پاکستان کا اقتدار اور مڈل کلاس

ہر معاشرے میں مڈل کلاس کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ اس کا تعلیم یافتہ ہونا اور مالی طور پر خوش حال اور آسودہ حال ہونا ہوتا ہے۔ اس کے کردار کی تیسری اہم وجہ مڈل کلاس کا زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں ہونا ہوتا ہے۔ ریاست کے اہم ترین ادارے فوج میں بھی مڈل کلاس کے لوگ ہی بڑے عہدوں پر پہنچتے ہیں۔ بیورو کریسی میں اعلیٰ عہدیدار بھی مڈل کلاس سے ہی تعلق رکھے ہوتے ہیں۔ شہروں کی انتظامیہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز چیف سیکرٹری، کمشنر، ڈی سی، ڈی آئی جی، آئی جی کا تعلق بھی مڈل کلاس سے ہی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کی معیشت کے نظام میں بھی مڈل کلاس کے لوگ ہی سب سے آگے ہوتے ہیں۔ ملک کے بڑے اور چھوٹے بینک کاروں کا زیادہ تر تعلق مڈل کلاس سے ہے۔ ملک کے بینکوں پر بھی مڈل کلاس کا ہی اختیار چلتا ہے۔ان سب کے علاوہ ملک کے سرمایہ داری نظام کا تمام تر دارومدار مڈل کلاس پر ہوتا ہے۔ تمام سرمایہ داروں کا تعلق یا تو اپر مڈل کلاس یا مڈل کلاس سے ہوتا ہے۔ ملک کی تمام صنعت کاری اپر کلاس یا مڈل کلاس کے پاس ہوتی ہے۔ شہر وں اور دیہات میں فارم ہائوس کی شکل میں تمام جائیدادیں مڈل کلاس ہی کی ملکیت ہوتی ہے۔ زیادہ تر یونیورسٹیوں کے چانسلروں کا تعلق بھی مڈل کلاس ہی کے ساتھ ہوتا ہے۔ ملک کے تمام بڑے تعمیراتی شعبوں کے انجینئرز کا تعلق بھی مڈل کلاس کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ ملک کے اکثر پروفیسروں، ڈاکٹروں کا تعلق بھی مڈل کلاس ہی کے ساتھ ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں زندگی کے تمام اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کا تعلق زیادہ تر اپرکلاس اور مڈل کلاس کے ساتھ ہوتا ہے۔ جہاں تک ملک میں چھوٹے طبقات کا تعلق ہے جو بھاری اکثریت میں ہوتے ہیں اور جن کو عوام اور قوم کہا جاتا ہے،یہ تمام چھوٹے طبقات ان بڑے مراعات یافتہ طبقوں کے ایک طرح سے دست نگر ہوتے ہیں۔ خاص طور پر پاکستان جیسے پسماندہ ممالک میں زندگی کے ہر شعبے میں عام لوگوں کی حیثیت را میٹریل کی سی ہوتی ہے، ا س لیے کہ ریاست کے تمام کلیدی امور ،مال و دولت اورحکومت کے مالک اوپر کے دو طبقے ہی ہوتے ہیں جن کو اپر کلاس اور مڈل کلاس کہا جاتا ہے۔کسی بھی ریاست یا ملک میں اپرکلاس یا مڈل کلاس کا ہونا کوئی انہونی بات ہرگز نہیں ۔ پوری دنیا کے ممالک میں طبقاتی تقسیم موجود ہوتی ہے، مگر پسماندہ ممالک میں یہ طبقاتی تقسیم عام لوگوں کے لیے بڑی حوصلہ شکن ہوتی ہے،جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں اپرکلاس اور مڈل کلاس کا کردار بے حد تعمیری کردار ہوتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں اپر کلاس اور مڈل کلاس ملک کی ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتی ہے۔ یہ اپر کلاس یا مڈل کلاس جس کو سرمایہ دار کلاس کہا جاتا ہے ترقی یافتہ ممالک میں یہی اقتصادی ،معاشی انفراسٹرکچر قائم کرتی ہے۔ ملک کے اقتصادی نظام کا ڈھانچہ اس سرمایہ دار کلاس کے کاروباری ستونوں پر کھڑا ہوتا ہے اوریہ سرمایہ دار مڈل کلاس ہی سرمایہ کاری تبدیلیاں پیدا کرتی ہے۔ مڈل کلاس ملک کی وفادار کلاس ہوتی ہے۔ یورپ کے ممالک میں تمام بینک مڈل کلاس کی تحویل میں ہوتے ہیں۔ تمام بھاری انڈسٹری کی تنصیب و تکمیل کا کام بھی مڈل کلاس ہی سر انجام دیتی ہے۔ بڑے بڑے تعلیمی ادارے بھی مڈل کلاس کے سرمائے سے چل رہے ہوتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کا نظام ہوائی جہاز کا سفر وغیرہ بھی سرمایہ دار کلاس کے سرمائے سے قائم ہوتا ہے۔ لاکھوں کمپنیاں اس کلاس کی دولت سے چل رہی ہوتی ہیں۔ ملک میں زندگی کے استعمال کی تمام اشیاء کی پیداوار کے کارخانے مڈل کلاس کے سرمایہ سے ہی چل رہے ہوتے ہیں۔ گویا ان گنت اور بے شمار پیداواری ادارے مڈل کلاس کی دولت سے چل رہے ہوتے ہیں جن میں لاکھوں کروڑوں لوگوں کو روزگار حاصل ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں غربت کو ختم کرنے میں ،بے روزگاری کو ختم کرنے میں مڈل کلاس کا کردار بے حد اہم ہوتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک کی مڈل کلاس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ اپنے ملک کی دولت کو اپنے ملک کے اندر ہی خرچ کرتی ہے ، ملک کی دولت کو ملک سے باہر ہرگز نہیں لے کر جاتی اور نہ ہی اس دولت کو چور طریقوں سے بیرونی ممالک کے بینکوں میں جمع کراتی ہے۔ ان سرمایہ داروں کی دولت اپنے ملک کے اندر ہی گردش میں رہتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ مڈل کلاس ترقی یافتہ ممالک میں کوئی دیالو کلاس ہے ،یہ بھی عام لوگوں کا استحصال کھل کر کرتی ہے،مگر اپنی حب الوطنی کے جذبے سے ایک تو لوگوں کو بھوکا نہیں مرنے دیتی ،دوسرا اپنے ملک کو اقتصادی طور پر دیوالیہ نہیں ہونے دیتی۔ پاکستان میں بدقسمتی یہ ہے کہ جب ہندوستان متحد تھا ،اس وقت ہندوستان میں مڈل کلاس کا تعلق ہندوئوں سے ہی تھا۔ہندو ذات کے لوگ صدیوں سے کاروباری لوگ تھے۔ ہندوستان کی تمام دولت اس مڈل کلاس کے پاس تھی مگر ہندوستان کی خوش نصیبی یہ تھی کہ مڈل کلاس بڑی بھارت پرست تھی۔ اس کی تمام دولت ہندوستان کے اندر ہی گردش کرتی تھی۔ ہندوستان کی اس مڈل کلاس میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی ،یہی وجہ ہوئی کہ جب ہندوستان تقسیم ہوگیا اورپاکستان بن گیا تو پاکستان میں کوئی مڈل کلاس تھی ہی نہیں ۔ پاکستان کے حصے میں جاگیردار آگئے اور چند سرمایہ دار تھے جن کو گنا جاسکتا تھا۔ دنیا کے ہر ملک میں مڈل کلاس اپنی محنت اور مشقت سے بنا کرتی ہے، پاکستان میں ایسا نہ ہوسکا۔ پاکستان مڈل کلاس کے وجود میں آنے کا آغاز ہندوئوں کے مکانوں، دکانوں اور کارخانوں کی الاٹمنٹ سے شروع ہوا۔اس طرح ہماری مڈل کلاس دولت کے آسان حصول کی عادی ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی حکومتوں نے پرمٹوں کا سلسلہ شروع کردیا۔ امپورٹ ایکسپورٹ پرمٹ بھی اس مراعات یافتہ کلاس کو ہی دیے جاتے رہے۔ پاکستان میں مراعات کی یہ لوٹ سیل پاکستان کی مڈل کلاس کا کاروبار بن کر رہ گئی، جس کی وجہ سے ہماری مڈل کلاس بغیر محنت کیے چند ہی دنوں میں دولت مند بن گئی۔ پاکستان کی مڈل کلاس دولت جمع کرنے کے راستے میں رکاوٹ بننے والا کوئی قانون پسند نہیں کرتی تھی ۔جس طرح فوجی حکمرانوں کے پاس پاکستان کے تحفظ کا نعرہ تھا، اس دولت مند مڈل کلاس کے پاس تحفظِ اسلام کا نعرہ تھا۔ آج پاکستان میں ہم جتنی مذہبی بنیاد پرستی دیکھ رہے ہیں ،جتنی لاقانونیت دیکھ رہے ہیں اس کے ذمہ دار بھی فوجی حکمران اور پاکستان کی یہ موقع پرست مڈل کلاس ہے۔ ان دونوں کے اشتراک نے پاکستان کو دہشت گرد ملک بنا دیا ہے۔ جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ حب الوطنی کا یہی تقاضا ہے کہ موجودہ و سابق حکمران اپنی تمام دولت ملک میں واپس لائیں تاکہ پاکستان مالی بحران سے باہر نکل سکے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں