نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا معاملہ

وزیراعظم میاںنواز شریف نے نیشنل ایکشن پلان سے متعلق بڑی وضاحت سے کہا ہے کہ اس پر موثر طورپر عمل درآمد نہیں ہورہا، کسی صوبے میں کچھ ہو رہا ہے اورکسی صوبے میں کچھ بھی نہیں ہورہا، یہ بڑی تشویش کی بات ہے۔ وزیراعظم نے نیشنل ایکشن پلان سے متعلق ان خیالات کا اظہار اس لئے کیاکہ 10ستمبر کو اسلام آباد میں پانچ گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے اجلاس میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ دہشت گرد، سماج دشمن عناصر اور نفرت پھیلانے والے عناصر ملک کے بعض علاقوں میں ابھی تک سرگرم ہیں اور وہ اپنے بیرونی آقائوںکے اشارے اور مالی مدد کے ذریعے پاکستان کو اندر سے عدم استحکام سے دوچار کر رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے علاوہ پاکستان کے خلاف مذموم کارروائیوں میں وہ عناصر بھی شامل ہیں جو کرپشن میں ملوث تھے، لیکن جیسے ہی ایکشن پلان شروع ہوا، یہ عناصر زیر زمین چلے گئے؛ تاہم کچھ پکڑے گئے اورکچھ ملک سے فرار ہوگئے، لیکن ان کی باقیات پاکستان کے اندر رہتے ہوئے کام کر رہی ہیں۔ ان میں بعض این جی اوز بھی شامل ہیں جو غیر ملکی مالی امداد اور حمایت کے ساتھ، حکومت اور فوج کے بارے میں گمراہ کن پروپیگنڈا کرکے پاکستانی عوام میں مایوسی پھیلا رہی ہیں، ان کے خلاف بھی جلد کارروائی ہوگی۔ اسلام آباد میں ہونے والی نیشنل اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ ہر صوبے کو نیشنل ایکشن پلان پر سنجیدگی اور خلوص نیت سے عمل درآمدکرنا ہوگا جس میں اسپیشل ٹرائل کورٹ کے قیام کے علاوہ ان دہشت گردوں کو فوری طورپر پھانسی دینا شامل ہے جنہیںعدالت مجرم قرار دے چکی ہے۔ اس غیر معمولی اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ فاٹا میں معاشی اصلاحات نافذ کرکے وہاں عوام کو زندگی کی بہتر سہولتیں مہیا کی جائیں جن میں تعلیم ، صحت اور پینے کے صاف پانی کو ترجیح حاصل ہو۔ بلوچستان میں ناراض بلوچوں کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی جاری رہنی چاہئے؛ تاہم تخریب کاروںکے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتنی چاہیے۔ 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد اس لئے نہیں ہوسکا کہ بعض جگہ سیاسی عناصر بڑی چالاکی سے اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ ماضی میں لاقانونیت کی وجہ سے انہیں جو فوائد مل رہے تھے وہ کسی نہ کسی طرح جاری رہ سکیں۔ اس کی ایک واضح مثال سندھ ہے، جس کے بزرگ وزیراعلیٰ ہر لمحہ نیشنل ایکشن پلان سے متعلق شکایتیں کرتے نظر آتے ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے حال ہی میں سبکدوش ہونے والے امریکی سفیر سے ملاقات کے دوران ایف آئی اے کی کارکردگی پر اعتراض کرتے ہوئے ان سے''مدد‘‘کی استدعا کی تھی۔ قائم علی شاہ ایک مجبور وزیراعلیٰ ہیں جو سابق صدر آصف علی زرداری کے احکامات پر عمل درآمد کرنے میں ہی اپنی نوکری کی بقا تصور کرتے ہیں؛ حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ وہ سندھ کے بعض کرپٹ سیاست دانوں اور افسروںکو بچانے کے سلسلے میں خود اپنی پوزیشن کمزوراور متنازع بنا رہے ہیں۔ گزشتہ سات آٹھ برسوں میں سندھ میں ہر سیاسی جماعت نے جس دیدہ دلیری سے کرپشن کی اس کی مثال کسی دوسرے ملک میں ملنا مشکل ہے۔ ان بدعنوان عناصر کو بچانے کے لئے سید قائم علی شاہ ہر فورم پر ایف آئی اے اور نیب کی شکایتیں کرتے رہتے ہیں۔ 10ستمبر کو اسلام آباد میں ہونے والی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں بھی انہوںنے وزیراعظم کے سامنے شکایتوں کے انبار لگادیئے؛ حالانکہ نجی محفلوں میں وہ مبینہ طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ آصف علی زرداری انہیں ایسی ہدایتیں دیتے ہیں جن میں کسی بھی عنوان سے صوبے یا ملک کی بھلائی نہیں ہوتی‘ لیکن انہیں نوکری بچانی ہے اوران عناصرکی حمایت میں ''کلمہ حق‘‘ ادا کرنا ہے جنہوں نے صوبے اور پورے ملک کی ترقی اور خوشحالی کو دائو پر لگارکھا ہے۔ کیا محب وطن سیاسی لوگ ایسے ہوتے ہیں؟
