"AYA" (space) message & send to 7575

خراب تو خراب ہے کوئی کامیابی بتا دیں

قومی ناکامیوں کی لمبی فہرست ہے‘ ایک ایٹم بم کے سوا کچھ بن نہ سکا۔ ایئر لائن نہ چلائی گئی‘ ریلوے نظام ہمارے ہاتھوں برباد ہوا‘ روسیوں کی سٹیل مل ہم سے نہ چلی۔ معیشت کا کیا بھانڈا ہمارے سامنے بن رہا ہے وہ قوم جانتی ہے۔ مانگے تانگے کی عادت اتنی پڑ گئی کہ قرضوں تلے پاکستان دب کر رہ گیا ہے۔ قرض کی ادائیگیوں اور دفاعی اخراجات کے بعد کیا رہ جاتا ہے۔ قوم کے ساتھ رونما ہونے والے بڑے سانحات کے بارے میں کوئی پوچھ گچھ تو ہوتی نہیں۔ کارگل جیسے ناکام اور خطرناک آپریشن کے بارے میں بھی یہاں سوال کبھی نہیں پوچھے گئے۔ یہ مانا کہ ہم جیسوں کی سوچ بڑی منفی ہے‘ کیڑے ہی نکالتے رہتے ہیں‘ کسی اچھی طرف دھیان نہیں جاتا۔ یہ تنقید قبول کر لی لیکن جو ایسی تنقید کرتے ہیں اتنی زحمت تو کریں کہ بتائیں قومی کامیابیاں کون کون سی ہیں۔ کون سے میدان ہیں جن میں ہم سرخرو ٹھہرے؟
کسی بھی ملک کا نظم وضبط سیاسی نظام سے چلتا ہے۔ کوئی بتائے تو سہی یہاں سیاسی نظام کیا ہے؟ الیکشن ہم کرا نہیں سکتے‘ کرا بھی دیں تو ان کے نتائج ہمیں ہضم نہیں ہوتے۔ پھر فارم 47 جیسی واردات ڈالنی پڑتی ہے۔ ایسا ایک دفعہ ہو پھر تو بات ہے لیکن یہاں سیاسی نظام چل نہیں سکا۔ اور قومی عقل ملاحظہ ہو کہ بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ یہ ہائبرڈ نظام ہے۔ بنگلہ دیش‘ جس کے عوام کو یہاں کے حکمران گزرے وقتوں میں حقارت سے دیکھتے تھے‘ ہمیں بتا رہے ہیں کہ کیا چیز ممکن ہو سکتی ہے۔ بنگلہ دیش کے ماضی کو چھوڑیے‘ حسینہ واجد کی آمریت تھی اس کے خلاف بنگلہ دیش کے عوام‘ مرد وں‘ عورتوں نے‘ بغاوت کر ڈالی۔ سینکڑوں جانیں قربان ہوئیں‘ تب جا کے وہ آمریت ختم ہوئی۔ بنگلہ دیشی ہم جیسے ہوتے تو کسی بھی عذر کو سامنے کھڑا کرکے الیکشن نہ کرواتے۔ کوئی آ جاتا خود ساختہ قوم کا مسیحا اور نجات دہندہ جو مسندِ اقتدار پر قبضہ کرکے کم از کم دس سال انتخابات نہ کرواتا۔ لیکن کوئی ایسا عذر نہیں پیش کیا گیا اور انتخابات ہوئے اور اس سے بھی بڑی بات انتخابات کے نتائج تسلیم کیے گئے۔
وہ روح پرور دن ہمیں بھی نصیب ہو جب یہاں ایسا ہو سکے۔ یہاں جو آتا ہے چالاکی اور دھونس کا ایک مربہ بنا کر قوم کے سروں پر لاد دیتا ہے۔ کوئی ایک ایسا تماشا کرنے والا ہو تو نام لیں لیکن جو آیا چاہے نام ایوب یا یحییٰ‘ ضیا یا مشرف‘ یہی ناٹک قوم کے ساتھ کیا گیا۔ بنگلہ دیش میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے انتخابات کو سویپ کیا ہے اور جماعت اسلامی دوسری بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ یہاں تو رواج یہ رہا ہے کہ انتخابات کے نتائج آئے نہیں اور گالم گلوچ شروع ہو گیا۔ وہاں بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نتائج کے بعد جماعت اسلامی کے لیڈر ڈاکٹر شفیق الرحمن کے پاس جاتے ہیں اور خیرسگالی کا پیغام دیتے ہیں۔ جب بنگالی ہمارے ساتھ اس مملکتِ خداداد کا حصہ تھے‘ انہیں طعنہ دیا جاتا تھا کہ بچے ہی پیدا کر سکتے ہیں۔ تب مشرقی پاکستان کی آبادی یہاں سے زیادہ تھی۔ اس ایک میدان میں ہم نے ان کو مات دے دی ہے‘ ہماری آبادی ان سے زیادہ اور آبادی کی بڑھوتی کی شرح ہماری کہیں زیادہ ۔ زمین ان کی تھوڑی ہے غربت بہت ہے جیسا کہ سارے ہندوستان اور پاکستان میں ہے لیکن ڈھنگ سے انہوں نے کچھ تو کیا ہے کہ برآمدات سے ہم سے زیادہ پیسہ کماتے ہیں اور خزانے میں فارن ایکسچینج ذخائر ان کے ہمارے سے کہیں زیادہ ہیں۔ لہٰذا قوم کے ٹھیکیداروں سے یہی استدعا ہے کہ ایٹم بم کے علاوہ اور بھی کچھ بتائیں کہ ہمارے کارنامے کیا ہیں۔
مانا کہ ہندوستان کے ساتھ چار روزہ مقابلے میں ہمارا پلڑا بھاری رہا۔ صحیح تعداد پتا نہیں کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہ جائیں تو ہر پندرہ دن بعد گرائے ہوئے جہازوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے لیکن اتنا تو ہے کہ ہمارے ہوا بازوں کا کردار بہت اچھا رہا۔ لیکن اس پر مت اٹکے رہیں‘ مقابلہ ہوا ختم ہو گیا اب آگے کو دیکھنا چاہیے۔ ان کی معیشت اور ہمارے معاشی کشکول کا کوئی موازنہ نہیں۔ معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑے ہیں اور ان کی معیشت اب برطانوی معیشت سے آگے ہے۔ ہماری وہی چوکیداری ذہنیت ہے کہ کوئی دفاعی بندوبست ہو‘ چاہے سعودی عرب سے یا کسی اور سے اور ہمیں کچھ پیسے ملتے رہیں۔ ہر محکمہ ہمارا خسارے میں ہے‘ کل کے اخباروں میں پڑھا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کس حد تک مقروض ہے۔ موٹروے بنانے پہ ناز کرتے ہیں حالانکہ ان کے اخراجات پورے نہیں ہوتے اور خسارہ قوم کے پیسوں سے حکومت کو بھرنا پڑتا ہے۔
یہ جو مہنگی بجلی کے معاہدے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز سے ہمارے افلاطونوں نے کیے کبھی ان کے بارے میں بھی کوئی پوچھ گچھ ہو گی؟ یہ معاہدے پیپلز پارٹی نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت میں شروع کیے۔ محترمہ کی حکومت تھی اور زرداری صاحب مردِ اول تھے۔ ان دنوں اسلام آباد میں ایک سفارتی تقریب میں ملے اور بڑے فخریہ انداز میں کہنے لگے کہ دیکھا ہم نے یہ کیسے تاریخی معاہدے کیے ہیں۔ ان تاریخی معاہدوں نے ملک کا ستیاناس کر دیا۔ ان پروڈیوسرزکے ساتھ معاہدوں کی روایت شریفوں نے جاری رکھی۔ چینیوں کے ساتھ بھی بجلی کے معاہدے کیے اور پتا نہیں ان معاہدوں میں کیا کشش تھی کہ ہر بار پاکستان کو گھاٹے کے سودوں کا بوجھ اٹھانا پڑا۔ ہاں جی‘ پر آپ بھول رہے ہیں کہ انہوں نے میٹرو بسیں بھی دیں اور لاہور اورنج ٹرین چلائی۔ واہ کیا خوب کام‘ یہ سارے منصوبے مانگے کے پیسوں پر بنائے گئے جن پر سود اور ادھار کے پیسے قوم دہائیوں تک دیتی رہے گی۔ کوئی ان سے پوچھے تو سہی ان سفید ہاتھی منصوبوں کی کوئی ضرورت بھی تھی؟ بس چمک دکھانے کیلئے اور الیکشنوں میں سٹنٹ کھڑا کرنے کیلئے یہ منصوبے شروع کیے گئے۔ سارے کے سارے قوم کی گردن پر ایک طوق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ دیگر باتوں کو چھوڑیے‘ کوئی دس دن بھی گزرتے ہیں جب وزیراعظم صاحب ایک غیرملکی دورے پر نہیں جاتے؟ جب دیکھو باہر ہی گھوم رہے ہوتے ہیں۔
ایٹم بم کا ذکر اس لیے کہ ایران کی موجودہ حالت کو دیکھ کر رونا آتا ہے۔ امریکی اور کیا کچھ ان پر ٹھونس نہیں رہے اور ہر لایعنی بات ایرانیوں کو قبول کرنا پڑ رہی ہے۔ ایرانی کئی بار عندیہ دے چکے ہیں کہ ایٹمی پروگرام کی تقویت کو کم کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ معاشی پابندیاں اٹھائی جائیں۔ امریکہ ہے کہ پیچ ٹائٹ کرتا جا رہا ہے‘ صرف اس لیے کہ ایرانیوں سے تاریخی ناکامی ہوئی کہ ایٹم بم نہ بنا سکے۔ اپنی تمام کمزوریوں اور قباحتوں کے باوجود ہم نے ایٹم بم بنا لیا۔ لیکن اس کے بعد کچھ اور بھی کرتے‘ بجلی کے مہلک معاہدوں سے بچتے‘ کارگل جیسے بیکار ایڈونچروں میں نہ پڑتے‘ طالبان کی حیثیت کو کچھ پہلے سے بھانپ جاتے اور فضول کی دشمنیوں میں اپنی توانائیاں صرف نہ کرتے۔ لیکن نہیں! یہاں تو لگتا ہے قومی ضد بن چکی ہے کہ کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کرنا۔ سیاست چلنی ہے تو ہنگاموں پر موقوف ہونی ہے۔ الیکشن ہونے ہیں تو دھاندلی کا الزام اٹھنا ہے۔ کوئی لیڈر بھولے سے عوام میں مقبول ہو جائے تو اس کے درپے ہو جانا ہے کہ کیا مجال اس کی کہ عوام میں اپنا مقام بنا رہا ہے۔
یہ داستانیں کبھی ختم بھی ہونی ہیں؟ عقل نام کی چیز سے یہاں کام کبھی چلانا ہے؟ ستاروں پر کمند ڈالنے کی بات نہیں‘ بنگلہ دیش کو دیکھ کر ایک چج کا الیکشن تو یہاں ہو جائے۔ معجزہ ہو گا لیکن معجزوں کی امید رکھنے میں کوئی حرج تو نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں