ایف آئی اے کی کارروائیوں کی مخالفت کیوں؟

سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ سے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ تک سب ہم آواز ہوکر سندھ میں ایف آئی اے کی کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائیوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ مضحکہ خیز انداز میں کہا جا رہا ہے کہ ایف آئی اے نے سندھ پر ''حملہ‘‘ کر دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار سے سندھ کے عوام میں بے چینی پھیلے گی۔ پی پی پی کے دو بڑے ذمہ داروں کی جانب سے اس قسم کے بیانات سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ سندھ کی حکومت کرپشن کے خلاف ایف آئی اے کی راہ میں‘ نہ صرف رکاوٹ ڈال رہی ہے بلکہ ان عناصر کو بچانے کی کوشش بھی کررہی ہے‘ جن پر اربوں روپوں کے گھپلوں کے الزامات ہیں۔ جیسا کہ بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض اس ناجائز دولت کو لے کر ملک سے فرار ہوگئے ہیں اور بعض دوسرے پس دیوار زنداں ہیں؛ چنانچہ پی پی پی کی موجودہ قیادت کے علاوہ اصلی قیادت ''جو باہر بیٹھی ہوئی ہے‘‘ ایف آئی اے کے خلاف نہ صرف بیان بازی کررہی ہے بلکہ وفاقی حکومت پر دبائو بھی ڈال رہی ہے کہ ان کارروائیوں کو روکا جائے، لیکن شاید قائم علی شاہ اور خورشید شاہ یہ بھول گئے ہیں کہ اس وقت پورے ملک میں دہشت گردی اورکرپشن کے خلاف جو آپریشن کیا جارہا ہے، اس کے دو اہم مقاصد ہیں پہلا یہ کہ لاقانونیت پھیلانے والے دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کو ان کے جرائم کی پاداش میں سخت سزائیں دی جائیں تاکہ دیگر سماج دشمن عناصر عبرت پکڑیں۔ کرپشن اور بدعنوانی ایسی برائیاں ہیں کہ جن کی وجہ سے معاشرے کی معاشی اور ثقافتی سرگرمیاں رک جاتی ہیں‘ دوسرا یہ کہ اب اسٹیبلشمنٹ نے یہ تہیہ کرلیا ہے کہ ان عناصر کو معاف نہیں کیا جائے گا، جنہوں نے اپنے عہدوں سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ملک کی دولت کو لوٹا ہے، یا پھر اہل اقتدار کی اس لوٹ کھوسٹ میں ان کے معاون بنے ہیں۔ ضرب عضب اور ایف آئی اے کے ذریعہ ہونے والی منظم کارروائیوں کا مقصد ہی یہی ہے کہ ایک طرف لوٹی ہوئی دولت کو قومی خزانے میں منتقل کیا جائے، تو دوسری طرف ان عناصر کو عدالتوں کے ذریعہ سخت سزائیں دلائی جائیں تاکہ کرپٹ عناصر دوبارہ سر نہ اٹھا سکیں۔
دراصل سید قائم علی شاہ اور خورشید شاہ کے علاوہ ان کے دیگر ہم پیالہ و ہم نوالہ حواری ایف آئی اے کے خلاف جو شور وغوغا کررہے ہیں اس کی وجہ صاف سمجھ میں آتی ہے کہ یہ سب مل کر کرپٹ اور بدعنوان عناصر کو بچانا چاہتے ہیں؛ حالانکہ بدنام لوگوں کی حمایت بدترین ڈھٹائی ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ ان ''دو بڑوں‘‘ (جن میں ایک کی نیب کی جانب سے تحقیقات بھی ہورہی ہے) کے خلاف ایف آئی اے کی کاروائیوں کو ''صوبائی خودمختاری ‘‘اور'' جمہوریت‘‘ کے خلاف سازش قرار دیا جارہا ہے۔ پاکستان کا با شعور طبقہ یہ بات اچھی طرح جانتا ہے بلکہ سمجھ چکا ہے کہ کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائیوں سے نہ صوبائی خودمختاری متاثر ہوتی ہے اور نہ کوئی جمہوریت کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ پی پی پی کے سات سالہ دور میں جس طرح جمہوریت کے نام پر عوام کا استحصال کیا گیا ہے، اور کرپشن کا عالمی ریکارڈ قائم ہوا ہے، اس نے یہ ثابت کردیا ہے کہ چالاک اور عیار سیاست داں ناخواندہ اور ناسمجھ عوام کو جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کے نام پر دھوکہ دیتے ہیں۔ جب ان کا محاسبہ شروع ہوتا ہے تو پھر معاشرے اور سیاست کو بدعنوانیوں سے پاک کرنے کی کاروائیوں میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ ماضی میں تو ایسا ممکن ہوتا رہا ہے‘ لیکن اب یہ ممکن نہ ہوسکے گا، کیونکہ ملک کے تمام ذمہ داران جرائم اور کرپشن کے خاتمے کے لیے ہم آواز ہیں انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اگر کرپٹ عناصر اور جرائم مافیاز کے خلاف موثر اور مضبوط کارروائی نہ ہوئی تو ملک کبھی بھی اقتصادی طورپر اپنے پیروں پر نہیں کھڑا ہوسکے گا، اس صورت میں ریاست عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہے گی۔ 
یہ امر قابل ذکر اور قابل توجہ ہے کہ ایف آئی اے کی کرپٹ عناصر اور کرپشن کے خلاف کارروائیوں پر عام آدمی بہت خوش ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میںگزشتہ سات سالوں کے دوران جس طرح بے لگام کرپشن ہو رہی تھی‘ اُس پر عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا تھا کہ قومی دولت لوٹنے والوں کو پکڑنے والا کوئی پیدا نہیں ہوا ہے۔ کرپشن اور جرائم کے باعث معاشرے میں نیک، شریف اور ایماندار افراد کی کوئی اہمیت یا جگہ نہیں رہ گئی ہے۔ کرپشن کے سدباب کے لیے افواج پاکستان کا کردار سب سے اہم ہے۔ جس نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ ہر قیمت پر کرپٹ عناصر کے خلاف نظر آنے والی کارروائیاں کی جائیں گی 
تاکہ ملک اور معاشرے کو تباہی سے بچایا جاسکے۔ ملک کے اندر یا باہر ناجائز دولت کے جمع ڈھیروں کو واپس قومی خزانے میں لایا جائے۔ اس پس منظر میں قائم علی شاہ اور خورشید شاہ ایف آئی اے کے خلاف جس غم وغصہ کا اظہار کررہے ہیں‘ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ وہ قومی دولت لوٹنے والوں کے خلاف کارروائی کے مخالف ہیں لیکن ان کی یہ احتجاجی آواز قبرستان میں اذان دینے کے مترادف ثابت ہوگی۔ پانی سر سے اونچا ہوگیا ہے، یا تو ملک کو کرپٹ عناصر سے پاک کردیاجائے یا پھر ملک کو ان کے حوالے کر دیا جائے جیسا کہ گزشتہ سات برسوں کے دوران ہوا، اب تو سندھی دانشور بھی پی پی پی کے دور میں ہونے والی بے لگام کرپشن پر اپنی آواز بلند کررہے ہیں اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ان کرپٹ عناصر کو کسی بھی صورت معاف نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ کرپشن اور جمہوریت دو متضاد چیزیں ہیں کرپشن ملک وملت کا شیرازہ بکھیر دیتی ہے، جبکہ کرپشن کے ماحول میں جمہوریت فروغ نہیں پا سکتی۔ پاکستان کے محب وطن عوام ایف آئی اے کی جانب سے کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائیوں کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں۔ اگر کرپشن کو ختم کردیا گیا تو پھر دہشت گردی بھی آہستہ آہستہ ختم ہوجائے گی ع 
شاید کہ ترے دل میں اتر جائے میری بات

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں