کراچی سرکلر ریلوے سمیت مضافاتی ٹرین سروسز کی بحالی کا فیصلہ

کراچی سرکلر ریلوے سمیت مضافاتی ٹرین سروسز کی بحالی کا فیصلہ

وزیراعلیٰ کی وزیر ریلوے حنیف عباسی سے ملاقات، پٹڑیوں کی مرمت، ٹریکس کے ساتھ گرین کوریڈورز کے قیام پر گفتگو وفاقی و صوبائی حکومتوں میں مربوط فریم ورک پر زور، مراد علی شاہ کی ریلوے زمین واگزار کرانے کیلئے تعاون کی یقین دہانی

کراچی، سکھر (سٹاف رپورٹر، بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی سے ملاقات میں کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) سمیت مضافاتی ٹرین سروسز کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے ۔ ملاقات میں پرانی ریلوے پٹڑیوں کی مرمت، کراچی۔روہڑی اور کراچی۔جیکب آباد (بذریعہ کوٹری، دادو) روٹس پر نئی ٹرین سروسز کے آغاز اور شہری ٹرانسپورٹ کی بہتری کیلئے گرین کوریڈورز کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزرا، اعلیٰ سرکاری افسران اور پاکستان ریلوے کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں کراچی میں بڑھتے ہوئے ٹرانسپورٹ مسائل کے حل کیلئے مضافاتی ریلوے نظام کو مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا اور کہا گیا کہ کراچی سرکلر ریلوے شہریوں کیلئے سستا اور ماحول دوست سفری حل فراہم کر سکتا ہے۔

وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کے سی آر کی بحالی کے بعد بی آر ٹی سسٹمز اس کے فیڈر کے طور پر کام کریں گے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے سی آر کا جامع منصوبہ تیار کرے گا جسے نجی شعبے کے اشتراک سے نافذ کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وفاق اور صوبے کے درمیان مربوط فریم ورک کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انفرااسٹرکچر کی بحالی، بہتر شیڈولنگ اور باقاعدہ آپریشن کیلئے مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے ۔ انہوں نے ریلوے زمین واگزار کرانے کیلئے مکمل انتظامی تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ کراچی میں مضافاتی ٹرین سروسز کی بحالی کیلئے پاکستان ریلوے پرعزم ہے اور مشترکہ کوششوں سے اسے جدید اور قابل اعتماد نظام میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے ملیر ہالٹ پر انڈر پاس کی تعمیر کیلئے این او سی جاری کرنے کی ہدایت بھی دی۔اجلاس میں کراچی کینٹ سے جمعہ گوٹھ تک ریلوے کوریڈور کے ساتھ گرین بیلٹس اور شجرکاری کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا جبکہ گیلانی اسٹیشن، گلستان جوہر اور عیسیٰ نگری سمیت مختلف مقامات کا جائزہ لیا گیا۔مزید برآں کراچی سے روہڑی اور کراچی سے جیکب آباد تک ٹرین سروس بحال کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ تجاوزات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی اور عوامی انفرااسٹرکچر کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔دریں اثنا وزیر ریلوے حنیف عباسی نے سکھر ایوان صنعت و تجارت کے دورے کے موقع پر بتایا کہ روہڑی ریلوے جنکشن کی ازسرنو تعمیر جاری ہے جسے 6 ماہ میں مکمل کیا جائے گا، جبکہ خانپور سے کوٹری تک 480 کلومیٹر ریلوے ٹریک کی تعمیر ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے ترجیحی منصوبوں میں شامل ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں