ترقیاتی فنڈ 4گنا بڑھا کر3ہزارارب کرنے کی تجویز مسترد

ترقیاتی فنڈ 4گنا بڑھا کر3ہزارارب کرنے کی تجویز مسترد

وزارت منصوبہ بندی نے آئندہ مالی سال میں ترقیاتی فنڈ بڑھانے کی تجویز دی وزارت خزانہ نے انکار کر دیا،بلوچستان کو سب سے زیادہ حصہ ملنے کاامکان

اسلام آباد (مدثر علی رانا)باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزارت منصوبہ بندی کی تجویز ہے کہ آئندہ مالی سال2026-27کے دوران رواں مالی سال کی نسبت ترقیاتی منصوبوں پر 4 گنا تک اضافی فنڈمختص کیا جائے اور ترقیاتی منصوبوں پر 3 ہزار ارب روپے خرچ کیے جائیں۔ تاہم وزارت خزانہ نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور اتنی بڑی رقم فراہم کرنے سے انکار  کر دیا ۔ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کیلئے وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے 300 سے زائد نئے ترقیاتی منصوبے وزارت منصوبہ بندی کو بھجوائے گئے ہیں جن کی مجموعی لاگت تقریباً 7 ہزار ارب روپے تک بنتی ہے تاہم وزارت منصوبہ بندی صرف 10 فیصد نئے منصوبوں کو پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے پر غور کر رہی ہے جبکہ ترجیح جاری منصوبوں کی تکمیل کو دی جائے گی۔رواں مالی سال جولائی سے اپریل تک ترقیاتی منصوبوں پر 450 ارب روپے سے زائد خرچ ہو چکے ہیں جبکہ مئی اور جون میں مزید 370 ارب روپے کے اخراجات متوقع ہیں۔

مجموعی طور پر رواں مالی سال کیلئے 837 ارب روپے خرچ ہونے کا امکان ہے جو جی ڈی پی کا تقریباً 0.65 فیصد بنتا ہے ۔اس وقت ملک میں تقریباً 1100 ترقیاتی منصوبے جاری ہیں جن کی مجموعی لاگت 13 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان منصوبوں پر اب تک 4 ہزار ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں اور 9 ہزار ارب روپے سے زائد کا تھرو فارورڈ موجود ہے ۔ آئندہ مالی سال کیلئے پی ایس ڈی پی میں نئے منصوبوں کا حصہ 10 فیصد جبکہ 90 فیصد فنڈز جاری منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے ۔ وفاق نے صوبائی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کو پی ایس ڈی پی سے نکال دیا ہے ۔ذرائع کے مطابق بلوچستان کو ترقیاتی بجٹ میں سب سے زیادہ حصہ ملنے کا امکان ہے جبکہ دیگر صوبوں کو نسبتاً کم شیئر دیا جائے گا اور صوبوں کو وفاقی کی بجائے اپنے صوبائی ڈویلپمنٹ پروگرام سے ترقیاتی اخراجات پورے کرنا ہوں گے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں