"AYA" (space) message & send to 7575

اخوتِ مسلمہ کی حالت تو ذرا دیکھ

جینوسائیڈ کو اُردو میں کیا کہیں گے؟ نسل کشی ہی مناسب لفظ ہے اور یہی کچھ غزہ میں ہوا۔ اسرائیل کے ہاتھوں وہاں قتلِ عام ہوتا رہا اور عالمِ اسلام بے بسی کی حالت میں اس دو سال پر محیط سلسلے کو دیکھتا رہا۔ یہ جینوسائیڈ امریکی معاونت کے بغیر ہو نہیں سکتا تھا۔ ہوا باز اسرائیلی لیکن سارے کے سارے جہاز اور ان میں استعمال ہونے والا اسلحہ امریکی ساخت کا۔ مجبوری کی انتہا دیکھیے کہ کوئی بھی بڑا عرب یا اسلامی ملک کچھ نہ کر سکا۔ بیشتر ممالک تو کھل کر امریکہ کا نام بھی نہ لے سکے۔ صرف یمن کے حوثیوں نے کچھ ہمت دکھائی اور بحیرۂ احمر سے جو بحری جہاز گزرتے ہیں ان پر کچھ میزائل گرائے۔ باقی عرب اور اسلامی ممالک مصلحت پسندی کی ڈھال کے پیچھے چپ بیٹھے رہے۔ پھر جب ایران پر اسرائیلی اور آخر میں امریکی ہوائی حملے ہوئے تو پوری کی پوری اُمّہ اسی مصلحت پسندی کے خول میں دبی رہی۔
غزہ میں جنگ بندی جو اس ساری گھن گرج کے بعد عمل میں لائی گئی وہ بھی ان امریکی ہاتھوں کے طفیل ہوئی جو حقیقت دیکھی جائے خون سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ اس لیے کہ بھرپور امریکی امداد اور معاونت کے بغیر اسرائیل وہ کچھ نہ کر سکتا جو اس نے کیا ہے۔ چلیں یہ بھی ٹھیک ہے‘ جنگ و جدل کے میدان میں ایسا ہوتا ہے لیکن مجبوری کے پیمانے تو دیکھیے کہ غزہ‘ حزب اللہ‘ حماس کی تباہی اور ایران پر چڑھائی کے بعد اسلامی دنیا کے سرکردہ ممالک کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کھڑے ہوکر تالیاں بجانی پڑ رہی ہیں اور یہ داد دینی پڑ رہی ہے کہ صدر ٹرمپ امن اور شانتی کے علمبردار ہیں۔ اور ان ممالک میں جو زیادہ مجبور ہیں وہ ایسی تعریف کو وہاں تک لے جا رہے ہیں کہ سمجھ نہیں آتی کہ اس بے بسی پر ہنسیں یا روئیں۔ 1973ء کا دور بھی تھا جب عرب اسرائیل جنگ چھڑی تو دنیائے اسلام نے مغرب کو تیل کی ترسیل بند کر دی اور مصر اور شام کے ساتھ بیشتر ممالک کھڑے ہو گئے۔ راتوں رات تیل کی قیمتیں چار گنا بڑھ گئیں اور مغربی معیشتوں کو بڑا دھچکا لگا۔ اور اب آج کا زمانہ ہے کہ غزہ کی آبادی پر انتہا کی بربریت ڈھائی گئی اور سوائے ہلکی پھلکی بے معنی گفتگو کے عالمِ اسلام کا کوئی ایک ملک بھی کچھ زیادہ نہ کر سکا۔
بے بسی کی اس سے بڑی نشانی کیا ہو سکتی ہے کہ اسرائیلی جارحیت کا معاون امریکہ اب غزہ میں امن قائم کر رہا ہے اور وزن رکھنے والے سارے اسلامی ممالک مجبور ہیں کہ صدر ٹرمپ کی زیر صدارت غزہ امن بورڈ کے رکن بنیں۔ منہ کھولنے سے بھی گریز کیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کہیں ناراض نہ ہو جائیں۔ ان کی ناراضگی کوئی مول نہیں لے سکتا اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے خوشامد کا ہر حربہ استعمال ہو رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی عام گفتگو کا ایک نمایاں پہلو ہے کہ جسے تھپکی دینی ہو اور اپنا مطلب نکالنا ہو تو نہایت آسانی سے اس کی تعریف کر دیتے ہیں۔ کسی کو فنٹاسٹک (Fantastic) کہہ دیتے ہیں کسی کو گریٹ گائے (Great guy) کہہ دیتے ہیں۔ اور جن کو ایسے القابات سے نوازا جاتا ہے ان کی حالت یہ ہو جاتی ہے کہ پھولے نہیں سماتے۔ جن ممالک کے پاس تیل کی دولت ہے وہ اتنی ہے کہ بے حساب ہے۔ امریکی اسلحے کے ذخائر اتنے خریدے ہوئے ہیں کہ تاثر ملتا ہے کہ ہر مخالف کو روند کے رکھ دیں گے لیکن لاچاری اور مصلحت پسندی کے سامنے اتنی دولت اور اسلحے کے ذخائر کا فائدہ کیا؟
حماس کا نہتے اسرائیلیوں پر حملہ ایک بڑا بلنڈر تھا۔ لیکن جواباً نسل کشی کا جواز تو نہیں بنتا۔ اسرائیل میدان میں اکیلا ہوتا تو نسل کشی کا سلسلہ روا نہ رکھا جا سکتا۔ امریکی معاونت نے ہی غزہ کی جینوسائیڈ کو ممکن بنایا۔ لیکن مجبوری کا حساب تو لگایا جائے کہ غزہ المیے کے ہوتے ہوئے صدر ٹرمپ سعودی عرب اور یو اے ای کا دورہ کرتے ہیں تو میزبانی اس انداز سے ہوتی ہے کہ لگتا یوں کہ استقبال کی انتہا کا مقابلہ ہو رہا ہے۔
1974ء میں لاہور میں منعقدہ اسلامی سربراہی کانفرنس کے وقت عرب دنیا کے پاس تیل کی دولت آنا شروع ہوئی تھی۔ لیکن یہ جو آج کے دبئی اور ریاض کے مناظر ہیں یہ تب نہ تھے۔ غربت تو نہ تھی لیکن آج کل کے دولت کے پیمانوں کے سامنے وہ نسبتاً غریب ماحول ہی تھا۔ لیکن شاہ فیصل اور یاسر عرفات‘ الجیریا کے بومدین اور لیبیا کے معمر قذافی کو دیکھ کر دل خوش ہو جاتا تھا۔ لیکن سالوں بعد جو مسلم دنیا کے ساتھ ہوا... عراق پر حملہ‘ لیبیا کی تباہی اور شام میں خونریزی... اور اب غارت گری کے مناظر جو غزہ میں دیکھے گئے اور رواں اسرائیلی جارحیت لبنان اور مغربی کنارے پر‘ یہ سب مناظر آنکھ کے سامنے آتے ہیں تو عجیب سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ غارت گری کا سلسلہ واشنگٹن سے شروع ہوتا ہے اور خوشامد کا سلسلہ بھی واشنگٹن میں ہی ادا کرنا پڑتا ہے‘ اس سے زیادہ بے بسی کا عالم کیا ہو سکتا ہے۔
شکست و ریخت کا عمل شروع ہو تو کہیں رکتا نہیں۔ امریکہ اب ایران پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکی بحری بیڑے بحیرۂ روم اور آبنائے ہرمز کے اردگرد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ حملے کی پلاننگ ہو رہی ہے اور حالانکہ یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے‘ انٹرنیٹ پر جائیں تو بے شمار تجزیے دیکھنے کو ملیں گے جن میں کہا جا رہا ہے کہ ایران پر حملہ ہونے والا ہے۔ ایسے میں کتنی احتجاج کی آوازیں اسلامی دنیا سے اٹھ رہی ہیں؟ یہاں شیعہ سنی کا مسئلہ نہیں‘ اس پورے خطے کی بقا کا مسئلہ ہے۔ عرب ممالک کو ایران سے اختلافات رہے ہیں لیکن اس پورے خطے میں ایک نیا نقشہ سامنے آ چکا ہے۔ اس میں تو ایک متحدہ لائحہ عمل پیدا ہونا چاہیے اور سعودی عرب سے لے کر ترکی تک اور وہاں سے پاکستان تک ایک ہی آواز بلند ہونی چاہیے کہ ایسے ممکنہ حملے کے ہم خلاف ہیں۔ لیکن ایسی کوئی آواز آ رہی ہے؟
خطرے کا ایک اور پہلو سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات ہیں۔ حیرانی کی انتہا ہو گئی جب ایک پوڈکاسٹ میں ایک سعودی دانشور اور سابقہ ممبر سعودی شوریٰ کونسل احمدالتویجری کو یہ کہتے سنا کہ یو اے ای اسرائیل سے ملا ہوا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی گیم کھیل رہا ہے۔ لیبیا میں معمر قذافی کے زوال کے بعد یو اے ای نے ایک خاص گروپ کی حمایت کی۔ سوڈان کی خانہ جنگی میں یو اے ای کی حمایت ایک فریق کو مل رہی ہے۔ صومالیہ کے اندرونی خلفشار میں یو اے ای کی مداخلت کی اطلاعات ہیں۔ اور حالیہ دنوں یمن میں یو اے ای کے کچھ اقدام رہے ہیں جن کا سعودی عرب نے بہت برا منایا۔ ایسا لٹریچر موجود ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ بہت پہلے سے اسرائیلی عزائم رہے ہیں کہ عرب دنیا کے ایسے ٹکڑے کیے جائیں کہ اسرائیلی تسلط ہمیشہ کیلئے ایک حقیقت بن جائے۔
ایسی باتیں پڑھ کر خیال بلوچستان کی طرف جاتا ہے۔ وہاں جو ہو رہا ہے کوئی چھوٹی گیم نہیں ۔ جہاں سوڈان‘ صومالیہ اور لیبیا اور شام میں نفاق کے عوامل شروع کیے جا سکتے ہیں کیا بلوچستان میں ایسا نہیں ہو سکتا؟ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟ بلوچوں کی اپنی ناراضگیاں ہیں‘ اس سے انکار کرنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ لیکن ایسی بے چینیوں کو استعمال بیرونی قوتیں اپنے مقاصد کیلئے کرتی ہیں۔ داخلی جھگڑوں سے سلاطینِ اقتدار کو فرصت نہیں مل رہی لیکن یہ جو سب آس پاس کی دنیا میں ہو رہا ہے اس پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں