یہ ایک مکمل نظریاتی‘ سیاسی‘ عسکری اور نفسیاتی جنگ ہے۔ اس جنگ میں ریاست نے بہت کچھ سہا‘ بہت کچھ کھویا اور شاید سب سے زیادہ جو چیز متاثر ہوئی وہ ریاست کی وہ اخلاقی برتری تھی جو ایک واضح بیانیے سے جنم لیتی ہے۔ کبھی دہشت گردوں کو گمراہ بھائی کہا گیا‘ کبھی مذاکرات کی میز پر بٹھایا گیا‘ کبھی سیاسی مصلحت کے تحت خاموشی اختیار کی گئی اور کبھی یہ کہا گیا کہ یہ جنگ ہماری نہیں کسی اور کی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دہشت گرد مضبوط ہوتے گئے‘ بیانیہ کمزور ہوتا گیا اور ریاست دفاعی موڈ میں چلی گئی۔ یہی وہ پس منظر ہے جہاں 'ہارڈ سٹیٹ‘ کا تصور سامنے آیا۔ ابتدا میں یہ تصور ایک بحث تھا‘ ایک اشارہ تھا‘ ایک فکری امکان تھا کہ شاید ریاست کو اب نرم لہجے اور مبہم فیصلوں سے نکل کر طاقت کے اظہار کی طرف جانا چاہیے‘ مگر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی حالیہ پریس کانفرنس کے بعد یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ اب یہ تصور محض اشارہ نہیں رہا بلکہ ایک واضح اعلان بن چکا ہے۔ یہ اعلان اس بات کا ہے کہ ریاست نے اب فیصلہ کر لیا ہے کہ کسی گروہ کو قانون کی عملداری چیلنج نہیں کرنے دی جائے گی۔ اور جو کوئی اس اتھارٹی کو چیلنج کرے گا وہ ریاستی ردعمل کا سامنا کرے گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اسی فکری تسلسل کا اظہار تھی۔ یہ کوئی جذباتی خطاب نہیں تھا‘ نہ ہی وقتی ردعمل۔ یہ ایک منظم‘ اعداد وشمار سے آراستہ اور واضح بیانیے پر مبنی بریفنگ تھی جس میں ریاست نے کھل کر یہ کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ صرف سرحد پار سے نہیں آ رہا بلکہ اس کے لیے اندرونی سیاسی‘ سماجی اور نظریاتی فضا بھی سازگار بنائی گئی۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا کے حوالے سے یہ کہنا کہ وہاں دہشت گردی کے لیے موافق سیاسی ماحول فراہم کیا گیا‘ ریاستی سطح پر ایک غیر معمولی بیانیہ ہے۔ یہ جملہ دراصل اس خاموش معاہدے کے خاتمے کا اعلان تھا جس کے تحت کچھ علاقوں‘ کچھ گروہوں اور کچھ بیانیوں کو حساس سمجھ کر نظرانداز کیا جاتا رہا۔ افغانستان کو خطے میں دہشت گردی کا بیس آف آپریشن قرار دینا بھی اسی واضح ریاستی اعلان کا حصہ تھا۔ برسوں تک سفارتی مجبوریوں‘ عالمی دباؤ اور علاقائی سیاست کے باعث اس حقیقت کو نرم الفاظ میں بیان کیا جاتا رہا مگر اب ڈی جی آئی ایس پی آر نے دو ٹوک کہہ دیا ہے کہ القاعدہ‘ داعش‘ ٹی ٹی پی‘ بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں اور وہاں سے پورے خطے میں دہشت گردی پھیل رہی ہے۔ شام سے اڑھائی ہزار دہشت گردوں کی افغانستان آمد کا ذکر محض ایک اطلاع نہیں تھا بلکہ ایک وارننگ تھی کہ اگر ریاستیں سنجیدہ نہ ہوئیں تو یہ آگ سرحدیں نہیں دیکھے گی۔ پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے اعداد وشمار نے اس بیانیے کو مزید وزن دیا۔ پچھلے سال 27 خودکش حملے‘ جن میں سے 17 خیبر پختونخوا میں ہوئے‘ 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز‘ 2597 دہشت گردوں کی ہلاکت اور 1235 شہادتیں یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست اس جنگ کو نہ صرف لڑ رہی ہے بلکہ اس کی قیمت بھی ادا کر رہی ہے۔ خاص طور پر یہ بات کہ اب ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں‘ اس بات کی علامت ہے کہ ریاستی صلاحیت‘ انٹیلی جنس اور ردِعمل کا توازن تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہارڈ سٹیٹ کا تصور عملی شکل اختیار کرتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ کہنا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ فوج کی نہیں پوری قوم کی جنگ ہے محض ایک جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک فکری وضاحت تھی۔ یہ اس بیانیے کا رد تھا جو برسوں سے یہ کہتا آیا کہ یہ جنگ اوپر والوں کی ہے‘ یا کسی ادارے کی۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ریاست کمزور ہوتی ہے تو اس کا خمیازہ ہر شہری کو بھگتنا پڑتا ہے۔ یہ ثابت کرنے کے لیے شاید ذہن پر زیادہ زور نہ دینا پڑے کیونکہ واقعات اور مثالیں بے شمار ہیں۔ ہابز کے الفاظ میں‘ کمزور ریاست میں کوئی سکول محفوظ رہتا ہے‘ نہ بازار‘ نہ عبادت گاہ۔ یہی وجہ ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں بار بار بچوں‘ خواتین‘ مساجد اور عوامی مقامات کا ذکر آیا۔ یہ یاد دہانی تھی کہ اگر ریاست نے فیصلہ کن قدم نہ اٹھایا تو تشدد معمول بن جائے گا۔ بھارت کے کردار پر بات کرتے ہوئے بھی لہجہ غیر مبہم تھا۔ دہشت گردوں کو بطور پراکسی استعمال کرنا‘ مالی اور عسکری مدد فراہم کرنا اور آپریشن سندور جیسے اقدامات کا ذکر اس بات کا اعلان تھا کہ پاکستان دفاعی خاموشی کے بجائے واضح مؤقف اختیار کر رہا ہے۔ خاص طور پر یہ کہنا کہ پاکستان کی کارروائیاں دہشت گردوں اور مخصوص اہداف تک محدود رہیں جبکہ بھارت نے خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا دراصل ایک اخلاقی لکیر کھینچنے کی کوشش تھی۔
ہارڈ سٹیٹ کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست اندھا دھند طاقت استعمال کرے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ طاقت کا استعمال قانون‘ اخلاق اور واضح ہدف کے ساتھ ہو۔ ڈرونز‘ آرمڈ کواڈ کاپٹرز اور دہشت گردوں کا مساجد وعوامی مقامات کو استعمال کرنا اس بات کی علامت ہے کہ دہشت گردی اب نئی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ایسے میں نرم ریاستی رویہ دہشت گردوں کو جگہ دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہارڈ سٹیٹ پلس کا تصور مکمل ہوتا ہے۔
اس پریس کانفرنس کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ریاست یہ اعلان کر چکی ہے کہ پاکستان کی سالمیت کسی فرد‘ کسی جماعت یا کسی وقتی سیاسی فائدے سے بڑی ہے۔ یہ اعلان ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی گرے ایریا نہیں ہوگا‘ کوئی اچھا یا برا عسکریت پسند نہیں ہوگا اور کوئی ایسا بیانیہ قابلِ قبول نہیں ہو گا جو تشدد کو جواز فراہم کرے۔ یہ اعلان ہے کہ ہارڈ سٹیٹ اب ایک مجبوری نہیں بلکہ ایک شعوری انتخاب ہے۔ آخر میں سوال یہی رہ جاتا ہے کہ کیا معاشرہ اس اعلان کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہے یا نہیں؟ ہابز کے مطابق ریاست اپنی رِٹ قائم کر سکتی ہے مگر اسے برقرار رکھنے کے لیے عوامی قبولیت بھی ضروری ہوتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس نے ریاستی سمت واضح کر دی ہے۔ اب یہ ذمہ داری معاشرے‘ سیاست اور میڈیا پر ہے کہ وہ اس سمت کو کمزور کریں گے یا اس کا حصہ بنیں گے کیونکہ اگر اس اعلان کو سمجھا نہ گیا تو تاریخ ہمیں ایک بار پھر یہ سبق دے گی کہ کمزور ریاست میں سب کچھ جائز ہو جاتا ہے‘ سوائے امن کے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں