بلوچستان کی سیاسی‘ عسکری قیادت کی کوششوں سے بلوچستان میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں‘ یہ تبدیلیاں اگر اسی رفتار سے جاری وساری رہیں تو بہت جلد بلوچستان کے عوام ایک نئی زندگی سے متعارف ہوسکیں گے۔ جن عناصر نے اپنے اور غیر ملکی طاقتوں کے ایما پر مرکزی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھائے تھے، وہ اب آہستہ آہستہ حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال رہے ہیں، اس یقین اور اعتماد کے ساتھ کہ اب ریاست ان کے مطالبات پہ غور کرتے ہوئے انہیں پورا کرے گی تاکہ وہ پُر امن زندگی بسر کرسکیں۔ اب تک 400سے زائد باغیوں نے عسکری قیادت کے سامنے ہتھیار ڈالے ہیں جن کو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ ان کے ساتھ نہایت عزت کا برتائو کیا جائے گا، اور ان کے معاشی سماجی حقوق کا مکمل پاس رکھا جائے گا۔ اس طرح اب آہستہ آہستہ دیگر باغی بھی بے مقصد'' جنگ‘‘ سے تنگ آکر حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال رہے ہیں، ان باغیوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں بہکایا گیا تھا اور سبز باغ دکھائے گئے تھے، لیکن کافی عرصہ مرکزی اور صوبائی اداروں سے جنگ کرنے کے بعد انہیںکچھ بھی نہیںملا ‘ماسوائے اپنوں کی عبرت ناک مو ت کے جو کسی بھی اس شخص کو مل سکتی ہے جو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاتاہے۔ اس طرح اب ایک پُر امن بلوچستان حقیقی معنوں میں نظر آرہا ہے۔
اسی پس منظر میں ثناء اللہ زہری نے لندن میں مقیم خان آف قلات کے صاحبزادے میر سلمان سے ملاقات کی اور حکومت کے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ وطن واپسی کے بعد ان کے خلاف کسی بھی قسم کے مقدمات قائم نہیں کئے جائیں گے بلکہ پاکستان کی سیاست میں ان کے کردار کو سراہا جائے گا۔ ثناء اللہ زہری اور میر سلمان کے درمیان لندن میں بات چیت سے بہت حد تک بلوچستان میں برف پگھلی ہے جبکہ یہ امید اپنی جگہ حقیقت کے بہت قریب ہے کہ باہر بیٹھے ہوئے بعض بلوچ سردار واپس آکر بلوچستان کی سیاست میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس وقت بلوچستان کا ایک عام آدمی اس حقیقت کو سمجھ چکا ہے کہ بلوچستان کبھی پاکستان سے علیحدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کے امکانات موجود ہیں ، کیونکہ بلوچوں کی اکثریت پاکستان سے ملنے والی مراعات سے استفادہ کررہی ہے، بلکہ نوجوانوں کو ایک بڑی تعداد میں فوج میںملازمتیں بھی مل چکی ہیں،جو ایک شاندار مستقبل کے ساتھ اچھی زندگی بسر کررہے ہیں، اور فوج میں رہتے ہوئے وطن کی حفاظت کرنے میں فخر محسوس کررہے ہیں۔
دراصل بلوچستان کا مسئلہ کبھی بھی پیچیدہ نہیں رہا‘ اس کو پیچیدہ بنایا گیا ہے، جس میں بیرونی قوتوں کا بہت بڑا کردار ہے جنہوںنے چند نادان بلوچوں کو یہ باور کرایا تھا کہ ایک آزاد بلوچستان میں انہیں غیر معمولی مراعات مل سکیں گی اور وہ ''پنجاب‘‘ کے ''غلام‘‘ نہیں رہیں گے۔ایک دوسرداروں کے بیٹے اس جھانسے میں آگئے اور انہوں نے اپنے ذاتی ملازموں اور محافظوں کے ساتھ مل کر ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے اور ریاست کی املاک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ ایف سی نے ان باغیوں کے اس چیلنج کو قبول کیا اور ان سے مقابلہ کرتے ہوئے انہیں اب ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا ہے۔ ان باغیوں کی پشت پناہی بھارت کے علاوہ اسرائیل سے بھی ہورہی ہے، مالی معاونت کے علاوہ جدید اسلحہ بھی فراہم کررہے ہیں۔ پاکستان کے خلاف بلوچستان کے اندر بھارت کی پراکسی جنگ سے خود بلوچ نوجوانوں کو شدید نقصان ہوا ہے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مقابلوں کے دوران مارے جارہے ہیں۔ اگریہ نوجوان ریاست کے خلاف ہتھیار نہ اٹھاتے اور ایک پُر امن زندگی بسر کرتے جیسا کہ ترقی پزیر ممالک میں ہوتا ہے، تو ریاست ان کے خلاف کارروائیاں نہ کرتی۔ اس ضمن میں بلوچستان کی محرومیاں بڑھا چڑھا کر پیش کی جارہی ہیں، حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہے، دنیا بھر میں‘ خصوصیت کے ساتھ ترقی پزیر ممالک میں معاشی فوائد مساوی بنیادوں پرہر فرد کو نہیں ملتے ، کیونکہ ان ممالک کی معیشت کی شرح نمو اتنی کم ہوتی ہے کہ اسکے ذریعے آبادی کے معاشی وسماجی مسائل حل نہیں ہوسکتے ہیں۔ بلوچستان کا بھی یہی مسئلہ ہے ، لیکن بلوچستان میں احساس محرومی کو جان بوجھ کر اچھالا گیا ہے، کیونکہ ہر دور میں بلوچستان میں حکومت بلوچ سیاست دانوں یا پھر سرداروں کی رہی ہے، جس میں اکبر بگٹی ، غوث بخش بزنجو‘سردار عطااللہ مینگل ‘ان کے بیٹے اختر مینگل اور جناب رئیسانی شامل ہیں۔ ان سب با اثر افراد نے بلوچستان میں محرومی کو ختم کرنے اور معاشی اصلاحات کے ذریعے ایک عام بلوچی اور پختون کو کیوں فوائد نہیں پہنچائے؟ یہ ایسا کرسکتے تھے، لیکن انہوںنے نہیں ۔ اس کی وجوہات سب کو معلوم ہیں۔ ماضی میں بلوچستان میں قائم ہونے والی حکومتوں نے بے تحاشہ کرپشن کی، اپنے لئے اور اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کیلئے جبکہ بلوچوں کی اکثریت کے پاس معاشی ثمرات نہیں پہنچ سکے، جس کو بعد میں پاکستان دشمن قوتوں نے ریاست کے خلاف Exploitکیا اور جس کے نتیجہ میں بلوچستان کی ترقی اور ترقیاتی منصوبے شدید متاثر ہوئے ۔ اگر بلوچستان میں ''بغاوت‘‘ نہ کرائی جاتی تو یہ صوبہ دیگر صوبوں سے زیادہ ترقی کرسکتا تھا، کیونکہ اس صوبے میں قدرتی وسائل کی بھر مار ہے جس پر ریاستی اداروں کو کام کرنے سے روکا جارہا ہے۔ یہ بلوچیوں کی بد قسمتی ہے کہ وہ اپنے وسائل کو نہ تو اپنے لئے کام میں لا کر ترقی کے امکانات کو روشن کررہے ہیں، اور نہ ہی محب وطن افراد کو اس سلسلے میں کوئی مدد یا معاونت کرنے دے رہے ہیں۔
لیکن اب بلوچستان بدل رہا ہے۔ نوجوان بلوچوں نے محسوس کرلیا ہے کہ ریاست کے ساتھ تصادم کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں ۔ 14اگست کو کوئٹہ کے علاوہ بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی یوم آزادی پاکستان منا کر یہ پیغام دیا گیا ہے کہ بلوچستان کے عوام پاکستان کے اندر رہ کر اپنا مستقبل سنوار سکتے ہیں، بلکہ سنور بھی رہا ہے۔ ایف سی کے علاوہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بلوچستان میں قیام امن کے لئے دہشت گردوں سے جنگ کررہے ہیں، اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں تاکہ بلوچستان کے عوام کا مستقبل محفوظ رہ سکے اور وہ ایک خوشحال زندگی بسر کرسکیں، اور یہ سب کچھ پاکستان کے اندر رہ کرہی ہو سکتاہے۔