"AYA" (space) message & send to 7575

ایران تاریخ رقم کر رہا ہے

کیا غرور تھا امریکہ کا جب اس نے اور اسرائیل نے ایران پر یہ جنگ مسلط کی۔ مفروضہ یہ تھا کہ ایران پر ہوائی حملے کی شدت اتنی ہو گی کہ وہاں کا نظام چند دنوں میں ہی نیست و نابود ہو جائے گا۔ پہلے وار میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ اور بہت سے لیڈر مارے گئے اور امریکہ اور اسرائیل سمجھے کہ حکومت گئی۔ ایرانی عوام کو اکسایا گیا کہ اسلامی نظام کے خلاف کھڑے ہوں کیونکہ یہ تاریخی موقع پھر ہاتھ نہ آئے گا۔ امریکی میڈیا اور بی بی سی جیسے ادارے ایسی کہانیوں سے بھرے پڑے تھے کہ ایران پر اتنی تباہی برسائی جا رہی ہے کہ اس کی تپش برداشت نہ ہو سکے گی۔ آج جنگ کا سولواں دن ہے اور صورتحال یکسر تبدیل نظر آتی ہے۔ نظام قائم ہے‘ حکومت قائم ہے‘ نیا رہبرِ اعلیٰ چن لیا گیا ہے۔ امریکی غرور کا اس سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک سے زائد مرتبہ کہا کہ ایران کا نیا لیڈر ہماری مرضی کا ہو گا‘ جو ہمیں قبول ہو گا۔ آبنائے ہرمز بند ہے اور تیل کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں اور جنگ جاری رہی تو مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ عالمی معیشت پر برے اثرات پڑ رہے ہیں۔
اب پتا چل رہا ہے کہ ایران کی شکست تو دور کی بات تھی امریکہ اس جنگ میں پھنستا چلا جا رہا ہے اور امریکی پبلک میں سوال اُٹھ رہے ہیں کہ امریکہ اس جنگ سے کیسے نکلے گا۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی ہو گی تو اس کی شرائط پر۔ امریکی صدر جھوٹ پہ جھوٹ بولے جاتے ہیں کہ ایران کی اتنی تباہی ہوئی ہے‘ ہم نے نیوی ختم کر دی‘ میزائل لانچر ختم کر دیے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن آبنائے ہرمز کھل نہیں رہا‘ ایرانی تیل بدستور وہاں سے گزر کر جا رہا ہے لیکن بے شمار آئل ٹینکر جو خلیج فارس میں بند ہیں باہر نہیں جا سکتے۔ ایران کی تباہی ہوئی ہے لیکن وہ سب کچھ برداشت کر رہا ہے اور جوابی حملے ایسے ہیں کہ تشویش کی لہریں اسرائیل اور امریکہ میں زور پکڑ رہی ہیں۔ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ یہ میرے ذاتی خیالات ہیں۔ انٹرنیٹ پر سب کچھ موجود ہے اور ایک تجربہ کر لیں کہ کسی ذرا سے بھی باخبر پاکستانی سے بات کریں تو وہ کہے گا کہ امریکہ اس جنگ میں پھنس گیا ہے اور باہر نکلنے کا راستہ اسے نہیں مل رہا۔
ایرانیوں نے ایک کمال یہ کیا ہے کہ گلف ممالک کے امریکی اڈوں پر حملے کرکے بہت سے اہم ریڈار تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے۔ سب سے اہم ریڈار قطر میں موجود العدید اڈے پر تھا جو جنگ کے پہلے ہی دنوں میں عراقی حملوں کی زد میں آ گیا۔ یہ ریڈار امریکی میزائلوں کیلئے بہت اہم تھا اور اس کے تباہ ہونے سے امریکی میزائل نظام کو گہرا نقصان پہنچا ہے۔ امریکی صدر اور ان کے لایعنی قسم کے وزیردفاع پیٹ ہیگزٹ بار بار کہتے ہیں کہ ایران پر پانچ ہزار حملے ہو گئے‘ چھ ہزار ہو گئے۔ حملے ہوئے ہیں اس میں کوئی انکار نہیں لیکن اتنے مؤثر ہوتے تو آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہوتے۔ امریکی بحریہ دنیا کی طاقتور ترین بحریہ ہے لیکن آبنائے ہرمز پر کنٹرول نہیں جما سکی۔ امریکی اور اسرائیلی اور ہی مفروضوں پر چل رہے تھے‘ ایران کی دفاعی صلاحیتوں کا اندازہ صحیح طور پر نہ کر سکے۔
