ای سی سی :جبری مشقت سے تیاراشیا کی درآمد پر پابندی
گاڑیاں منگوانے کی عارضی اجازت،گوادرسے گدھے کا گوشت برآمد کیاجائے گا ہاکی ٹیم کیلئے 3 کروڑ انعامات کی منظوری دیدی گئی ،بجلی معاہدوں کا معاملہ موخر
اسلام آباد(دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ای سی سی کا اجلاس ہوا جس دوران مختلف وزارتوں کیلئے فنڈز کی منظوری دے دی گئی۔ ای سی سی کے اجلاس میں پی آئی اے کے واجبات کیلئے 5 ارب 98 کروڑ روپے کی منظوری دیدی گئی، پنشن، تنخواہوں اور میڈیکل ادائیگیوں کیلئے فنڈز جاری ہوں گے ۔وزارت خزانہ کے مطابق گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی عارضی درآمد کی اجازت دینے ، گوادر سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد کی منظوری دیدی گئی، بجلی کمپنیوں کے معاہدے کا معاملہ مزید غور کیلئے بھیج دیا گیا۔ای سی سی نے جبری مشقت سے بنی اشیاء کی درآمد پر پابندی کا فیصلہ کیا ، بلوچستان میں افسران کیلئے 31 کروڑ 10 لاکھ روپے ، نیب کی ڈیجیٹل تبدیلی کیلئے 37 کروڑ 20 لاکھ روپے اور قومی ہاکی ٹیم کیلئے 3 کروڑ روپے انعام کی منظوری دے دی گئی۔اجلاس میں ای سی سی کو مہنگائی کی صورت حال پر بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ ضروری اشیاء کی قیمتیں مستحکم ہونا شروع ہوگئیں۔
اجلاس میں کابینہ ڈویژن کے تحت کینابیز کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (سی سی آر اے ) کی تنصیبات میں سہولیات کی مرمت اور اسے فعال بنانے کے لیے 10 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ۔ وزارت تجارت کی جانب سے پیش کردہ ایک اور سمری میں امپورٹ کم ایکسپورٹ سکیم (آئی پی او) 2022 اور ایکسپورٹ فسیلیٹیشن سکیم (ای ایف ایس) 2021 میں ترامیم کی منظوری بھی دی گئی جس کے تحت پائلٹ منصوبے کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں اور آٹو پارٹس کو مرمت، بحالی اور بعد ازاں دوبارہ برآمد کے لیے عارضی طور پر درآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی جبکہ ایک سال بعد اس منصوبے کا جائزہ لینے کی ہدایت بھی کی گئی۔ اجلاس میں قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے پیش کردہ سمری کابھی جائزہ لیاگیا جس میں گوادر ڈنکی سلاٹر ہاؤس سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد سے متعلق سفارشات کی منظوری طلب کی گئی تھی۔ کمیٹی نے موجودہ ذخیرے کو متعلقہ قواعد و ضوابط اور برآمدی پروٹوکول کے مطابق فروخت کرنے کی تجویز کی منظوری دے دی۔