وزیراعظم کا دورہ پشاور کس حد تک بامقصد اور نتیجہ خیز ہوگا؟

 وزیراعظم کا دورہ پشاور کس حد تک بامقصد اور نتیجہ خیز ہوگا؟

وفاق پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمہ کو اپنے لئے بڑا چیلنج سمجھتا ہے

(تجزیہ:سلمان غنی)

وزیراعظم شہباز شریف کا چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اپنے وزرا کے ہمراہ دورہ پشاور کو وہاں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد وفاق کے اقدامات کے حوالہ سے بروقت بامقصد اور سنجیدہ کاوش قرار دیا جا سکتا ہے اور ظاہر ہوتا ہے کہ پختونخوا کے حالات میں نئے سیٹ اپ کی اس کے نزدیک اہمیت کیا ہے ،وزیراعظم شہباز شریف نے صوبے میں امن و امان اور دہشت گردی کے خاتمے بارے حکمت عملی پر  بریفنگ کے بعد اپنے خطاب میں پختونخوامیں بدامنی اور دہشت گردی کے رجحانات، اس کے اسباب، حکومتوں کی مجرمانہ غفلت کا تجزیہ کرتے ہوئے آئینی آپشنز کے استعمال کا ذکر کیا ،لہذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ پشاور کس حد تک بامقصد اور نتیجہ خیز ہوگا، پختونخوا میں دہشت گردی کے رجحانات کا خاتمہ ممکن بن پائے گا اور گورنر اور ان کی کونسل کے اراکین پختونخوا میں امن کو درپیش چیلنج سے عہدہ برا ہوں گے جہاں تک دورہ پشاور کی سنجیدگی اور نتیجہ خیزی کا سوال ہے تو وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور خود وفاقی وزرا کی بڑی اکثریت اور حکام کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاق پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمہ کو اپنے لئے بڑا چیلنج سمجھتا ہے اور اس کی نتیجہ خیزی بارے سنجیدہ ہے ،اس لئے کہ پختونخوا جسے دہشت گردی کے حوالہ سے فرنٹ لائن صوبہ قرار دیا جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ حکومت کو پختونخوا میں آئینی آپشنز کا سہارا لینا پڑا اور اب صوبہ میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت وفاقی وزرا اور حکام کے اس دورہ کے اثرات کثیر الجہتی ہوں گے ،دورہ کے دوران صوبہ کے انتظامی و سیاسی معاملات اور پائیدار امن کے قیام کے لئے موثر رابطہ اور تعاون کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ضروری اقدامات کی ہدایات دی گئی۔

،دورہ پشاور پر ماہرین کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائیاں دہشت گردی کا نیٹ ورک تو توڑ سکتی ہیں لیکن ان کے فوائد کو مستقل سیاسی استحکام کے لئے مؤثر حکمت عملی ضروری ہوگی جس کا یہاں فقدان نظر آ رہا ہے ،ان ماہرین کے مطابق دہشت گردی کی جڑیں گورننس کی کمزوری غربت بے روزگاری تعلیمی عدم مساوات اور پسماندگی سے جڑی ہوئی ہیں ،وفاقی وزرا کی بڑی اکثریت اور خود فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ دورہ پشاور ظاہر کرتا ہے کہ اس کی پختونخوا اور یہاں کے نئے سیٹ اپ کی اس کے نزدیک اہمیت کیا ہے اور وہ ایمرجنسی کے اقدام کو اپنے اصل مقاصد تک محدود رکھتے ہوئے اس کی نتیجہ خیزی بارے سنجیدہ ہیں لیکن ہمیں دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت کے اصل اہداف کیا ہیں اور ان اہداف کے حصول کے لئے ان کے پاس معینہ مدت کیا ہے اور وہ یہ اہداف حاصل کر پائیں گے ،ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالہ سے حکومت کو اس لئے سنجیدہ قراردیا جا سکتا ہے کہ اگر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کا خاتمہ ممکن بن پاتا ہے تو اس سے یہاں کی بڑی سیاسی قوت پی ٹی آئی کی مقبولیت بھی متاثر ہوگی اور اگر وفاق یہاں کے انتظامی بندوبست کو بروئے کار لا کر صوبہ کے عوام کے مسائل کے سیاسی حل پر بھی قابو پانے میں سنجیدگی دکھاتا ہے تو یہاں سیاسی حوالہ سے بڑی تبدیلی بھی ممکن بن سکتی ہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...