"AYA" (space) message & send to 7575

تہوار تو سارے پنجاب کا ہے

آئی ملن کی بہار رے ؍ آ جا سنوریا ؍ کہتا ہے من بار بار رے
آ جا سنوریا آ جا ہو؍ کھیتوں نے پہنے ہیں سرسوں کے گہنے
ہر شے پہ چھایا نکھار رے؍ آئی بسنت بہار رے
پرانی فلم نَیّا کا یہ لاجواب گیت ہے جسے اپنے زمانے کی مشہور گائیکہ زہرا بائی انبالے والی نے گایا۔ سن سکیں تو ضرور سنیے‘ لطف آ جائے گا۔ وِکی پیڈیا میں لکھا ہے کہ بسنت تہوار کی روایت مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ڈالی تھی۔ پنجابی مہینے ماگھ کے دن آتے تو مہاراجہ کا تہوار دس دن چلتا۔ اہلِ دربار اور خالصہ سپاہ ان دنوں پیلے رنگ کے لباس پہنتے۔ مہاراجہ اپنی چہیتی بیوی موراں کے ساتھ تہوار مناتے۔ موراں مسلمان تھی اور مہاراجہ کی زوجیت میں آنے سے پہلے ایک مشہور طوائف کے طور پر جانی جاتی تھی۔ اندرونِ لاہور ایک مسجد ہے جو موراں نے بنوائی۔ کہتے ہیں بہت نفیس اور خدا ترس خاتون تھی۔ بہرحال بات اس تہوار کی ہو رہی ہے جو بِلاذات و مذہب پورے پنجاب کا تہوار بن گیا۔ بہار کی آمد کی نسبت سے تہوار کے دن منائے جاتے تھے۔
پورے پنجاب کا مطلب ہے دریائے سندھ سے لے کر دِلّی کی سرحد تک۔ مذہبی ٹکراؤ اور تضادات کی وجہ سے پنجاب کے نقشے پر لکیریں پڑیں لیکن شیوخ و زاہد مانیں یا اس حقیقت سے بدکیں‘ پنجاب کا کلچر ایک ہے۔ علاقے کے لحاظ سے زبان کے تلفظ اور بول میں فرق دیکھنے کو ملتا ہے لیکن سارے پنجاب کی زبان تو پنجابی ہے۔ لاہور سے امرتسر جائیں تو شکلیں اور قدوقامت ایک جیسے نظر آتے ہیں۔ جاٹ ذاتوں میں مذہب کا فرق ہو گا‘ کوئی جاٹ مسلمان کوئی سکھ لیکن ذات جاٹ ہی ہو گی۔ ہیر رانجھا پورے پنجاب کی داستان ہے اور اسے سکھ فنکار اتنی ہی عقیدت دیتے ہیں جتنی کہ کوئی مسلمان فنکار۔ مشرقی پنجاب کی جو دو بہنیں نوراں سسٹرز کے نام سے جانی جاتی ہیں‘ بلھے شاہ کو ایسے ہی پڑھتی ہیں جیسا کہ یہاں کے گویّے۔ بابا فرید‘ شاہ حسین یہ سب کسی ایک علاقے کے شاعر نہیں پورے پنجاب کے شاعر ہیں۔ اور کیونکہ اپنے فن کے حوالے سے ان ساروں نے ایک لافانی حیثیت حاصل کر لی ہے تو ان کا شمار صرف پنجابی شاعری میں نہیں بلکہ عالمی شاعری میں ہوتا ہے۔ فلمی گائیکی میں بڑے نام بہت سے ہیں لیکن تین جو ہمارے پنجابی گویّے ہیں کندن لال سہگل‘ ملکۂ ترنم نور جہاں اور محمد رفیع ان کا اپنا مقام ہے۔ زمانے بیت جائیں گے ان آوازوں کا جادو قائم رہے گا۔
تاریخی واقعات کے نشیب و فراز میں بہت کچھ ہو جاتا ہے۔ طاقتور سلطنتیں تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو جاتی ہیں‘ سکندرِ اعظم کی سلطنت قائم نہیں رہتی‘ منگولوں کی ایمپائر ختم ہو جاتی ہے‘ مغل بادشاہ چلے جاتے ہیں‘ پہلی جنگِ عظیم کے بعد روس‘ آسٹریا‘ جرمنی اور ترکوں کی ایمپائر ختم ہو گئیں‘ لہٰذا ہندوستان کے نقشے پر تقسیم کی لکیریں کھینچی گئیں تو کوئی بڑی بات نہ تھی‘ لیکن 1947ء کے واقعات کے نتیجے میں پنجاب کے دونوں حصوں میں جو قتل و غارت ہوئی اور جو خون کے دریا بہے یہ درد ناک عمل ناگزیر نہ تھا۔ انگریز اگر برصغیر سے بھاگنے کی اتنی جلدی نہ کرتے اور اگر یہاں کی مختلف قیادتوں کی بصیرت کا پیمانہ ذرا مختلف ہوتا تو شاید پنجاب کے خون خرابے سے بچا جا سکتا تھا۔ لیکن تقسیم ہند کا المیہ یہ تھا کہ جب علیحدگی کی باتیں شروع ہوئیں تو مختلف قیادتیں یہ سمجھنے سے قاصر رہیں کہ ہندوستان کی تقسیم ہوئی تو لامحالہ پنجاب اور بنگال کی تقسیم بھی لازمی قرار پائے گی۔
فسادات مارچ 1947ء میں شروع ہوئے تھے اور اس زمانے کے بارے میں مستند تحریریں گواہی دیتی ہیں کہ فسادات کا آغاز ضلع راولپنڈی سے ہوا۔ 1946ء کے انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ پنجاب میں حکومت نہ بنا سکی اور پریمیئر پنجاب ملک خضر حیات ٹوانہ ہی رہے۔ خضر حیات کے خلاف مسلم لیگ نے تحریک شروع کی اور اس تحریک میں جو نعرے استعمال ہونے لگے ان کے اثر سے بین المذہبی نفرتیں بڑھنے لگیں۔ یہی وہ تناظر تھا جس میں ماسٹر تارا سنگھ نے پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوکر کرپان لہرائی اور اعلان کیا کہ اس طرف کا پنجاب پاکستان کا حصہ کبھی نہیں بنے گا۔
آج کے ماحول میں ہم بھول جاتے ہیں کہ لاہور میں گو مسلمانوں کی عددی اکثریت تھی لیکن ہندو اور سکھ بھی بڑی تعداد میں لاہور کے رہائشی تھے۔ اور جہاں تک کاروباری اثر و رسوخ کا تعلق ہے ہندو اور سکھ مسلمانوں سے کہیں آگے تھے۔ اسی طرح امرتسر میں مسلمانوں کی بڑی آبادی تھی اور وہاں ان کی کاروباری حیثیت بھی عمدہ تھی۔ لیکن جب فرقہ واریت کے شعلے بھڑکے تو نہ ہندو اور سکھ لاہور میں محفوظ رہے نہ مسلمان اپنی حیثیت امرتسر میں بچا سکے۔ یہ تو تاریخ کا واقعہ ہے کہ مسلمان خواتین کو برہنہ حالت میں امرتسر کے بازاروں سے گزارا گیا۔ لاہور میں شاہ عالم مارکیٹ‘ جو ہندو سکھ کاروبار کا گڑھ تھا‘ آگ کی نذر ہو گئی۔ وسیع پیمانے پر ہجرت یہاں سے ہوئی اور وہاں سے بھی۔ ڈاکٹر اشتیاق احمد جو کہ سٹاک ہوم یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر ہیں‘ نے پنجاب کی خونریزیوں پر جو کچھ لکھا ہے وہ پڑھیں تو ذہن و قلب پر عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔
ایک بات البتہ عجیب ہے اور آج کے زمانے کے لوگوں کو اس کا زیادہ احساس نہیں۔ 1947ء کی خونریزی کے باوجود‘ اس ساری تباہی اور ہجرت کے باوجود جب پاکستان بنا اور ہندوستان آزاد ہوا تو دونوں ممالک کے تعلقات پھر بھی ایک لحاظ سے نارمل رہے۔ آنا جانا آسان تھا۔ میل ملاپ رہتا تھا‘ ایک دوسرے کے اخبارات اور رسائل یہاں اور وہاں میسر تھے۔ اوائل کے برسوں میں پاکستان کی زیادہ تجارت ہندوستان سے ہی تھی۔ انڈین فلمیں ہمارے سینما گھروں میں دیکھی جاتی تھیں۔ جو جنگجویانہ اور متحارب زبان آج ہندوستان اور پاکستان کا معمول بن چکی ہے‘ اس زمانے میں ایسی گفتگو عام نہ تھی۔ کشمیر کا ذکر ہوتا تھا اور اپنا اپنا مؤقف پیش کیا جاتا تھا لیکن ایک اسلوب سے‘ اس کے باوجود کہ کشمیر پر ایک باقاعدہ جنگ ہو چکی تھی۔ کیا عجیب معاملہ ہے کہ قتل و غارت کے باوجود جنون کے بادل اتنے گہرے نہ تھے۔
پہلے بھی ایک مرتبہ ذکر کر چکا ہوں کہ اس زمانے میں کوئی موقع ہوتا تو بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور دیگر کابینہ کے وزرا دِلّی میں سفارت خانہ پاکستان آنے میں عار محسوس نہ کرتے ۔ یہ بھی ذکر کر چکا ہوں کہ 1955ء کی انڈین ریپبلک ڈے پریڈ کے مہمانِ خصوصی گورنر جنرل پاکستان غلام محمد تھے۔ یہ تو 65ء کی جنگ‘ پھر مشرقی پاکستان کا المیہ‘ نام نہاد افغان جہاد اور اس کے بعد بے مقصد اور بغیر سوچ کے شروع کیے گئے کارگل آپریشن کی وجہ سے نہ صرف دوریاں مزید بڑھ گئیں بلکہ پختہ ہوتی گئیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو ازلی دشمن سمجھتے ہیں۔ ملکوں کے درمیان مسئلے مسائل ہوتے ہیں لیکن ان پر بات کی جا سکتی ہے اور بات کرنے کا ایک انداز بھی ہوتا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ رہے گا اور ہم اس کا ذکر کرتے رہیں گے لیکن کس حکیم کا نسخہ ہے کہ بارڈر بند رہے‘ آمدورفت ختم ہو جائے‘ تجارت پر تالے لگ جائیں؟ چین اور ہندوستان میں کئی نکات پر مخاصمت ہے لیکن بھاری پیمانے پر آپس میں تجارت بھی جاری ہے۔ ہم نے اپنے آپ پر ایک عجیب کیفیت طاری کی ہوئی ہے کہ بات نہیں کرنی‘ کوئی میل ملاپ نہیں رکھنا۔
کبھی کبھار لگتا یوں ہے کہ اپنے وجود کے معنی ہم ہندوستان دشمنی میں ڈھونڈتے ہیں۔ اپنے وجود کا احساس غیروں کی دشمنی سے نہیں اپنی حقیقت سے ہونا چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں