ہمارا ناران کاغان تو یہیں گاؤں میں ہو گیا کیونکہ ایسی مزے کی سردی پڑ رہی ہے کہ وہ گزرے ہوئے جوانی کے دن یاد آ گئے جب بڑے کوٹ کے بغیر سردیاں نہیں گزاری جا سکتی تھیں۔ دسمبر میں تو محسوس ہو رہا تھا کہ اصلی سردی یہاں سے چلی گئی ہے لیکن آسمانوں کا کرنا دیکھئے کہ ٹھنڈ آئی تو جسم و روح کھِل اُٹھے۔ البتہ اتنا کہنا ضروری ہے کہ جسم پر تو سردی پڑی جگر کی تپش کا علاج یہ سردی بھی نہ کر سکی۔ علاج تب ہوتا کہ کوئی بزمِ یار سجتی اور ہمارا وہاں جانا ہوتا۔ لیکن اب تو بزمِ یار ہمارے لیے محاورہ بن کے رہ گئی ہے۔ عرصہ ہوا جب ایسی محفلوں میں آنا جانا رہتا تھا۔ تب بے صبری اور ناسمجھی کا مظاہرہ اکثر ہو جاتا۔ اب اسلوبِ محفل کچھ بہتر ہوئے تو محفلیں گُم ہو گئیں۔ زندگی کے ایسے ہی المیے ہوتے ہیں۔ کوئی چیز ہاتھ آئی تو ڈھنگ سے اپنا نہ سکے۔ ڈھنگ آیا تو وقت گزر گیا۔
اسی ویران گلستان میں کوئی ٹی وی والے انٹرویو کرنے آئے تھے۔ دیگر سوالوں کے علاوہ یہ بھی پوچھا کہ گزرے ہوئے لمحات کے بارے میں کوئی پچھتاوے ہیں۔ کیا سوال تھا کیونکہ ایک آہ لے کر یہی کہنا پڑا کہ دل تو پچھتاووں سے بھرا پڑا ہے۔ زندگی میں ایسے مواقع آئے جو ناسمجھی اور اسلوبِ محفل نہ جاننے کے کارن گنوا دیے‘ اس موسم کی اداس شاموں میں جب آگ کے سامنے بیٹھتے ہیں تو پرانی یادیں آن گھیرتی ہیں۔ بہت کچھ دل سے مٹ گیا لیکن جو حسین موقعے ہاتھ سے گئے اُن سے جڑے ہوئے ارمان دل میں تازہ ہیں۔ دنیا بدل گئی‘ ہم بدل گئے‘ گیسوؤں کا رنگ بدل گیا لیکن وہ دل پر نشان نہ مٹ سکے۔ 1971ء کی جنگ ختم ہوئی تھی‘ لاہور میں بلیک آؤٹ ہوا کرتا تھا یعنی شام ڈھلے پورا شہر اندھیروں میں ڈوب جاتا۔ لاہور کے پرانے والٹن ایئر پورٹ پر کچھ طیارہ شکن گنیں ہمارے زیر کمان نصب تھیں۔ اُن دنوں لاہور ہوٹل کا اپنا ہی روپ تھا۔ ٹیکسی پر وہاں جاتے اور گاڑی کی بریک لگی ہی کہ فنونِ لطیفہ پر مامور خدمتگار تاریکی سے نمودار ہوتے اور نہایت ہی مہذب لہجے میں منشا دریافت کرتے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سمن آباد نہایت ہی لطیف انداز میں آباد ہوا کرتا تھا۔ ایسے ہی ایک موقعے پر ہماری خوش قسمتی کہ شمشاد سے ملاقات ہوئی۔ دیکھئے تو سہی پچپن سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن سردی کی شاموں میں آگ جلتی ہے تو اٹھتے ہوئے شعلوں میں آج بھی وہی چہرہ نظر آتا ہے۔
1974ء کی اسلامی سربراہی کانفرنس کے وقت لاہور ہی میں تھا۔ فارن سروس کی وجہ سے ڈیوٹی لاہور ہی میں لگی۔ بڑے بڑے نام تھے‘ تقریباً سارے دنیا سے جا چکے ہیں۔ شاہ فیصل‘ الجیریا کے بومدین‘ انور سادات‘ یاسر عرفات‘ معمر قذافی اور ہمارے ذوالفقار علی بھٹو۔ آگ کے سامنے بیٹھے ہوئے ان میں سے کوئی چہرہ خیالوں کی دنیا میں نہیں آتا۔ بھولی بسری یادوں میں کچھ یاد آتا ہے تو اُس وقت کا لاہور ہوٹل اور اُس وقت کا سمن آباد۔
اکثر دوست نصیحت کرتے ہیں کہ فلاں موضوع پر لکھنا چاہیے‘ فلاں واقعے کا تجزیہ ضروری ہے۔ دیگر ممالک بارے کیا رائے دیں لیکن یہاں لکھنے لکھانے سے کوئی فرق پڑتا ہے؟ تحریر کی اہمیت یہاں کبھی مانی گئی ہے؟ جوانی کے ایام میں جب صحافت شروع کی تھی تو سمجھتے تھے کہ ہمارے قلم سے پتا نہیں کیا کچھ ہو جائے گا۔ الفاظ پر اتنی محنت ہوتی گویا قوم کی تقدیر کا انحصار ان الفاظ پر ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ احساس پیدا ہوا کہ ہمارے ماحول میں یہ سب بیکار کے کام ہیں کیونکہ ہماری ریاست کے خدوخال ہی ایسے ہیں جہاں لکھائی پڑھائی اور قانون کی حکمرانی جیسے تصورات کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔ پہلے ادوار میں پھر بھی کوئی غلط فہمیاں باقی تھیں کہ حالات اگر خراب ہیں تو ضرور بہتر ہو جائیں گے۔ آج کے حالات کی خوبی یہ ہے کہ وہ سب غلط فہمیاں دور ہو چکی ہیں۔ یہ خیال اب تقویت پا چکا ہے کہ جو حالات ہیں ایسے ہی رہیں گے اور اسی ڈگر پر معاملات چلتے رہیں گے۔ سدھرنے والا معاملہ یہاں موجود نہیں۔
یہاں یہ سوچ پنپ نہ سکی کہ ہندوستان کے بٹوارے کے نتیجے میں ایک نیا ملک معرضِ وجود میں آیا تو اولین ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک ڈھنگ سے چلے‘ اس انداز سے چلے کہ ہندوستان کے لوگ ہم پر رشک کریں۔ مسائل کا انبار تو ہندوستان میں بھی تھا اور یہاں بھی لیکن اُس طرف اُنہوں نے اپنے معاملات کو سنبھالا اور معیشت کو اتنا آگے لے گئے کہ آج ہندوستان کی معیشت برطانیہ سے آگے ہے۔ ہم رسومِ چوکیداری پر ہی مامور رہے اور اسے ہی اپنی خوش بختی سمجھا۔ کبھی امریکی دفاعی معاہدوں میں گئے‘ کبھی افغانستان کی جنگوں میں اپنے آپ کو ملوث کیا اور یہی سمجھا کہ ہم سے دانا کوئی نہیں۔ افغان دیس کے معاملات یہاں کھینچ لائے اور وہ معاملات اپنے معاملات بنا لیے اور ساتھ ہی یہ کہتے رہے کہ معاملات کو بہتر سمجھنے کی صلاحیت ہم ہی میں ہے۔
پچھلے دنوں اسلام آباد میں درختوں کے کٹنے کا بڑا شور مچا۔ سارے کے سارے کٹے ہوئے درخت جنگلی شہتوت یا پیپر ملبری تھے یا نہیں الگ بحث ہے۔ کوئی سوچے تو سہی کہ جنگلی شہتوت آئے کہاں سے تھے۔ اسلام آباد کے یہ قدرتی درخت نہیں ہیں‘ یہاں یہ کیسے آ گئے؟ ہمارے پہلے فیلڈ مارشل نے جب دارالحکومت کے لیے اس مقام کا انتخاب کیا تو یہاں کے قدرتی درخت ہر طرف تھے۔ بڑا خوبصورت علاقہ تھا‘ مارگلہ کے پہاڑوں سے چشمے پھوٹ پھوٹ کر نیچے کو آتے تھے۔ فیلڈ مارشل اور اُن کے مشیروں نے یہ سوچا کہ سبزہ تو یہاں ہے لیکن کافی نہیں ہے۔ زیادہ ہونا چاہیے اور ایسا ہو کہ تیزی سے شاداب بھی ہو۔ لہٰذا جنگلی شہتوت کے بیج چھوٹے ہوائی جہازوں کے ذریعے اس پورے علاقے پر پھینکے گئے جن کے تباہ کن اثرات چند ہی سال بعد نظر آنے لگے۔ بات درختوں کی نہیں ہے‘ بات اُس وقت کے سربراہان کی عقل کی ہے۔ ایوب خان نے دنیا دیکھی تھی‘ سینڈہرسٹ رائل ملٹری اکیڈمی کے گریجویٹ تھے‘ فوج کے سپہ سالار‘ ملک کے صدر۔ ذاتی بیک گراؤنڈ دیہاتی تھا۔ اتنی سمجھ اُن کو نہ تھی کہ جنگلی شہتوت کے بیجوں والا کام نہیں کرنا چاہیے؟ جنرل یحییٰ خان‘ جن کو اسلام آباد کا انچارج بنایا گیا تھا‘ وہ ذہین آدمی تھے۔ انہیں یہ بات سمجھ نہ آئی؟ انگریزوں کے کلچر کے دلدادہ تھے انگریزوں کی مثال سے ہی کچھ سیکھ لیا ہوتا جنہیں درختوں کے بارے میں ہم سے بہتر پتا تھا۔ مال لاہور کی خوبصورتی کے چرچے پورے ہندوستان میں پھیلے ہوئے تھے۔ اس سڑک کی آدھی خوبصورتی پیپل کے درختوں کی وجہ سے ہے۔ انگریزوں نے اس سڑک پر یہاں کے درخت لگائے نہ کہ باہر سے منگوائے ہوئے پودے۔
یوکلپٹس آسٹریلیا کا درخت ہے یہاں کا قدرتی درخت نہیں ہے‘ نہ ہی ہماری زمینوں کیلئے فائدہ مند ہے۔ کون سا وہ منحوس لمحہ تھا جب غیر ملکی ماہرین نے ہمیں یوکلپٹس پر لگا دیا اور پورا محکمہ جنگلات یہی ایک درخت لگانے مصروف ہو گیا۔ یعنی ہماری اپنی سوچ کوئی نہیں۔ جو باہر سے آ کے کچھ بتاتا ہے ہم من وعن تسلیم کر لیتے ہیں۔ محکمہ جنگلات ایک طرف رہا‘ جاتی امرا میں مبینہ طور پر یہی درخت لگے ہوئے ہیں۔ پورے موٹر وے پر جہاں اتنی اچھی شجر کاری ہو سکتی تھی‘ یوکلپٹس لگے ہیں۔ کونو کارپس سندھ کے ساحلی علاقے کا درخت ہے۔ کیونکہ تیز اُگتا ہے ہمارے ضلعی افسران نے جہاں دیکھو کونو کارپس لگائے ہیں۔ بنیادی بات وہی کہ ہماری اپنی سوچ نہیں ہے۔
پھر بتائیے سر کھپانے کی کیا ضرورت ہے۔ بہتر نہیں کہ اس سردی میں آگ کے پجاری ہو جائیں اور موڈ بنے تو وہیں عبادتِ شب بھی ہو جائے؟