سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی نے عام سرمایہ کار سے لے کر عالمی مالیاتی اداروں تک سب کے ذہنوں میں ایک ہی سوال پیدا کیا ہے۔ کیا یہ اضافہ وقتی ہے یا دنیا کسی بڑے مالیاتی موڑ کی طرف بڑھ رہی ہے؟ کچھ حلقے خبردار کر رہے ہیں کہ سونے کی مارکیٹ کسی بھی لمحے کریش کر سکتی ہے جبکہ دیگر ماہرین کا دعویٰ ہے کہ آنے والے برسوں میں سونا دس لاکھ روپے فی تولہ تک جا سکتا ہے۔ ان متضاد دعووں کے بیچ سچ کیا ہے‘ اور جھوٹ کیا؟ اس سوال کا جواب صرف مارکیٹ چارٹس میں نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے بدلتے ہوئے رویوں میں چھپا ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آج سونے کی قیمتیں صرف طلب ورسد کا نتیجہ نہیں ‘ یہ قیمتیں ایک ایسی خاموش عالمی جنگ کا عکس ہیں جو ٹینکوں‘ طیاروں اور میزائلوں سے نہیں بلکہ کرنسی‘ بانڈز‘ دھاتوں اور اعتماد کے ہتھیاروں سے لڑی جا رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ ہے جس کی طاقت ڈالر‘ ٹریژری بانڈز اور عالمی مالیاتی اداروں سے جڑی ہوئی ہے‘ اور دوسری طرف چین ہے جو خاموشی سے سونا‘ چاندی‘ تانبا اور ریئر ارتھ منرلز کے ذریعے عالمی معیشت کی بنیادوں پر گرفت مضبوط کر چکا ہے۔ امریکی ڈالر کی طاقت کا دار ومدار اعتماد پر ہے۔ یہ اعتماد کہ امریکی معیشت مستحکم ہے‘ اس کے بانڈز محفوظ ہیں اور اس کا مالیاتی نظام دنیا کیلئے قابلِ بھروسا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یہی اعتماد امریکہ کو سپر پاور بناتا رہا لیکن جیسے ہی دنیا میں ڈی ڈالرائزیشن کی بات زور پکڑتی ہے‘ سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی حرکت شروع ہو جاتی ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے گزشتہ ایک دہائی میں چین‘ روس اور کئی ابھرتی ہوئی معیشتوں نے اپنے زرِمبادلہ کے ذخائر میں ڈالر کا تناسب کم کیا اور سونے کا حصہ بڑھایا ہے۔ صرف چین کے مرکزی بینک نے پچھلے چند برسوں میں سینکڑوں ٹن سونا خریدا‘ جبکہ امریکی بانڈز میں اس کی سرمایہ کاری بتدریج کم ہوتی گئی۔ یہ کوئی جذباتی فیصلہ نہیں بلکہ طویل مدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
چین نے ایک اور محاذ پر بھی خاموش مگر فیصلہ کن برتری حاصل کی ہے‘ اور وہ ہے دھاتوں کی پروسیسنگ۔ آج دنیا کا تقریباً 70 فیصد سونا‘ چاندی اور تانبا چین میں ریفائن یا پروسیس ہوتا ہے‘ جبکہ ریئر ارتھ منرلز میں چین کا کنٹرول 90 فیصد کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ان دھاتوں کے بغیر جدید ٹیکنالوجی‘ دفاعی نظام‘ الیکٹرک گاڑیاں‘ سمارٹ فونز اور جدید اسلحہ بن ہی نہیں سکتا۔ اب مدعا یہ نہیں کہ یہ دھاتیں کہاں سے نکلتی ہیں‘ بلکہ اصل مدعا یہ ہے کہ ان کی پروسیسنگ کس کے ہاتھ میں ہے۔ چین کے پاس وہ چابی ہے جس کے بغیر عالمی سپلائی چین آگے نہیں بڑھ سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے حالیہ برسوں میں ریئر ارتھ منرلز کو نیشنل سکیورٹی کا مسئلہ قرار دیا۔ کانگریس میں قوانین‘ پینٹاگون کی رپورٹس اور میڈیا میں بڑھتا ہوا شور دراصل اس دیر سے جاگنے کا نتیجہ ہے جس میں امریکہ نے دہائیوں تک فنانس پر تو توجہ دی مگر فزیکل رسورسز کو نظر انداز کیا۔ چین نے اسی خلا کو پُر کیا ہے۔ سونے کی قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ کے پیچھے طاقت کی یہی کشمکش کارفرما ہے۔ جب بھی ڈی ڈالرائزیشن کی بات آگے بڑھتی ہے یا کوئی ملک یہ اشارہ دیتا ہے کہ وہ تجارت سونے یا کسی متبادل نظام میں کر سکتا ہے‘ مارکیٹ میں بے چینی پھیل جاتی ہے۔ کبھی گولڈ فیوچرز پر دباؤ‘ کبھی سلور میں اچانک گراوٹ اور کبھی یہ بیانیہ کہ قیمتی میٹل میں سرمایہ کاری خطرناک ہے۔ یہ محض معاشی حرکات نہیں بلکہ نفسیاتی جنگ کے ہتھیار ہیں۔
چین اس کے برعکس دھاتوں کو صرف سرمایہ کاری نہیں بلکہ ریاستی طاقت کے آلے کے طور پر دیکھتا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ذریعے اس نے افریقہ‘ ایشیا اور لاطینی امریکہ میں معدنی وسائل تک براہِ راست رسائی حاصل کی ہے۔ وہ ممالک جو کبھی صرف خام مال برآمد کرتے تھے‘ اب چین کے ساتھ پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے معاہدے کر رہے ہیں۔ اس طرح چائنہ سپلائی چین کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالتا جا رہا ہے۔ یہ جنگ دراصل دو معاشی ماڈلز کی جنگ ہے۔ ایک طرف قرض پر کھڑی معیشت جہاں بانڈز‘ کریڈٹ اور لیوریج سب کچھ ہیں۔ دوسری طرف وہ ماڈل جو فیکٹری‘ دھات‘ مشین اور سپلائی چین کو بنیاد بناتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بحران کے وقت کاغذی اثاثے جل جاتے ہیں مگر دھات اپنی قدر برقرار رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر یقینی عالمی حالات میں سونا ہمیشہ محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا رہا ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی بھی اسی بڑی جنگ کا حصہ ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ مستقبل ڈیجیٹل ہو مگر ایسا ڈیجیٹل نظام جس کی چابیاں صرف امریکہ کے ہاتھ میں ہوں۔ چین بھی ڈیجیٹل مستقبل کا حامی ہے مگر وہ اسے میٹل بیک اَپ کے ساتھ جوڑ رہا ہے۔ ڈیجیٹل یوآن کے پیچھے خاموشی سے سونے کی کہانی اسی خوف کی عکاس ہے جس نے امریکہ کو محتاط کر رکھا ہے۔ اگر کل کو امریکہ اور چین کے درمیان براہِ راست تصادم ہوا بھی تو پہلا حملہ کسی سمندر میں نہیں ہو گا بلکہ کرنسی مارکیٹ میں ہو گا۔ بانڈ ییلڈز‘ گولڈ فیوچرز‘ برآمدی پابندیاں اور سپلائی چین کی رکاوٹیں وہ میزائل ہوں گے جو کاغذوں پر دستخط کی صورت میں چلیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ سونے کی قیمتیں کبھی آسمان کو چھوتی نظر آتی ہیں اور کبھی اچانک نیچے آ جاتی ہیں۔ اس تمام صورتحال میں اصل سوال عام آدمی کیلئے یہ ہے کہ کیا سونا خریدا جائے یا نہیں؟ اس کا سادہ جواب ہے نہیں‘ کیونکہ یہ فیصلہ وقتی قیمت سے زیادہ آپ کے مقصد اور مدت پر منحصر ہے۔ مختصر مدت میں سونے کی قیمتیں کریش بھی کر سکتی ہیں کیونکہ مارکیٹ میں ہیرا پھیری‘ شرح سود اور سیاسی فیصلے فوری اثر ڈالتے ہیں۔ مگر طویل مدت میں‘ جب عالمی نظام عدم استحکام کا شکار ہو‘ سونا اپنی حیثیت برقرار رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے عام آدمی کو یہ نہیں بتایا جا رہا کہ اس کی کرنسی‘ اس کی بچت اور اس کی تنخواہ کس عالمی جنگ کا حصہ بن چکی ہے۔ سونا‘ چاندی اور ڈالر اب محض سرمایہ کاری کے ذرائع نہیں رہے بلکہ عالمی صف بندی کی علامت بن چکے ہیں۔ اس صف بندی میں غیر جانبدار رہنے کی گنجائش روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ جنگ خاموش اور پیچیدہ ہے مگر اس کے نتائج فیصلہ کن ہوں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو جنگیں خاموشی سے لڑی جاتی ہیں وہی سب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔ سونے کی قیمتوں میں آج کی ہلچل دراصل اسی خاموش عالمی جنگ کی گونج ہے‘ اور جو اس گونج کو نظر انداز کرے گا وہ کل کے زلزلے کیلئے تیار نہیں ہو گا۔
سونے کی قیمتوں میں آج کی غیر معمولی ہلچل کسی ایک ملک‘ کسی ایک پالیسی یا کسی وقتی خوف کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی نظام کی علامت ہے جو اندر سے اعتماد کھو چکا ہے۔ وہ نظام جس نے برسوں قرض‘ کریڈٹ اور کاغذی وعدوں کو اصل دولت بنا کر پیش کیا‘ آج خود اپنی ساکھ کے بحران میں مبتلا ہے۔ جب ریاستیں پابندیاں لگاتی ہیں‘ اثاثے منجمد کرتی ہیں‘ بینکنگ راستے بند کیے جاتے ہیں اور کرنسی کو طاقت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو دنیا کسی نظریے یا وعدے کی نہیں بلکہ زمین سے نکلنے والی حقیقت کی طرف لوٹتی ہے۔ سونا اسی حقیقت کا نام ہے اور یہ محض ایک دھات نہیں بلکہ اس تلخ تاریخی تجربے کی یاددہانی ہے کہ طاقت ہمیشہ کاغذ پر نہیں ہوتی۔ جو لوگ سونے کی قیمتوں کو محض چارٹ‘ ٹرینڈ یا افواہ سمجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں وہ اس بنیادی تبدیلی کو نہیں دیکھ رہے جو عالمی معیشت کی جڑوں میں ہو رہی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ سونا آج مہنگا ہے یا کل سستا ہو جائے گا‘ اصل سوال یہ ہے کہ کل کی دنیا میں کس چیز پر بھروسا باقی رہے گا؟ تاریخ کا سبق بڑا سادہ مگر بے رحم ہے‘ جب بے یقینی پیدا ہوتی ہے تو قیمتیں خود بخود بڑھنے لگتی ہیں۔ آج کی یہ ہلچل کسی انجام کا اعلان نہیں بلکہ ایک نئے دور کی دستک ہے‘ جو اسے وقتی شور سمجھ کر ٹال دیں گے وہ کل یہ پوچھتے رہ جائیں گے کہ یہ سب اچانک کیسے ہو گیا؟ سونا مہنگا اس لیے نہیں ہو رہا کہ لوگ زیادہ سونا خرید رہے ہیں بلکہ اس لیے ہو رہا ہے کہ دنیا میں بے یقینی بڑھ گئی ہے اور یہی اس خاموش عالمی جنگ کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