2014ء سے پاکستان اور روسی فیڈریشن کے درمیان باہمی تعلقات میں بتدریج اضافہ ہورہاہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ بھارت کا روس کے ساتھ دورخی اور دوغلے پن پر مبنی رویہ ہے، جبکہ امریکہ کے ساتھ اس کے سیاسی ،معاشی وفوجی تعلقات میں بہت تیزی سے اضافہ ہواہے، یہاں تک کہ بھارت نے امریکہ کو اپنے ملک میں فوجی اڈوں کے قیام کے علاوہ ہر قسم کے معاشی اور ثقافتی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، چنانچہ اب امریکہ بھارت کا سٹریٹیجک پارٹنر بن چکاہے، روس کو بھارت کی یہ بے وفائی بالکل پسند نہیں آئی، کیونکہ روس بھارت کا پرانا قابل اعتماد دوست رہا ہے، اور ماضی میں اس نے بھارت کی معاشی ، دفاعی اور جوہری صلاحیتوں کو ابھار نے اور مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن نریندرمودی جہاں روس کے ساتھ بھارت کے تعلقات کو انتہائی نچلی سطح پر لے آیا ہے، وہیں اس نے امریکہ بہادر کے لئے وہ سب کچھ تھالی میں رکھ کر دے دیا ہے جو امریکہ چاہتا تھا، بھارت کے اس رویے نے روس کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ اب جنوبی ایشیا میں بھارت اور امریکہ کے گٹھ جوڑ سے ایک نئی صورتحال پیدا ہوچکی ہے، اس لئے اس کو بھی اس انتہائی اہم خطے میں دیگر ممالک کے ساتھ مل کر خصوصی طورپر پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے اور اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، دوسری طرف ماضی کے تلخ واقعات کو فراموش کرتے ہوئے آگے کی طرف دیکھنا چاہئے، چنانچہ روس کو اب پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہاہے، اورمضبوطی اور استحکام بھی! یہ صورتحال دونوں ممالک کے لئے خوش آئند ہے، چنانچہ اسی پس منظر میں روس کے کراچی میں قونصل جنرل مسٹر اولیگ نے کچھ سینئرصحافیوں کو اپنے دفتر مدعو کیا تھا تاکہ روسی فیڈریشن کی پاکستان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں آگاہ کیا جائے، صحافیوں کا شکریہ ادا کرنے کے بعد انہوںنے کہا کہ پاکستان میں نمایاں تبدیلیاں آرہی ہیں، حالات اب پہلے جیسے نہیں رہے ہیں، بلکہ معاشی وسماجی ترقی کے آثار پیدا ہورہے ہیں، یہ سوچ روس کی قیادت کے علاوہ وہاں کے دانشوروں کی بھی ہے، روس پاکستان میں ہونے والی اس تبدیلی کا خیر مقدم کرتا ہے، اور اس پس منظر میں اپنے لئے ایک اہم کردار دیکھ رہاہے، تاکہ دونوں ممالک ان تعلقات سے مستفید ہوسکیں، اس موقع پر انہوںنے حال ہی میں ماسکو میں ہونے والی سہ فریقی کانفرنس کا بھی خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا، اس سہ فریقی کانفرنس میں پاکستان ، چین اور روس شامل تھے، بقول ان کے یہ پہلی کانفرنس نہیں تھی بلکہ ایسے مذاکرات پہلے بھی ہوچکے ہیں، جس میں افغانستان کی صورتحال اور وہاں کے امن قیام اور خانہ جنگی کے خاتمہ سے متعلق تفصیلی بات چیت کی گئی ہے، تینوں ممالک افغانستان میں امن کا قیام دیکھنا چاہتے ہیں، تاکہ قیام امن کی صورت میں اس خطے میں سیاسی اور معاشی سرگرمیوں کا بھر پور آغاز ہوسکے، جب ان سے دریافت کیا گیا کہ اس سہ فریقی کانفرنس سے متعلق افغانستان کی حکومت نے تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس اہم مسئلہ پر افغانستان کو کیوں مدعو نہیں کیا گیا؟ اس کا جواب دیتے ہوئے جناب اولیگ نے کہا کہ آئندہ افغانستان کے علاوہ دیگر ممالک کو بھی شامل کیا جاسکتاہے، تاکہ اس خطے کو عدم استحکام سے بچایا جاسکے، تاہم انہوںنے بڑی وضاحت سے کہا کہ افغانستان میں صورتحال تسلی بخش نہیں ہے، وہاں موجود ممالک (امریکہ اور نیٹو کی طرف اشارہ تھا) افغانستان میں امن قائم کرنے میں ناکام نظر آرہے ہیں، اس لئے موجودہ حالات کو جلد از جلد بہتر بنانے کی ضرورت ہے، اس لئے یہ سہ فریقی کانفرنس منعقد ہوئی تھی، افغانستان میں پھیلی ہوئی بدامنی سے چین اور پاکستان کے علاوہ اس خطے کے دیگر ممالک بھی متاثر ہورہے ہیں، جس سکا ازالہ نہایت ہی ضروری ہے۔
جناب اولیگ نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس پاکستان کی معاشی ترقی میں اپنا رول ادا کرنا چاہتاہے، روس کے ماہرین پورٹ قاسم کے لے کر نواب شاہ تک ایل این جی گیس کی ترسیل کیلئے ایک پائپ لائن تعمیر کرنے جارہے ہیں، جس پر جلد ہی سمجھوتہ ہوجائے گا، اس پائپ لائن کی تعمیر پر روس 80 فیصداخراجات برداشت کرے گا، پاکستان اسٹیل مل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں روسی قونصل جنرل نے کہا کہ یہ اسٹیل مل ہم نے بنائی تھی، اب بھی ہم اس کو دوبارہ بحال کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، لیکن نج کاری کمیشن نے اس سلسلے میں ابھی تک ہم سے رابطہ قائم نہیں کیا ہے، اور نہ ہی سندھ کی حکومت نے جواب بظاہر اسٹیل مل کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے چکی ہے، مسٹر اولیگ نے کہا کہ روس نے کراچی میں پاکستان اسٹیل مل تعمیر کرنے سے قبل اصفہان (ایران) میں اسی ٹیکنالوجی پر مبنی اسٹیل مل تعمیر کی تھی، جو اس وقت بڑی کامیابی سے چل رہی ہے، ہمارے لئے پاکستان اسٹیل مل کو بحال کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن اب چین اس اسٹیل مل کو بحال کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، اور ایران بھی!تاہم اس کا فیصلہ نج کاری کمیشن اور سندھ حکومت کرے گی، پاکستان چین اقتصادی راہداری میں روس کی شمولیت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں روسی قونصل جنرل نے کہا کہ ابھی تک روس نے اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، لیکن یہ ایک اہم منصوبہ ہے جو واقعی پاکستان کے علاوہ اس خطے کے لئے گیم چینجرثابت ہوگا، چین نے اس منصوبے کے لئے سب سے بڑی سرمایہ کاری کی ہے، جو ہر صورت میں کامیاب اور با ثمر ثابت ہوگی، دفاعی شعبے میں روس اور پاکستان کے درمیان تعلقات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مسٹر اولیگ نے کہا کہ اس شعبے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے، کراچی میں گزشتہ ماہ ہونے والی اسلحہ کی نمائش Ideasمیں روس کی اسلحہ ساز کمپنیوں نے بھر پور شرکت کی تھی(تقریباً 80کمپنیاں)، جو آئندہ پاکستان اور روس کے درمیان دفاعی شعبے میں معاونت کا سبب بنے گی، روسی قونصل جنرل نے کہا کہ پچاس سال بعد روس اور پاکستان کے مابین تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہورہاہے، جو اس خطے کے علاوہ دنیا میں امن کے قیام میں ایک اہم کردار ادا کرے گا، ہم سب کو اس پیش منظر میں پر امید ہونا چاہئے، تاکہ دونوں ملک کے عوام دوستی کے اس سفر سے بھر پور استفادہ کرسکیں،
روس اور پاکستان کے درمیان تجارت کے فروغ سے متعلق آخری سوال کے جواب میں کہا کہ دونوں ممالک باہمی تجارت کے فروغ سے بہت سے فوائد حاصل کرسکتے ہیں، روس پاکستان سے آلو اور کینو خرید نا چاہتا ہے، بلکہ درآمد بھی کررہاہے، تاہم کسٹم ڈیوٹی سے متعلق پاکستانی برآمد کنندگان کے کچھ تحفظات ہیں جس پر طرفین بات چیت کررہے ہیں، پاکستان کی ٹیکسٹائل کی مصنوعات روس میں بہت مقبول ہیں، پاکستانی ایکسپورٹرز کو کوالٹی کو بہتربنانے پر توجہ دینی چاہئے۔