ہمارے عرب بھائیوں کو دیکھیے‘ خوامخواہ کے رگڑے جا رہے ہیں۔ امریکی ملٹری اڈے ان سب ممالک میں اس خیال سے قائم کیے گئے کہ اڈوں کے ہوتے ہوئے ان ممالک کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہو جائے گا۔ یہ مفروضہ ہوا میں اڑ گیا ہے کیونکہ ان سب اڈوں پر ایرانی حملے ہوئے ہیں۔ اڈوں کے ساتھ عرب ممالک نے دنیا کے مہنگے ترین ہتھیار امریکہ سے خریدے اور آزمانے کا جب وقت آیا تو وہ کام نہ آ سکے۔ درحقیقت اس سارے خطے میں جو دفاعی اور سٹریٹجک تصورات پائے جاتے تھے‘ ان سب کو ایران تبدیل کر رہا ہے۔ بنیادی تصور امریکی طاقت اور حاکمیت تھا۔ عرب بادشاہتوں نے اسی طاقت کو اپنے تحفظ کی سب سے بڑی ضمانت سمجھا ہوا تھا لیکن اس جنگ میں دنیا دیکھ رہی ہے کہ امریکی طاقت کا تصور ہِل کر رہ گیا ہے۔ عرب بادشاہتیں اس سوچ میں تو پڑی ہوں گی کہ تحفظ کی کیسی ضمانت ہے کہ ایرانی حملے رک سکے نہ آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکر گزر سکے۔ پاکستان جس قدر جلد اس نئی حقیقت کو بھانپ جائے اتنا اس کیلئے اچھا ہو گا۔
گزشتہ سال برادر اسلامی ممالک صدر ٹرمپ پر کیسے بچھے جا رہے تھے۔ طرح طرح کے تحائف‘ کرپٹو کرنسی جس میں ٹرمپ فیملی کا ذاتی مفاد ہے‘ میں بھاری انویسٹمنٹ‘ کہیں مہنگا ترین جہاز دیا گیا‘ کہیں خواتین کے بال ہلانے والے مخصوص رقص سے صدر ٹرمپ کا ویلکم ہو رہا ہے۔ پاکستان جہاز دینے کی پوزیشن میں تو نہ تھا‘ ہمارے لوگ زبانی جمع خرچ ہی کر سکتے تھے اور اس میں انہوں نے انتہا کر دی۔ لیکن اب ایران کے ہاتھوں امریکہ کو جو ہزیمت اٹھانی پڑ رہی ہے اب کوئی برادر ملک صدر ٹرمپ کے سامنے پرانے انداز میں بچھے گا؟ اب کوئی انہیں جہاز گفٹ دے گا؟ کیونکہ جو چودھراہٹ امریکی عسکری صلاحیت کی وجہ سے قائم تھی‘ ہماری آنکھوں کے سامنے اس کا حشر نشر ہو رہا ہے۔ امریکہ کے مہنگے ترین انٹرسیپٹر میزائل کم پڑ رہے ہیں‘ پیسہ بے بہا خرچ ہو رہا ہے‘ تقریباً دو ارب ڈالر یومیہ‘ اور ایرانی میزائل اور ڈرون حملے بدستور ہو رہے ہیں۔ اتنا ناقابلِ تسخیر امریکہ ہوتا تو عراقی اور ایرانی کُردوں کی تلاش میں کیوں ہوتا کہ وہ آئیں اور ایران کے مغربی صوبوں پر حملہ کریں۔ کہاں گئیں وہ امریکی اور اسرائیلی سپیشل فورسز؟ ایران اتنا بے بس ہوتا تو اب تک ایسے حملے ہو جاتے۔ لیکن فتح حاصل نہیں ہو رہی‘ تشویش بڑھ رہی ہے۔
وینزویلا کے صدر کو اس کے بیڈ روم سے امریکی کیا اٹھا کر لے گئے‘ وہ سمجھ بیٹھے کہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ ایران سے مذاکرات میں اچھی خاصی پیش رفت ہو رہی تھی اور معاہدہ جو بہت حد تک امریکہ کے حق میں تھا‘ قریب ترین ہو گیا تھا۔ لیکن جب آپ عقل کو خیرباد کہہ دیں اور ایک بے پناہ گھمنڈ کا شکار ہو جائیں تو پھر آنکھوں پر پردے پڑ جاتے ہیں۔ انسان پھر سمجھ کی بات کو سمجھنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ یہی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہو رہا ہے۔ گھمنڈ کی قیمت انہیں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ جنگ بندی کے ترلے تو ایرانیوں کو کرنے چاہیے تھے لیکن یہاں بات الٹ ہے اور جنگ سے باہر نکلنے کا راستہ امریکہ کو نہیں مل رہا۔
ٹرمپ حکومت کی لایعنی باتیں تو ملاحظہ ہوں۔ کامیابی کے بے سروپا دعوے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک امریکی وزیر آبنائے ہرمز سے ایک ٹینکر کے گزرنے کی ٹویٹ کرتا ہے اور منٹوں میں وہ ٹویٹ ڈیلیٹ ہو جاتی ہے۔ جھوٹ کا اندازہ لگائیں کہ میناب ایلیمنٹری سکول میں 165کے قریب بچیوں کی شہادت ہوتی ہے اور اس واقعہ کا صدر ٹرمپ سے پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ایران نے ٹوما ہاک میزائل مارا ہو گا‘ حالانکہ دنیا جانتی ہے ایران کے پاس کوئی ایسا میزائل نہیں۔ نیویارک ٹائمز سمیت متعدد ادارے کہہ چکے ہیں کہ بچیوں کے سکول پر حملہ امریکی تھا۔ حالت اب یہ ہے کہ امریکہ میں شور مچا ہوا ہے کہ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن اب تک واضح نہیں کر سکی کہ ایران پر حملہ کیوں ضروری تھا۔ صدر ٹرمپ سے سیدھی بات ہو نہیں رہی اور ہر لمحے یوں لگتا ہے کہ ان کا مؤقف بدل رہا ہے۔
اس جنگ پر بہت عمدہ تبصرے انٹرنیٹ پر آ رہے ہیں۔ کرنل ڈَگلس میکگریگر‘ جیفری سیکس‘ پروفیسر جان میرشائیمر‘ ہندوستان کے ڈاکٹر پراوِن ساہنی اور کئی دیگر۔ انہیں سنیے اور باخبر رہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں