جب کسی ملک کے گلی کوچوں میں غربت کی آہیں سنائی دینے لگیں‘ جب مائیں اپنے بچوں کو آدھی روٹی کھلا کر خود پانی پی کر سو ئیں‘ جب باپ روزگار کی تلاش میں دن بھر در در کی ٹھوکریں کھا کر خالی ہاتھ لوٹے تو یہ صرف معاشی نہیں اخلاقی بحران بھی ہوتا ہے۔ ملک عزیز اس وقت ایسے ہی بحران سے دوچار ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں غربت کی شرح تقریباً 29 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اندازہ ہے کہ سات کروڑ سے زائد پاکستانی ایسے ہیں جن کی ماہانہ آمدن آٹھ ہزار روپے سے کم ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بجلی‘ آٹے‘ دودھ کے نرخ اور کرایوں کے درمیان پس رہے ہیں۔ غربت سے متعلق اعداد و شمار کے پیچھے کہانیاں بھی چھپی ہوتی ہیں‘ خالی دیگچی کی کہانی‘ تعلیم سے محروم بچے کی کہانی‘ دوائی نہ ملنے کی کہانی۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں غذائی قلت اور سٹنٹنگ کی شرح تشویشناک ہے۔ ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں‘ ان میں ایک کروڑ سے زائد کا تعلق پنجاب سے بتایا جاتا ہے۔ جب یہ حقائق منہ چڑاتے ہوں تو ریاست کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟
دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ ملک کا بیرونی قرضہ 138 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ مجموعی قرضہ جی ڈی پی کے تقریباً 70 فیصد کے قریب ہے۔ مالی خسارہ چھ فیصد کے آس پاس ہے۔ سودی ادائیگیاں حکومتی آمدن کا بڑا حصہ نگل رہی ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جو اگر ترقیاتی منصوبوں‘ سکولوں‘ ہسپتالوں‘ صاف پانی اور خوراک کی فراہمی پر خرچ ہو تو شاید لاکھوں زندگیاں آسان ہو سکتی ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس قرض سے روزگار پیدا ہوا‘ کیا صنعت کو سہارا ملا‘ کیا زراعت مضبوط ہوئی یا ہم صرف پرانے قرضوں کا سود ادا کرنے کیلئے نیا قرض لیتے رہے؟ پاکستان سٹاک مارکیٹ پچھلے ہفتوں سے شدید مندی کا شکار ہے‘ جومحض تکنیکی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ اعتماد کے بحران کی نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ غیرملکی سرمایہ کاری گزشتہ 25 برسوں سے تقریباً جمود کا شکار ہے ۔ جب مقامی سرمایہ کار ہی پیچھے ہٹنے لگیں تو بیرونی سرمایہ کار کیوں آئیں گے؟ غیریقینی پالیسیوں‘ بار بار ٹیکسوں میں اضافے‘ مہنگی توانائی‘ کمزور اداروں اور غیردستاویزی معیشت نے ماحول کو بگاڑ دیا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف معاشی نہیں‘ اخلاقی بھی ہے۔ اسلامی تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حکمران کی ذمہ داری صرف خزانہ بھرنا نہیں‘ رعایا کا پیٹ بھرنا بھی ہے۔ حضرت عمرؓ کا وہ قول تاریخ میں محفوظ ہے کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر جائے تو میں جوابدہ ہوں گا۔ یہ محض ایک جملہ نہیں‘ حکمرانی کا فلسفہ ہے۔ حکمران کی عظمت اس کی گاڑیوں سے نہیں‘ اس کے تام جھام سے نہیں بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ اس کے دور میں کمزور کی حالت کیا تھی! آج جب ملک شدید مالی دباؤ میں ہے‘ عام آدمی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے‘ ایسے میں اگر لگژری طیاروں کی خریداری‘ بیوروکریسی کیلئے قیمتی گاڑیوں کی منظوری‘ فیول الاؤنسز میں اضافہ اور سرکاری رہائشگاہوں کی تزئین و آرائش کی خبریں سامنے آئیں تو یہ تضاد چبھتا ہے۔ پنجاب میں نئی ٹرانسپورٹ پالیسی کے تحت اعلیٰ عہدیداروں کو ایک سے زائد گاڑیاں رکھنے اور سینکڑوں لیٹر ماہانہ پٹرول کی اجازت ایسے وقت میں دی گئی ہے جب عوام کو کفایت شعاری کا درس دیا جا رہا ہے۔ یہاں سوال گاڑی یا جہاز کا نہیں بلکہ ان حکومتی اقدامات سے ملنے والے پیغام کا ہے۔ پیغام یہ ہے کہ قربانی عوام دیں اور ریاستی اشرافیہ عیاشی کرے ؟ اگر ملک میں غربت بڑھ رہی ہے‘ اگر حقیقی آمدن کم ہو رہی ہے‘ اگر غذائی عدم تحفظ میں اضافہ ہو رہا ہے تو کیا ریاستی اخراجات میں بھی اسی تناسب سے احتیاط نہیں ہونی چاہیے؟ دنیا بھر میں مالی بحران کے ادوار میں حکمران علامتی فیصلے کرتے ہیں۔ اپنی تنخواہیں کم کرتے ہیں‘ سرکاری آسائشوں میں کٹوتی کرتے ہیں تاکہ عوام کو یہ احساس ہو کہ ہم سب ایک کشتی میں ہیں۔ مگر ہمارے ہاں ہمیشہ سے دو کشتیاں رہی ہیں‘ ایک جس میں عوام بیٹھے ہیں اور دوسری وہ جس میں اشرافیہ ہے۔ پنجاب میں غربت کے پھیلاؤ اور سماجی اشاریوں میں تنزلی کے باوجود اگر سرکاری اخراجات میں اضافہ ہو تو سوال تو اٹھے گا کہ کتنے نئے سکول بنے اور کتنے سکولوں میں انفراسٹرکچر کے نام پر مبینہ لوٹ مار کی گئی؟ کتنے ہسپتال اَپ گریڈ ہوئے یا ان کی اپ گریڈ کے نام پر کتنی مبینہ لوٹ مار کی گئی؟ کتنے دیہی علاقوں تک صاف پانی حقیقتاً پہنچا اور کتنے دیہات کے نام پر کاغذی سکیمیں بنا کر فنڈز جاری کر دیے گئے؟ کتنے نوجوانوں کو باعزت روزگار ملا اور روزگار کے کتنے دعوے صرف پریس ریلیز تک محدود رہے؟ جب ملک میں غربت کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہو‘ جب بچے غذائی قلت سے متاثر ہوں اور ماں باپ علاج اور تعلیم کے اخراجات اٹھانے سے قاصر ہوں تو یہ سوال محض سیاسی نہیں رہتے‘ یہ وجودی سوال بن جاتے ہیں۔ جب شہروں میں فٹ پاتھوں پر سونے والوں کی تعداد بڑھتی جائے‘ جب دیہات میں کھیت بیچ کر قرض اتارے جائیں‘ جب نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے دربدر پھریں‘ جب ہر سال بہترین دماغ ملک چھوڑ کر جانے کو ترجیح دیں تو ریاست سے یہی پوچھا جائے گا کہ ترقی کے دعوؤں کا عام آدمی کی زندگی میں عملی عکس کہاں ہے؟ کہاں ہے غریب کا حق؟ کہاں ہے غریب عوام سے لیے گئے ٹیکس کا حساب؟ کیا بیوروکریسی میرٹ پر تعینات ہوئی؟ یا من پسند تعیناتیاں ہوئیں اور پھر جو ترقیاتی بورڈ ہوا اس میں مبینہ ان افسران کو ترقیاں مل گئیں جن کے حوالے سے انتہائی خراب رپورٹس تھیں‘ مگر ایک صوبے کے اعلیٰ افسر نے اپنی گارنٹی پر ان کو ترقیاں دلوا دیں‘ جب کسی کرپٹ افسر کی گارنٹی پر ترقیاں دی جائیں گی تو پھر سوالات جنم نہیں لیں گے؟ اگر ان سوالوں کے جواب مبہم ہوں اور اسی دوران آسائشوں کے فیصلے نمایاں ہوں تو اعتماد کیسے قائم رہے گا؟
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ حکمران امانت دار ہوتا ہے۔ خزانہ اور عہدہ اس کی ملکیت نہیں‘ عوام کی امانت ہے۔ قرآن میں عدل کا حکم ہے۔ عدل صرف عدالتوں میں نہیں‘ بجٹ میں بھی ہونا چاہیے۔ جب بجٹ کا بڑا حصہ سودی ادائیگیوں میں چلا جائے اور ترقیاتی شعبے سکڑ جائیں تو یہ معاشی کمزوری کے ساتھ ساتھ ترجیحات کی کمزوری بھی ہے۔ یہ کالم کسی ایک فرد پر حملہ نہیں‘ یہ ایک سوچ پر سوال ہے۔ وہ سوچ جس میں طاقت اور اختیار کو سہولت سمجھ لیا گیا ہے‘ ذمہ داری نہیں۔ اگر ایک طرف ماں اپنے بچے کو دو وقت کی روٹی نہیں کھلا پا رہی اور دوسری طرف سرکاری سطح پر آسائشیں بڑھ رہی ہیں تو یہ صرف معاشی فرق نہیں‘ اخلاقی خلیج ہے۔ پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے اعتماد۔ اعتماد تب بحال ہو گا جب حکمران یہ دکھائیں کہ وہ بھی اسی مشکل کا سامنا کر رہے ہیں جو عوام کر رہے ہیں۔ جب وہ اپنے اخراجات میں مثال قائم کریں گے‘ جب ٹیکس نظام کو منصفانہ بنایا جائے گا‘ جب غیر دستاویزی معیشت کو نظام میں لایا جائے گا‘ جب ترقیاتی ترجیحات کو واقعی تعلیم‘ صحت اور روزگار پر مرکوز کیا جائے گا۔ ورنہ غربت کے یہ اعداد و شمار اگلے برس مزید بڑھ سکتے ہیں۔ قرض کا پہاڑ مزید بلند ہو سکتا ہے۔ اور سب سے خطرناک بات یہ کہ عوام کا اعتماد مزید کمزور ہو سکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف بیرونی دشمنوں سے نہیں‘ اندرونی ناانصافیوں سے بھی کمزور ہوتی ہیں۔ اگر ہمارے حکمرانوں نے اپنی ترجیحات نہ بدلیں‘ اگر انہوں نے عوامی فلاح کو مرکز میں نہ رکھا‘ اگر اشرافیہ اور عام آدمی کے درمیان بڑھتے فاصلے کو کم نہ کیا تو معیشت کے اعداد و شمار چاہے جیسے بھی ہوں‘ معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہوتا جائے گا۔ سوال اب بھی وہی ہے: کیا ہم اس آئینے میں دیکھنے کی ہمت رکھتے ہیں؟ کیا ہم یہ ماننے کو تیار ہیں کہ مسئلہ صرف عالمی حالات نہیں‘ ہماری اپنی ترجیحات بھی ہیں؟ اگر اس ملک کے حکمران واقعی تاریخ میں سرخرو ہونا چاہتے ہیں تو انہیں یاد رکھنا ہوگا کہ اقتدار عارضی ہے‘ مگر عوام کی دعائیں اور آہیں دیرپا ہوتی ہیں۔ اور جب آہیں بڑھ جائیں تو سلطنتیں لرز جایا کرتی ہیں۔