اسی غیر معمولی اجلاس میں کراچی میںہونے والے ٹارگٹڈ آپریشن سے متعلق بھی بڑی تفصیل سے تبادلہ خیال کیاگیا، جس میں آئی جی سندھ کا یہ بیان تسلیم کیا گیاکہ کراچی میں 70 فیصد جرائم کا خاتمہ کردیا گیا ہے اور بڑے بڑے بدنام زمانہ ٹارگٹڈ کلرز اور ان کی حمایتیوں کو گرفتارکیا جا چکا ہے جبکہ ان میں سے بعض پولیس مقابلوں میں ہلاک ہو چکے ہیں ۔ لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ابھی سماج دشمن عناصرکو ختم کرنے میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کراچی پولیس اور رینجرز باہم مل کر اس مشکل کام کو انجام دے رہے ہیں، قربانیاں بھی دے رہے ہیں اور ان کے جذبوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس ضمن میں تعاون کا مظاہرہ نیم دلی سے ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کی سڑکوں اور گلیوں میں ابھی تک چھوٹے بڑے جرائم جاری ہیں۔ اس ضمن میں ایم کیو ایم کو کچھ شکایتیں ہیں جن کا ازالہ کرنا شہری سندھ کے مفاد میں ہے، خصوصیت کے ساتھ ان کا یہ کہنا درست معلوم ہوتا ہے کہ کراچی میں ہونے والے ہر جرم کے پیچھے اس جماعت کے کارکنوںکو ملوث کرنا ناانصافی کے مترادف ہے۔ مذکورہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ٹارگٹڈ آپریشن جاری رہے گا۔ جب تک کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں سماج دشمن عناصر کا صفایا نہیں ہوجاتا حکومت اس سلسلے میں پر عزم ہے۔
دہشت گردی کے علاوہ پاکستان میںایک اور لعنت جو معاشرے میں باہم نفرت اور عداوت کا باعث بن رہی ہے وہ فرقہ واریت کا زہر ہے جو بعض مدارس اور علمائے سو کی جانب سے شروع کیا گیا ہے اورجس کی وجہ سے اسلام کی عظیم اقدار کو ٹھیس پہنچ رہی ہے۔ اسی لئے بعض مدارس میں اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ اصلاحات کے ذریعے ہی ان مدارس میں صیح معنوں میں اسلامی اقدارکی روشنی میں تعلیم وتدریس کا سلسلہ جاری رہ سکے گا۔ ہمارے ملک کی یہ بڑی بد قسمتی رہی کہ یہاں عرصہ دراز سے گڈ گورننس کا فقدان رہا ہے، قانون کی اہمیت اور افادیت کو طاقتور عناصر نے پیروں تلے روندتے ہوئے ملک کے بیشتر اداروں کو تباہی سے دوچار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اب کئی حوالوں سے یہ حقیقت سامنے آ رہی ہے کہ قانون کی بالا دستی ملک کے استحکام اور عوام کی بھلائی کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں گے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ یہ پاکستان کے عوام کی اکثریت کی آرزو ہے جو یقیناً پوری ہوگی۔ نیشنل ایکشن پلان میںیہ بات بھی زیر بحث آئی تھی کہ پنجاب کو دہشت گردوں سے پاک کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جائے گی کیونکہ جنوبی پنجاب کے علاوہ بعض دوسرے حصوں میں جاہل اور اسلامی تعلیمات سے عاری عناصر مذہب کا لبادہ اوڑھ کر فرقہ واریت کوہوا دے رہے ہیں اور یہ ان افراد کو قتل بھی کر رہے ہیں جو ان کے خیالات سے متفق نہیں ہیں۔ پنجاب میں سماج دشمن عناصر کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ پنجابی طالبان، تحریک طالبان پاکستان میں شامل ہوکر پاکستان کی عسکری قیادت کو چیلنج کر رہے ہیں اور پاکستان دشمن قوتوںکا حوصلہ بھی بڑھا رہے ہیں۔ اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ پنجاب میں ہر جگہ ان کے خلاف موثر اور بھر پور کارروائی کی جائے۔ یہ بات یادرکھنی چاہئے کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں