قومی مفادات کیا ہیں؟

بعض نام نہاد دانشور‘ جنہیں سرزمین پاکستان نے عزت اور دولت سے نوازا ہے، اپنی نجی محفلوں اور ٹی وی پر گفتگو کے دوران عوام کو قومی مفادات سے متعلق بے جا گفتگو کرکے کنفیوز کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اور سوال کرتے ہیں کہ قومی مفادات کیا ہیں؟ حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی ملک کے قومی مفادات کیا ہوتے ہیں‘ بلکہ انہیں اس بات کا بھی ادراک ہے کہ کوئی بھی ملک اپنے قومی مفادات کے پیشِ نظر ہی ترقی وتعمیر کی منزل کی جانب گامزن رہتا ہے۔ دنیا میں ترقی پزیر اور ترقی یافتہ ملکوں کے قومی مفادات ہوتے ہیں، اسی طرح پاکستان کے بھی ہیں۔ پاکستان کے قومی مفادات کی تشریح سب سے پہلے بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کی تھی۔ 11اگست کو دستور ساز اسمبلی سے خطاب کے بعد انہوںنے پریس سے بات چیت کرتے ہوئے بڑی وضاحت سے کہا تھا کہ پریس کو حکومت پر تنقید کرنے کی مکمل آزادی ہے‘ یہاں تک کہ مسلم لیگ پر بھی تنقید کی جاسکتی ہے‘ جس پارٹی نے پاکستان کے قیام کو حقیقت کا روپ عطا کیا تھا، لیکن آپ کو پاکستان کے مفادات کا خیال رکھنا ہوگا، اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ بعد میں اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے قائداعظمؒ نے فرمایا تھا کہ دوقومی نظریہ (جس کی بنیاد پر پاکستان کی تحریک چلائی گئی تھی یعنی نظریہ پاکستان)‘ پاکستان کے حساس قومی اداروں اور اسلام کے احترام سے متعلق کسی بھی قسم کی تنقید نا قابل برداشت اور نا قابل قبول ہوگی، نیز ریاست کے حساس معاملات کی پردہ پوشی اور حفاظت بھی قومی مفادات کے زمرے میں آتی ہے، جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ اسی قسم کے خیالات پاکستان کے آئین 1973ء کی شق 19میں پریس کی آزادی سے متعلق درج کیے گئے ہیں، جس میں بڑی وضاحت سے تحریر کیا گیا ہے کہ پریس آزاد ہے، تنقید کرنا بھی آزادی صحافت کا بنیادی اصول ہے، لیکن قومی مفادات کا خیال بھی ضروری ہے۔ نظریہ پاکستان‘ اسلام کی سربلندی اور پاکستان کے حساس اداروں کا تحفظ قومی مفادات کے زمرے میںآتا ہے، اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ جو عناصر قائداعظمؒ کے فرمودات اور پاکستان کے آئین کے خلاف کام کرتے ہوئے پاکستان کے عوام میں قومی مفادات کے مسئلہ پر کنفیوژن پھیلارہے ہیں، وہ دراصل دشمن کا ایجنڈا پوراکررہے ہیںاور عوام کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔
پاکستان کے قومی مفاد ات کا مسئلہ ان نام نہاد دانشوروں کی طرف سے اس لئے اٹھایاجارہاہے‘ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ پاکستان میں صحافت سے متعلق ایک ضابطہ اخلاق کی تیاری کی جارہی ہے، صحافیوں کے ضابطہ اخلاق کا مطالبہ عوام، سول سوسائٹی اور سیاست دانوں کی جانب سے بھی کیا جارہا ہے کیونکہ آزادی صحافت کی آڑ میں بعض غیر ذمہ دار صحافی بے لگام گفتگو کرکے اور پاکستان کے قومی اداروں کو بد نام کرکے کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ضابطہ اخلاق اب وقت کی ضرورت بن گیا ہے، کیونکہ گزشتہ دنوں ایک میڈیا گروپ نے جس طرح قومی ادارے پر الزام تراشی کی‘ اس کی وجہ سے عوام اور خواص دونوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا پاکستان کے صحافیوں کے ذہنوں میں قومی مفادات کا کوئی خیال ہے ؟اور کیا اس کو آزادی صحافت کہتے ہیںکہ محض الزام کی بنیاد پر کسی کو بھی بے بنیاد، بے محل اور لغو تنقید کا نشانہ بنادیا جائے؟ کیا کسی دوسرے ملک کے صحافیوں کی جانب سے ان کے اپنے اداروں پراس قسم کی تنقید کرنے کا تصور موجود ہے؟ ہرگز نہیں‘ بلکہ یہ سب کچھ پاکستان ہی میں ہورہا ہے کیونکہ صحافیوں کی اکثریت بالغ نظری کا مظاہرہ نہیں کر رہی، محض اپنے آپ کو ''بہادر اور نڈر‘‘ ظاہر کرنے کی بے جا آرزو نے ان کے ذہنوں سے قومی مفادات کا تصور زائل کردیا ہے اور وہ غیر محسوس 
انداز میں دشمن کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔ امریکہ بہادر جو انسانی حقوق کا سب سے بڑا چیمپئن بنا ہوا ہے‘ اس نے نائن الیون کے بعد ہوم لینڈ سکیورٹی کا قانون پاس کرکے خفیہ اداروں کو انتہائی طاقتور بنادیا ہے ،کسی کی مجال نہیں ہے کہ وہ اِس سے متعلق تنقید کرنے کی جرأت کرسکے۔ اسی طرح ترکی میں ابھی حال ہی میں اس قسم کا قانون پارلیمنٹ نے منظور کیا ہے تاکہ صحافیوں اور سیاست دانوں کو یہ باور کرایا جاسکے کہ ترکی کے اندر کسی بھی صورت میں قومی مفادات پر کسی قسم کی ضرب برداشت نہیں کی جائے گی، اگر کوئی ایسا کرے گا تو اس کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 
دوسری طرف پاکستان ہے جہاں بے بنیاد اور تاریخی حقائق سے ہٹ کر محض اپنے ذاتی جذبات اور عامیانہ خیالات کی بنیاد پر سیاست دانوں کے علاوہ پاکستان کے اہم قومی اداروں (جن میں عدلیہ بھی شامل ہے) پر ناجائز‘ بے بنیاد اور غیر شائستہ انداز میں گفتگو کرکے‘ انہیں معاشرے میں بد نام اوربے تو قیر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ سب کچھ آزادی صحافت کے نام کیا جارہا ہے، حالانکہ پاکستان میں ایسے بہت سے مسائل موجودہیں جن پر کھل کر بات چیت کی جاسکتی ہے۔ حکومت کو معقول مشورہ بھی دیا جاسکتا ہے‘ تاکہ اچھی طرز حکمرانی کا راستہ اختیار کرکے عوام کے 
معاشی وسماجی حالات کو بہتر بنایا جائے لیکن جان بوجھ کر غیر ضروری تنقید کرکے معاشرے کو نفرتوں کے اندھیروں میں دھکیلا جارہا ہے، صحافت کی مادر پدر آزادی پاکستان کے عوام اور خواص دونوں کے لیے نا قابل قبول ہے اور وہ اس کو انتہائی ناپسندیدگی کی نظرسے دیکھتے ہیں۔ ان کا یہ مطالبہ بالکل جائز اور قوم کی اجتماعی سوچ کے عین مطابق ہے کہ صحافت کے سلسلے میں ضابطہ اخلاق، صحافی تنظیموں، کارکن صحافیوں اور حکومت کے نمائندوں کے ذریعہ تشکیل دیا جانا چاہئے تاکہ غیر ذمہ دارانہ صحافت کو روکا جاسکے۔ مزید برآںٹی وی، ریڈیو اور پرنٹ میڈیا میں ہونے والی بے بنیاد تنقید سے معاشرے میں جو افراتفری پھیل رہی ہے‘ اس کو سختی سے روکا جائے اور اِن عناصر میں پاکستان کے قومی مفادات کا احترام پیدا کیا جائے ، کیونکہ جب تک ہم اپنے تبصروں اور تجزیوں میں قومی مفادات کی پاسداری نہیں کریںگے، ملک میں افراتفری موجود رہے گی‘ جس سے دشمن پورا پورا فائدہ اٹھائے گا بلکہ اٹھارہا ہے۔ آزادی صحافت وطن کی حرمت اور وطن کی بقا اور سالمیت سے بڑھ کر نہیں ہے، اور اگر کوئی بھی شخص قلم و قرطاس کے منصب کو اپنے ذاتی مفاد کی خاطر استعمال کرے اور عوام اور حکومت کے معتبر اداروں کے درمیان نفرت اور عداوت پھیلانے کی کوشش کرے‘ تو ایسا کرنے والا دراصل شعوری طورپر کسی دشمن ملک کے ایجنڈے پر کام کررہا ہے۔ ایسے ہی عناصر ٹی وی اور نجی محفلوں میں یہ سوال کرتے ہیں کہ قومی مفادات کیا ہیں؟ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں