بلوچستان کے معروف سیاست دان محمود خان اچکزئی نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ انہیں وزیراعظم میاں نواز شریف نے کابل بھیجا تھا تاکہ وہ صدر کرزئی سے ملاقات کرکے افغانستان کی جانب سے ممکنہ حملے کو ٹال سکیں۔ میرے نزدیک ان کے اس بیان کی کوئی حقیقت نہیں ہے بلکہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ افغانستان سے متعلق یہ سوچنا کہ وہ پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے ایک سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے۔ نیز وزیراعظم میاں نواز شریف کو کن ذرائع سے یہ بات معلوم ہوئی کہ افغانستان پاکستان کے خلاف ''حملہ‘‘ کرنا چاہتا ہے یا ایک جنگی محاذ کھولنا چاہتا ہے ؟ اگر ایسی بات ہوتی تو وہ دفتر خارجہ کے علاوہ پاکستان کے اہم فوجی کمانڈروں سے اس مسئلہ پر مشاورت کرکے حقیقت کو جاننے کی کوشش کرتے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ محمود خان اچکزئی کو ہدایت کی کہ وہ کابل جاکر صدر کرزئی سے ملاقات کر کے اس ممکنہ حملے کو رکوانے کی کوشش کریں۔ اول تو محمود خان اچکزئی کا سیاسی قد اتنا بڑا نہیںہے کہ وہ کابل اور پاکستان کے درمیان کسی قسم کی مفاہمت کراسکیں ، اگر وہ اس پوزیشن میں ہوتے تو پہلے ہی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرسکتے تھے۔ کم از کم افغانستان میں بلوچ باغیوں کے موجود تربیتی کیمپ بند کرانے میں ہی اپنا کردار ادا کرسکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا؛ تاہم یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ میاں نواز شریف نے انہیں کابل بھیجا تھا، محض اس لئے کہ صدر کرزئی اور اچکزئی دونوںپختون ہیںاور اس پس منظر میں ان ملکوں کے درمیان پائی جانے والی تھوڑی بہت غلط فہمیاں دور ہوسکتی ہیں، لیکن پختون فیکٹرکابل اور اسلام آباد کے مابین اچھے خوشگوار تعلقات کی راہ میں کوئی با معنی کردار ادا نہیں کر سکتا۔ اگر ایسا ہوتا تو صدر کرزئی کے خلاف پختون طالبان ان کے اور امریکہ کے خلاف اپنی جنگ بند کردیتے ، نیز انہوں نے محض اپنے اقتدار کو بچانے اور پختون طالبان کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے اب تک سیکٹروں پختونوں کو ناٹو کی فوجوں کے ہاتھوں قتل کرایا ہے۔
تاہم اس ضمن میں ایک اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ محمود خان اچکزئی نے یہ نہیں بتایا کہ افغانستان سے پاکستان کو کس قسم کا خطرہ درپیش تھا اور اس کی نوعیت کیا تھی؟ محمود خان اچکزئی کو شاید یہ ادراک نہیں ہے کہ افغانستان کی کل آبادی تین کروڑ سے زیادہ نہیں ہے، اس تین کروڑ کی آبادی میں پختون آبادی صرف چالیس فیصد ہے۔ دوسری قومیتوں میں تاجک ، ہزارہ اور ازبک شامل ہیں جو طالبان سے کسی نہ کسی صورت میںنبرد آزماہیں۔ بھلا یہ تین کروڑ کا ملک جس کی آبادی کا بڑا حصہ کرزئی کی حکومت اور غیر ملکی فوجوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہے وہ بھلا پاکستان کے خلاف ''حملہ ‘‘کرنے کا سوچ بھی سکتا ہے؟ پھر افغان نیشنل آرمی جس کی تعداد دو لاکھ بتائی جاتی ہے وہ منظم آرمی نہیں ہے۔ اس میں زیادہ تر فوجی طالبان سے ہمدردی رکھتے ہیں اور موقع دیکھتے ہی طالبان سے مل جاتے ہیں یا پھر غیر ملکی فوجوں کے افسران کو قتل کردیتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان ، افغانستان تعلقات کے پس منظر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان کبھی بھی اچھے تعلقات نہیں رہے، (ماسوائے طالبان کی حکومت کے دوران)۔ افغانستان قیام پاکستان کے روز ہی سے پاکستان کا مخالف تھا۔ اس نے پاکستان کی اقوام متحدہ میں شمولیت کی زبردست مخالفت کی تھی۔ آج بھی اس کے طرز عمل میں کوئی نمایاں فرق نہیں آیا ہے۔ افغان آرمی کے علاوہ افغانستان میں قیام پزیر پاکستان دشمن دہشت گردوقتاً فوقتاً پاک افغان بارڈر پر چھوٹی موٹی گوریلا کارروائیاں کرتے رہتے ہیں ، لیکن یہ عناصر پاکستان کے خلاف کسی قسم کا بڑا محاذ کھولنے کا متحمل نہیں ہوسکتے۔
افغان حکومت کے علاوہ وہاں کچھ وار لارڈ بھارت کی ایما اور اشارے پرپاکستان کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں ، لیکن ایک عام افغان پاکستان سے نفرت نہیں کرتا۔ افغانستان میں پاکستان کے خلاف نفرتوں کی باڑ لگانے میں کرزئی، بھارت اور شمالی اتحاد سے وابستہ عناصر کا ہاتھ ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ افغانستان کے عوام پاکستان کے خلاف ہیں۔ محمود خان اچکزئی کو شاید یہ معلوم نہیں ہے کہ میاں نواز شریف نے گزشتہ ماہ یعنی شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے آغاز سے قبل صدر کرزئی کو فون کیا تھا کہ وہ پاک افغان سرحد کو سیل کردیں‘ تاکہ دہشت گرد اس جانب فرار نہ ہوسکیں، لیکن کرزئی نے میاں صاحب کے اس فون پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا اور نہ ہی اس پر عمل کیا۔ اب بھی افغانستان سرحد سے دہشت گرد پاکستان کی چوکیوں پر حملہ کر تے رہتے ہیں۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نورستان میں چھپے ہوئے فضل اللہ اور اس کے دیگر ساتھیوں کو پاکستان کے حوالے کردیں، لیکن اس مطالبے پر بھی افغان حکومت نے کوئی دھیان نہیں دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ صدر کرزئی بھارت کے اشتراک سے پاک افغان بارڈر پر پاکستان کے لئے مسائل کھڑے کررہے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان مسلسل کشیدگی پیدا کرنے کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم کی ہدایت پر کابل جاکر صدر کرزئی سے ملاقات کرکے اپنے تئیں دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے کی قابل تحسین کوشش کی ہے، لیکن کیونکہ ان کا سیاسی قد بڑا نہیں ہے، اور نہ ہی وہ علاقائی صورتحال کو سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں ، اس لئے ان کا پاکستانی قوم کو یہ بتانا کہ انہوں نے افغانستان کی جانب سے ممکنہ ''حملے ‘کو رکوانے میں کردار ادا کیا ہے، ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ وزیراعظم نواز شریف سے ان کے ذاتی مراسم ہیں۔ ان مراسم کی وجہ سے ان کو کئی مراعات مل رہی ہیں جس میں ان کے بھائی کو گورنر اور کسی کو وزیر مقرر کیا گیا ہے۔ تعلقات کی بنیاد پر مراعات حاصل کرناپاکستان کی سیاست کا حصہ ہے۔ اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی کرنا چاہیے۔ اس سے قبل جب وہ کسی حکومت کا حصہ نہیں تھے تو اسمبلی کے اندر بڑے جارحانہ بیانات دیا کرتے تھے اور اپنے آپ کو قوم پرست ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے، لیکن میاں صاحب کی عطا کردہ مراعات نے ان کی زبان کو تالے لگا دیے ہیں اور وہ حکومت کی ناقص کارکردگی پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ، اگر اچکزئی واقعی قوم پرست رہنما ہیں تو انہیں بلوچستان میں وفاق کے خلاف بغاوت کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور گمراہ بلوچیوں کو مذاکرات کی میز پر لاکر بلوچستان میںترقی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر محمود خان اچکزئی یہی کام کرلیتے ہیں تو ان کا سیاسی قد اونچا ہوجائے گا اور پاکستان کے عوام میں ان کا احترام بھی بڑھ جائے گا۔''شاید کے تیرے دل میں اتر جائے میری بات‘‘۔