طاقتوروں کا پردہ فاش

جیفری ایپسٹین کی نئی فائلز محض ایک جرم کی داستان نہیں بلکہ اس عہد کی اجتماعی تصویر ہیں جہاں طاقت‘ دولت اور اثر ورسوخ نے اخلاقیات کو پس پشت ڈال دیا۔ یہ فائلز ایک ایسے خفیہ عالمی نظام کا پردہ چاک کرتی ہیں جس میں صدور‘ شہزادے‘ ارب پتی‘ سیاستدان‘ کاروباری دماغ اور شاہی خاندان ایک ہی دائرے میں گھومتے دکھائی دیتے ہیں اور جہاں قانون طاقتور کی دہلیز پر خاموش ہو جاتا ہے۔ تقریباً 30 لاکھ صفحات‘ ہزاروں وڈیوز اور لاکھوں تصاویر پر مشتمل ایپسٹین فائلز کی آخری کھیپ محض عدالتی ریکارڈ نہیں بلکہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں دنیا کے طاقتور چہرے اپنی اصل صورت میں نظر آتے ہیں۔ ان دستاویزات میں محض ناموں کی فہرست نہیں بلکہ تعلقات‘ ملاقاتوں‘ خفیہ پیغامات‘ نجی دوروں اور ایسے روابط کی تفصیل ہے جو عالمی سیاست اور اخلاقیات کے تمام دعوؤں پر سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ ایپسٹین محض ایک فرد نہیں تھا وہ ایک دروازہ تھا اور اس دروازے سے گزرنے والوں میں وہ لوگ شامل تھے جو خود کو قانون‘ اخلاق اور جوابدہی سے بالاتر سمجھتے تھے۔ ان فائلز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام بار بار سامنے آیا اور خود ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ مواد نہیں دیکھا اور امریکی محکمہ انصاف بھی واضح کر چکا ہے کہ صرف نام آ جانا کسی جرم کا ثبوت نہیں اور ٹرمپ پر ایپسٹین سے متعلق کسی جرم کا الزام کبھی عائد نہیں ہوا۔ یہ بات قانونی طور پر درست ہو سکتی ہے‘ مگر سوال قانون کا نہیں اعتماد کا ہے۔ جب نام‘ روابط اور ملاقاتیں بار بار ایک ہی دائرے میں دکھائی دیں تو عوامی تشویش کو محض ایک جملے سے رفع نہیں کیا جا سکتا۔ سیاست صرف عدالت سے نہیں عوامی ساکھ سے بھی چلتی ہے۔ یہی سوال شہزادہ اینڈریو کے معاملے میں اور زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔ بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں شہزادہ اینڈریو نے دعویٰ کیا تھا کہ 2008ء کے بعد انہوں نے ایپسٹین سے تعلق ختم کر لیا مگر بعد میں سامنے آنے والی ای میلز‘ تصاویر اور ملاقاتوں کے شواہد اس دعوے کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔ ستمبر 2010ء کی ای میلز‘ نجی وقت کی درخواستیں‘ بکنگھم پیلس کی ملاقاتیں اور مبینہ متاثرہ خواتین کے الزامات شاہی وقار کے اس تصور کو شدید دھچکا دیتے ہیں جو خود کو اخلاقی بالادستی کی علامت سمجھتا تھا۔ برطانوی عوام آج بھی اس سوال پر رکے ہوئے ہیں کہ اگر سب کچھ جھوٹ تھا تو خاموشی کیوں؟
ایپسٹین فائلز میں بل گیٹس کا نام بھی آیا‘ جنہوں نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کیا اور انہیں سراسر جھوٹ قرار دیا اور روسی لڑکیوں‘ بیماری اور ذاتی تعلقات سے متعلق دعوؤں پر گیٹس کا مؤقف اپنی جگہ مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ان فائلز نے دنیا کے امیر ترین طبقے کی نجی زندگیوں کو عوامی کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو دنیا کو شفافیت‘ اخلاقیات اور احتساب کے لیکچر دیتا رہا مگر خود ہمیشہ پوچھ گچھ سے ماورا رہا ہے۔ معاملہ یہیں نہیں رکتا بلکہ سابق امریکی صدر جارج بش سینئر کے خلاف سامنے آنے والے الزامات نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا۔ اگرچہ ان دعوؤں کی نوعیت‘ ذرائع اور بیانیہ خود شدید سوالات کی زد میں ہے اور بعض بیانات اتنے غیر معمولی اور خوفناک ہیں کہ وہ صحافت اور سازشی تھیوری کے درمیان ایک دھندلی لکیر کھینچ دیتے ہیں۔ ایلون مسک نے واضح کیا کہ وہ کبھی ایپسٹین کے جزیرے پر نہیں گئے اور انہوں نے بارہا آنے کی دعوتیں مسترد کی ہیں۔ ان کا بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان فائلز میں موجود ہر نام ایک جیسا نہیں‘ اور ہر تعلق ایک جیسی نوعیت کا نہیں ہوتا۔ مگر سوال پھر وہی رہتا ہے اگر سب کچھ اتنا ہی بے ضرر تھا تو ایپسٹین کا دائرہ اتنا وسیع‘ اتنا طاقتور اور اتنا محفوظ کیوں تھا؟ کون سا نظام تھا جو برسوں تک اس نیٹ ورک کو تحفظ دیتا رہا؟ یہ فائلز عالمی سیاست تک بھی پھیلتی ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ذکر‘ اسرائیل کے دورے‘ ایپسٹین کے مبینہ مشورے اور بھارتی اپوزیشن کے سخت سوالات اس بات کی علامت ہیں کہ ایپسٹین محض ایک امریکی مسئلہ نہیں تھا بلکہ ایک عالمی نیٹ ورک کا مرکز تھا۔ ناروے کی کراؤن پرنسز میٹے مارِٹ کا اعتراف شاید ان فائلز کا سب سے غیر معمولی پہلو ہے‘ جہاں ایک شاہی شخصیت نے تسلیم کیا کہ وہ ایپسٹین کے پس منظر کو سمجھنے میں ناکام رہیں۔ یہ اعتراف اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ ایپسٹین محض دولت کے بل پر نہیں بلکہ اعتماد‘ رسائی اور تعلقات کی نفسیات سے کھیل کر طاقتوروں کے قریب پہنچا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اخلاقیات‘ سیاست اور طاقت ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو جاتی ہیں۔ ان سب کے بیچ غِسلین میکسویل کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ نئی تصاویر‘ گواہیاں اور عدالتی بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ نیٹ ورک محض مالی یا سماجی نہیں بلکہ منظم‘ دانستہ اور مسلسل نوعیت کا تھا۔ یہ فائلز ہمیں یہ بھی دکھاتی ہیں کہ طاقتور حلقے کس طرح ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ کبھی خاموشی سے‘ کبھی قانونی موشگافیوں سے‘ کبھی میڈیا کے ذریعے بیانیہ بدل کر اور کبھی عوامی توجہ کو کسی اور بحران کی طرف موڑ کر تحفظ فراہم کیا جاتا رہا ہے اور اب بھی ایسے ہی ہونے کی اطلاعات زبان زد عام ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انصاف عدالتوں سے نکل کر عوامی شعور کا محتاج بن جاتا ہے۔ جب عوامی شعور کو بھی کنٹرول کر لیا جائے تو احتساب محض ایک لفظ رہ جاتا ہے۔اب سوال یہ نہیں کہ دنیا میں ایسا نظام کیسے قائم ہوا بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم اپنے گرد دیکھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں یا نہیں؟کیونکہ اگر یہی پیمانہ پاکستان پر لاگو کیا جائے تو تصویر زیادہ مختلف نہیں لگتی۔ یہاں بھی طاقت‘ سیاست اور مفاد کا گٹھ جوڑ رہا ہے۔ یہاں بھی فائلیں بنتی ہیں‘ دبتی ہیں‘ کھلتی کم اور بند زیادہ کی جاتی ہیں۔ کرپشن کے الزامات لگتے ہیں‘ ختم ہوتے ہیں اور اداروں کو استعمال کیا جاتا ہے‘ یہاں بھی احتساب کے نعرے بہت لگے‘ مگر انجام ہمیشہ طاقت کے حق میں نکلتا ہی دیکھا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر پاکستان میں کبھی واقعی غیر جانبداری سے فائلیں کھل گئیں تو کیا ہو گا؟ اگر وہ فائلیں سامنے آ گئیں جن میں یہ درج ہے کہ کس سیاستدان نے اقتدار کو ذاتی مفاد کیلئے استعمال کیا‘ کس سابق وموجودہ حکمران نے کب قومی فیصلوں کو خفیہ سودے میں بدلا؟ کس نے کب عوامی اعتماد کو اقتدار کی سیڑھی بنایا‘ کس نے کب قومی وسائل کو اپنی سیاست کی سانسوں کیلئے جلایا اور کس نے کب پاکستان کو عالمی منڈی میں اپنی ذاتی بقا کے عوض گروی رکھا‘ تو شاید کوئی بھی دودھ کا دھلا ثابت نہ ہو! یہاں بڑے بڑے طرم خان ہیں جن کی حب الوطنی تقریروں میں اور سودے بازی فائلوں میں لکھی گئی۔ یہاں وہ چہرے بھی ہیں جو ہر آمر‘ ہر جمہور اور ہر عبوری دور میں خود کو ناگزیر ثابت کرتے رہے۔ اگر ان سب کی فائلیں ایک ایک کر کے کھل گئیں تو یہ انکشاف ہوگا کہ پاکستان کو کس نے‘ کب اور کیسے اپنے مفادات کیلئے استعمال کیا۔
یہ طوفان ریاست کے خلاف نہیں ہو گا‘ سوال اٹھتا ہے کہ یہ طوفان ان سیاستدانوں اور سابق حکمرانوں اور ان کو زبردستی لانے والوں کے خلاف ہوگا جنہوں نے ریاست کو ڈھال بنا کر اپنے مفادات پورے کیے ہوں گے؟ ریاست پاکستان مسئلہ نہیں‘ مسئلہ وہ سیاسی اشرافیہ ہے جس نے ریاست کو ذاتی کاروبار سمجھا‘ اقتدار کو موروثی حق بنایا اور احتساب کو کمزور کی سزا بنا دیا اور اپنے مفادات کیلئے مل کر اپنے مطابق قانون سازی کی‘ اپنے مطابق اداروں کو چلایا اور غریب عوام کے خون پسینے سے اکٹھے کیے گئے ٹیکس پر وزنی پاؤں رکھ کر ان کے مسائل‘ ان کی آوازیں دفن کر کے اپنے اور اپنے حواریوں کیلئے عہدے لینے اور مفادات لینے کو ترجیح دی۔ اگر فائلیں کھلیں تو تاریخ سوال نہیں پوچھے گی بلکہ سیدھا فیصلہ سنائے گی اور شاید یہی وہ لمحہ ہوگا جب طاقت پہلی بار جواب دہ ٹھہرے گی۔ یہی ایپسٹین فائلز کا اصل سبق ہے‘ اور یہی وہ سچ ہے جس سے طاقت ہمیشہ خوفزدہ رہتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں