"MSC" (space) message & send to 7575

مفاہمت کا ہاتھ

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی شروع کردہ جنگ اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے‘ اس کے باوجود کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا خاتمہ کب اور کیسے ہو گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران لوہے کا چنا ثابت ہوا ہے جسے اُگلا جا سکتا ہے نہ نگلا جا سکتا ہے۔ امریکہ بہادر کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں‘ اسرائیل کی بھی ہوائیاں اُڑ رہی ہیں۔ انہوں نے جسے تر نوالہ سمجھا تھا وہ اُن کے حلق میں اٹک گیا ہے۔ سپریم لیڈر علی خامنہ ای اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ شہید کیے جا چکے ہیں لیکن ان کی شہادت نے ایرانی قوم کا حوصلہ پست نہیں کیا‘ اسے نئی توانائی بخش دی ہے۔ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ان کے جانشین مقرر ہوئے اور انہوں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ امریکی نائب صدر اور وزیر جنگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ بھی زخمی ہو چکے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کے چہرے پر زخم آئے ہیں لیکن ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ نئے سپریم لیڈر نے ایک آڈیو پیغام کے ذریعے دو ٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ (کے تمام ملکوں) میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو فوری طور پر بند کیا جائے‘ اگر یہ اڈے بند نہ کیے گئے تو ان پر حملے کیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سکول کے شہدا کا بدلہ لیا جائے گا۔ آبنائے ہرمز بند رہے گی اور ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے‘ وہ کسی محفوظ مقام پر ہیں اور ایرانی میڈیا کے مطابق اپنے فرائض سنبھال چکے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی حملہ آور اُن کا تعاقب کر رہے ہیں لیکن مجتبیٰ خامنہ ای کے لہجے میں کوئی گھبراہٹ یا تذبذب نظر نہیں آیا۔ انہوں نے واضح الفاظ اور پُرعزم لہجے میں اپنی قوم کا حوصلہ بڑھایا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ بات دہراتے جا رہے ہیں کہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو تباہ کیا جا چکا ہے۔ اس کی بحریہ ختم کر دی گئی ہے‘ وہ برباد ہو چکا ہے‘ اسے فوری طور پر غیر مشروط سرنڈر کر دینا چاہیے لیکن مجتبیٰ خامنہ ای پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں‘ نہ ہی ایرانی صدر کسی کمزوری کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک ''ایکس‘‘ پیغام میں جنگ بندی کے لیے تین شرائط پیش کر دی ہیں۔ (1) ایران کے قانونی حقوق تسلیم کیے جائیں۔ (2) جنگ میں پہنچائے گئے نقصانات کا ہرجانہ ادا ہو‘ (3) عالمی طاقتیں ضمانت دیں کہ آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہو گی۔
قانونی حقوق سے مراد یہ ہے کہ ایران کو پُرامن مقاصد کے لیے ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا حق حاصل رہے۔ ایرانی صدر نے ہرجانہ بھی طلب کیا ہے کہ یہ جنگ ایران نے شروع نہیں کی‘ اس پر مسلط کی گئی ہے۔ اس میں جو نقصان پہنچا ہے‘ حملہ آوروں کو اس کی تلافی کرنی چاہیے۔ یہ مطالبہ بلاجواز نہیں ہے لیکن طاقتوروں نے طاقت کے مظاہروں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نقصانات کا ازالہ کبھی کیا ہے‘ نہ کریں گے۔ یہ تو اسی وقت ممکن ہے جب انہیں فیصلہ کن شکست دے دی جائے۔ فاتح مفتوح سے تاوان وصول کر سکتا ہے اور کرتا بھی رہا ہے لیکن جہاں غالب اور مغلوب کا تعین نہ ہو سکے وہاں اس طرح کا مطالبہ کیا تو جا سکتا ہے‘ منوایا نہیں جا سکتا۔ جنگ بندی کے ذریعے آئندہ پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ تو ہو جاتا ہے لیکن گزشتہ کا معاملہ سپردِ خدا ہی کرنا پڑے گا۔ جہاں تک آئندہ جنگ نہ کرنے کی ضمانت کا تعلق ہے تو یہ مطالبہ جتنا بھی جائز ہو اس وقت دنیا میں کوئی ایسا ادارہ یا فورم موجود نہیں ہے جو اس طرح کی ضمانت دے سکے یا کسی ملک کو اس طرح کی ضمانت دینے پر مجبور کر سکے۔ اقوام متحدہ بے اثر ہو چکی ہے‘ طاقتور من مانی کر رہے ہیں اور کرتے چلے جائیں گے۔ اگر آج کسی کا ہاتھ پکڑ لیا جائے تو بھی کل کے لیے ضمانت کوئی بھی فراہم نہیں کر سکتا۔ ایرانی صدر کی عائد کردہ شرائط ان کے عزم کو تو ظاہر کرتی ہیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ وہ اپنے آپ کو لاچار اور بے بس محسوس نہیں کر رہے‘ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی مکمل تکذیب کر رہے ہیں کہ ایران کی جنگی مشینری ناکارہ ہو چکی ہے لیکن عملاً ان کی شرائط بے معنی ہو جاتی ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کا بھی کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی اپنی شرائط اور اپنے وقت پر کریں گے۔ یہ عزم قابلِ داد ہے لیکن یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ لامتناہی جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔
تیسرے ہفتے میں داخل ہونے والی جنگ کب رکے گی اور کس فریق کو کیا نقصان پہنچائے گی‘ اس بارے میں اندازے تو لگائے جا رہے ہیں لیکن قطعیت کے ساتھ کوئی کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔ ایران کے ڈرون اور میزائل ختم نہیں ہوئے‘ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو تہہ و بالا کر دیا ہے۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ ایران کی تلخیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایران امریکہ کو دباؤ میں لانے کے لیے ان پر دباؤ بڑھاتا ہے تو عالم اسلام کا اتحاد پارہ پارہ نظر آتا ہے۔ ایران کی تازہ وارننگ یہ ہے کہ اگر امریکہ نے اس کی تیل کی تنصیبات پر حملہ کیا تو پھر وہ ہمسایہ خلیجی ممالک کی تنصیبات پر حملہ کرے گا‘ یہی دھمکی (یا صلاحیت) اس کی تیل کی تنصیبات کو محفوظ بنائے ہوئے ہے۔ پاکستان کی ہر ممکن کوشش ہے کہ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان تنازع بڑھنے نہ پائے‘ سعودی عرب سے اس کے تعلقات بہرقیمت خوشگوار رہیں۔ پاکستان سعودی عرب سے دفاعی معاہدے میں بندھا ہے اس لیے اس کا اضطراب سمجھ سے بالاتر نہیں۔ ایران کی قیادت اس نزاکت کو سمجھ رہی ہے لیکن پاسدارانِ انقلاب کی ''خود مختاری‘‘ خارجہ تعلقات کی نزاکتوں کو سمجھنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتی۔ اہلِ پاکستان ہر دم دُعاگو ہیں کہ ایران اور سعودی عرب کے معاملات ہموار رہیں۔ انہیں ایک دوسرے سے اُلجھانے کی صہیونی سازش کامیاب نہ ہونے پائے۔ خارجہ تعلقات میں توازن کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ معاملات پر بھی گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو دفاعی فورسز نشانہ بنائے ہوئے ہیں لیکن سفارتی محاذ پر بھی اقدامات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ خبر باعثِ اطمینان ہے کہ چینی حکام اس حوالے سے متحرک ہوئے ہیں اور افغان طالبان کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کی تازہ کوششوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ سرگرمی نتیجہ خیز ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ داخلی سیاسی اختلافات کو کم کرنا بھی ناگزیر ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے کی طرف مفاہمت کا ہاتھ بڑھائیں۔ عمران خان کے علاج کے حوالے سے ان کی فیملی کو اعتماد میں لیا جائے‘ خان صاحب سے معمول کی ملاقاتیں شروع ہونے دی جائیں۔ امریکہ اور ایران کی جنگ کو ختم کرانا تو ہمارے بس میں نہیں‘ لیکن داخلی محاذ کو ٹھنڈا کرنا تو ہمارے بس میں ہے۔ یہاں کسی بھی فریق کو بے بسی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں