چین نے پاکستان کو خطے میں امن و استحکام کا ضامن قرار دیدیا

چین نے پاکستان کو خطے میں امن و استحکام کا ضامن قرار دیدیا

صدرشی جن پنگ نے پاکستان کے سفارتی کردار اور متوازن خارجہ پالیسی کو سراہا

(تجزیہ:سلمان غنی)

چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے حوالے سے پاکستان کے کردار کی تعریف دراصل پاکستان کی امن پسندی، ذمہ دارانہ سفارت کاری اور خطے میں مثبت کردار کا اعتراف ہے ۔ یہ اظہارِ خیال انہوں نے وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کے دوران کیا جہاں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح اور سکیورٹی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔ چینی صدر نے پاکستان اور چین کی دوستی کو ’’ناقابلِ شکست‘‘قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بیجنگ کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہیں۔چین عموماً کسی ملک یا قیادت کی تعریف انتہائی محتاط انداز میں کرتا ہے ، اس لئے پاکستان کے بارے میں مثبت رائے کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیجنگ اسلام آباد کو ایک ذمہ دار، قابلِ اعتماد اور متوازن سفارتی شراکت دار سمجھتا ہے ۔ خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان نے کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے بجائے مذاکرات، مفاہمت اور کشیدگی میں کمی کی پالیسی اختیار کی جو خود چین کے مؤقف سے بھی ہم آہنگ تھی۔یہ امر واضح ہے کہ چین اب پاکستان کو صرف دفاعی یا اقتصادی شراکت دار نہیں بلکہ علاقائی امن و استحکام کے ضامن کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے ۔ سی پیک، گوادر بندرگاہ اور خطے میں تجارت کے بڑے منصوبے امن و استحکام سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے چین کیلئے پاکستان کا مستحکم اور متوازن کردار انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

چینی صدر کا بیان اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ عالمی اور علاقائی معاملات میں پاکستان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔حالیہ مہینوں میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستانی دفترِ خارجہ نے چین، ایران، خلیجی ممالک اور امریکہ کے ساتھ متحرک سفارتی رابطے رکھے ہیں۔ بیجنگ کی جانب سے پاکستان کی تعریف کو اسی حکمتِ عملی کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے ۔ چین ہمیشہ ان ممالک کو اہمیت دیتا ہے جو استحکام، مذاکرات اور اقتصادی ترقی پر یقین رکھتے ہوں اور پاکستان نے حالیہ حالات میں یہی تاثر دیا ہے ۔چینی صدر کی جانب سے سکیورٹی تعاون بڑھانے پر زور بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے ۔ یہ صرف دفاعی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ چین کے وسیع تر سٹرٹیجک مفادات کا حصہ ہے ۔ چین نے پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے خصوصاً سی پیک، گوادر، توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں۔ بلوچستان اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات اور چینی انجینئروں پر حملوں نے بیجنگ کو تشویش میں مبتلا کیا ہے ، اسی لئے چین پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس، انسدادِ دہشت گردی اور زمینی سکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے ۔دوسری جانب امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون بھی چین کیلئے باعثِ تشویش ہے ۔ بیجنگ سمجھتا ہے کہ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان پاکستان ایک اہم جغرافیائی پل کی حیثیت رکھتا ہے ، اس لئے پاکستان کے ساتھ مضبوط دفاعی تعلقات خطے میں طاقت کے توازن کیلئے ضروری ہیں۔ افغانستان میں عدم استحکام اور شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کے تناظر میں بھی چین پاکستان کو ایک اہم سکیورٹی پارٹنر تصور کرتا ہے ۔اسی وجہ سے مشترکہ دفاعی پیداوار، بحری تعاون، فوجی مشقوں اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اشتراک بڑھ رہا ہے ۔ جے ایف 17 طیارے ، بحری جہازوں اور میزائل ٹیکنالوجی میں تعاون اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔

عملاً دیکھا جائے تو چین پاکستان کو صرف دوست نہیں بلکہ خطے میں سٹرٹیجک استحکام کا ستون سمجھتا ہے ۔چینی صدر کی جانب سے یکطرفہ اقدامات اور سرد جنگ کی سیاست کی مخالفت بھی موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں اہم پیغام رکھتی ہے ۔ بیجنگ سمجھتا ہے کہ امریکہ چین کے گرد نئے اتحاد بنا کر اس کے کردار کو محدود کرنا چاہتا ہے ۔ چین چاہتا ہے کہ پاکستان کسی عالمی بلاک کا حصہ بننے کے بجائے متوازن اور آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرے ۔ اس کے نزدیک نئی عالمی صف بندی خطے میں کشیدگی بڑھا سکتی ہے جس کے منفی اثرات تجارت، سی پیک اور علاقائی استحکام پر پڑیں گے ۔چین پاکستان کی اس پالیسی کو مثبت سمجھتا ہے کہ اسلام آباد نے حالیہ عرصے میں امریکہ، چین، ایران، سعودی عرب، قطر اور ترکیہ سمیت مختلف ممالک کے ساتھ بیک وقت متوازن تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ بیجنگ چاہتا ہے کہ پاکستان آئندہ برسوں میں جذباتی وابستگی کے بجائے مفاداتی اور متوازن سفارت کاری کو ترجیح دے ۔وزیراعظم شہباز شریف بھی چین کو پاکستان کا قابلِ اعتماد دوست، اقتصادی شراکت دار اور ترقی کا اہم ستون قرار دیتے ہیں۔ وہ اکثر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مشکل وقت میں چین نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ شہباز شریف چینی ترقی، نظم و ضبط، صنعتی پیش رفت اور غربت کے خاتمے کے ماڈل سے متاثر نظر آتے ہیں۔ ان کی چین کے حوالے سے پالیسی دراصل پاکستان کی دیرینہ ریاستی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے ، البتہ وہ اس میں اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے پہلو کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں