میری ٹائم انٹرنیشنل کانفرنس(گزشتہ سے پیوستہ )

گوادر کو بندرگاہ کی حیثیت دینے سے متعلق سوچ بچار کا سلسلہ 1954ء میںشروع ہواتھا۔ اس وقت گوادر اور اس کے قرب وجوار میں واقع علاقے سلطنت اومان کا حصہ تھے، پاکستان نے گوادر کی بندرگاہ کو ترقی دینے سے متعلق امریکہ سے رجوع کیا اور ماہر ارضیات کی خدمات حاصل کی گئیں، جنہوںنے کئی ماہ کی مشقت کے بعد حکومت پاکستان کو ایک رپورٹ کے ذریعہ یہ بتایاکہ گوادر گہرے سمندر پر واقع ہونے کے باعث یہاں پر ایک بندرگاہ بن سکتی ہے، جو اس خطے کے ممالک کے مابین تجارت کے فروغ کا باعث بن سکتی ہے۔ امریکہ کے ماہرارضیات کی اس رپورٹ کے بعد پاکستان نے سلطنت اومان سے دسمبر1958ء میں گوادر کو 3ملین ڈالر کے عوض خرید لیا جو کہ اب پاکستان کا اٹوٹ حصہ بن چکا ہے، اس سلسلے میں حیرت کی بات یہ ہے کہ گوادر کو بندرگاہ بنانے کا مشورہ امریکہ نے دیا تھا، لیکن اب چین اس بندرگاہ کو ترقی دے رہاہے، اور مجموعی طورپر گوادر پروجیکٹ پر 53بلین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کررہا ہے، عملی طورپر گوادر کی بندرگاہ پر کام سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں شروع ہوا تھا ، اس کی تعمیر پر زیادہ تر سرمایہ چین نے لگایا تھا۔ 2002ء سے اس پر چینی ماہرین نے کام شروع کیا اور 2007ء میں اس کو مکمل کرلیا، سابق صدر نے ہی اس بندرگاہ کا افتتاح کیا تھا۔
اس وقت گوادر کی بندرگاہ کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے، پہلا جہاز گزشتہ ماہ چین کے شہر کاشغر سے برآمدی سامان لے کر مشرق وسطیٰ اور افریقہ روانہ ہوچکاہے، آئندہ آہستہ آہستہ چین اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے برآمدی سامان آنا شروع ہوجائے گا، لیکن یہاں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے، گوادر کی بندرگاہ کو کئی خطرات کا سامنا ہے یہ خطرات سمندر سے بھی ہیں اور زمینی راستے سے بھی، جو ممالک گوادر کو ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں، اس میں بھارت ،اسرائیل اور افغانستان سرفہرست ہیں ،بھارت بحری راستے سے بھی گوادر کو نقصان پہنچا سکتاہے ، جیسا کہ قارئین کو یاد ہوگا کہ گذشتہ دنوں بھارت کی ایک آبدوزنے گوادر کے قریب سمندری حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی،لیکن پاکستان کی نیوی نے اس کی چالوں کو ناکام بنادیا تھا، تاہم پاکستان کی نیوی کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ بھارت بحری راستوں اور زمینی راستوں سے اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ لااینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا کرسکتاہے۔ 
میری ٹائم سکیورٹی کانفرنس میں ایران کے سفیر علی رضا نے کھڑے ہوکر مندوبین کو واشگاف الفاظ میں بتایا کہ ان کی بندرگاہ چہاہ بہار کا گوادر کی بندرگاہ سے کوئی مقابلہ نہیں ہے جو75کلو میٹر پر واقع ہے، ایران خود اس عظیم اقتصادی منصوبے میں شامل ہونا چاہتاہے، ایران کبھی بھی اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیگا، جو عناصر ایران اور پاکستان کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے، علی رضا نے یہ بھی کہا کہ چہا ہ بہار بھارت کی بندرگاہ نہیں ہے، اور نہ ہی ایران نے اس کو بھارت کے حوالے کیا ہے، ایران بھی گوادر میں سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتاہے، نیز بہت جلد پاکستان ایران گیس پائپ لائن کا پروجیکٹ بھی مکمل پائے تکمیل پہنچے والاہے، پاکستان اپنے حصہ کی پائپ لائن تعمیر کررہاہے، جبکہ ایران نے اپنے حصہ کی پائپ لائن مکمل کرلی ہے، ایران پر امریکہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے اقتصادی پابندیاں اٹھ جانے کے بعد ایران کسی بھی ملک سے اپنے سیاسی اقتصادی اور تجارتی روابط بحال کرنے میں آزاد ہے، چنانچہ دوروز تک جاری رہنے والی مری ٹائم سکیورٹی کانفرنس میں گوادر پورٹ اور بحرہند سے متعلق بہترین مقالے پیش کئے گئے جس میں ممکنہ خطرات کے علاوہ گوادر پورٹ کی اقتصادی حیثیت کو تمام سیاق وسباق کے حوالے سے اجاگر کیا گیا، پورٹ اینڈ شپنگ کے وفاقی وزیر حاصل بز بخونے اس موقع پر گوادر کی بندرگاہ کو اقتصادی شہ رگ سے تعبیر کیا ہے، جس طرح قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا، گوادر کی بندرگاہ کی حفاظت کے لئے ایک حفاظتی فورس KK880 تشکیل دی گئی ہے، جو مستعد نوجوانوں پر مشتمل ہے ہمارے سامنے اس فورس نے پاکستان کے تینوں سروسز کے سربراہوں کو سلامی پیش کی، یہ منظر قابل دید اور محسور کن تھا۔
جیسا کہ پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ حکومت پاکستان نے گوادر کی بندرگاہ کو چین کی Overseas Port Holding Companyکو 45سال کی لیز پر دیا ہے، جو اس کی ترقی اور تعمیر کی نہ صرف نگہبانی کرے گی بلکہ مطلوبہ رقم بھی فراہم کرے گی، چینی کمپنی گوادر پورٹ پر 9برتھ کی تعمیر کے علاوہ کارگو ٹرمینل بھی بنائے گی، اس کے علاوہ گوادر پورٹ کو مزید گہرا کیا جائے گا، اس وقت اس کی گہرائی 11.5میٹر ہے، جسے بڑھا کر 14میٹر کیا جائے گا تاکہ زیادہ بڑے وزنی جہاز بہ آسانی اس پورٹ پر لنگر انداز ہوسکیں، گوادر کے قریب ایک بریک واٹر بنانے کا بھی منصوبہ شامل ہے، چین کی حکومت کو اس بات کا ادراک ہے کہ اگر گوادر شہر کے باسیوں کے لئے معاشی وسماجی اقدامات نہیں کئے گئے تو پورٹ کی فعالیت اور اہمیت متاثر ہوسکتی ہے، چنانچہ ڈاکٹر ژوبیگ نے کانفرنس کے شرکاء کو اپنی تقریر میں یہ یقین دلایا کہ چین کی حکومت گوادر کے شہریوں کی ترقی کے لئے ہر ممکنہ اقدامات اٹھائے گی جس میں سکول، صحت کے مراکز اور Vocational Training مراکز کی تعمیر شامل ہے۔ اس وقت چین کی مدد سے کئی سکول تعمیر کئے جاچکے ہیں، جبکہ صحت کے مراکز پر کام ہورہاہے، گوادر میں پینے کا پانی ایک اہم مسئلہ کی حیثیت رکھتاہے، اس کے لئے یہاں ایک Desalination Plant تعمیر کیا جارہاہے، تاکہ گوادر کے عوام کو وافر مقدار میں پینے کا پانی دستیاب ہوسکے، گوادر کے ماہی گیروں کے لئے ایک علیحدہ جدید جیٹی تعمیر کی جارہی ہے، جس میںماہی گیروں کو جدید سہولتیں حاصل ہوں گی، بلکہ بہت جلد ایک خطیر رقم سڑکوں کی تعمیر پر خرچ کی جائے گی، کیونکہ جب تک گوادر کی بندرگاہ تک پہنچے کے لئے معقول سڑکوں کا نظام موجود نہیں ہوگا، اس وقت تک گوادر پورٹ کی فعالیت میں بہتری نہیں آسکتی۔ بلوچستان کی صوبائی اور وفاقی حکومت اس ضمن میں چین کی بھر پور مدد کررہی ہے، کیونکہ گوادر پورٹ کے شروع ہونے سے بلوچستان میں ترقی کا ایک نیا سویرا طلوع ہورہاہے، کانفرنس کے شرکاء نے اس حقیقت کو محسوس کرلیاہے کہ اب گوادر پورٹ محض ایک خیال وخواب نہیں ہے، بلکہ حقیقت کا روپ دھار چکا ہے اس کو حقیقت بنانے میں پاکستان نیوی کا کلیدی کردار رہاہے، جو آئندہ بھی رہے گا، بری فوج بھی گوادر پورٹ کی حفاظت اور فعالیت کے سلسلے میں پاکستان نیوی کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہوئی ہے، ان دونوںسروسز کے تعاون سے بلوچستان کے عوام کو تحفظ اور ترقی کے حوالے سے نیا حوصلہ ملا ہے، پاکستان زندہ باد۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں