انتقام اور سیاست

بنگلہ دیش کی وزیراعظم محترمہ حسینہ واجد حسین نے علیحدگی کے 42سال بعد جنگی عدالت قائم کرکے اپنے ملک کی جماعت اسلامی کے بوڑھے اور نحیف و نزار قائدین کو ،متحدہ پاکستان کی حمایت کرنے کے جرم میں ،عمر قید کی سزائیں دلا کر انتقام کا کلیجہ ٹھنڈا کیا ہے۔سوال یہ ہے کہ گڑے مردے اکھاڑنا کہاں کی عقل مندی ہے۔ متحدہ پاکستان کے تو آپ کے والد خود شیخ مجیب الرحمن بھی حامی تھے۔ انہیں اسلام آباد میں بیٹھے فوجی حکمرانوں کے ،آپ ہی کی طرح کے رویے اور سلوک نے ،پاکستان کا دشمن بنایا تھا۔ ایسے ہی رویّے اور سلوک کا مظاہرہ آپ نے اپنی حکومت کے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے جماعت اسلامی کے بوڑھے قائدین کی سزائوں کی شکل میں کیا ہے۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم کو جان لینا چاہیے کہ کوئی بھی ملک و قوم کا دشمن نہیں ہوا کرتا۔ حکمرانوں کے نفرت انگیز رویّے ہی لوگوں کو ملک اور قوم کا دشمن بنا دیا کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ لوگ اپنی قوم اور اپنے ملک کے دشمنوں کے ایجنٹ بھی بن جایا کرتے ہیں۔ جس طرح کے آپ کے والد اور ان کی پارٹی کے کئی لیڈر بھارت کے ایجنٹ بن گئے یا ایجنٹ بننے پر مجبور ہوگئے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ غلط رویّے کیا تھے۔جنہوں نے بنگلہ دیش بنایا تھا۔ وہ غلط رویّے غیر جمہوری اقتدار کی مطلق العنانی تھی۔ دوسروں کے سیاسی موقف کو برداشت نہ کرنے کا رویہ تھا۔ بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کا اگر 1970 میں پاکستان کی حمایت کرنا جرم تھا۔ تب اس جماعت کے لیڈروں کو بنگلہ دیش بن جانے کے فوراً بعد اگر اس قسم کی سزائیں دی جاتیں تو شاید لوگ برداشت کرلیتے ۔ آج چالیس سال بعد آپ کو یہ خیال آیا ہے کہ یہ بوڑھے لوگ گردن زدنی ہیں۔ یہ گھٹیا قسم کی انتقامی کارروائی ہے۔ 91 یا 93 سال کے لوگ ویسے ہی دنیا سے کوچ کرنے والے ہیں، اس عمر میں انہیں سزائے موت ،صدی کا سب سے بڑا مذاق ہے‘ جو آپ نے کیا ہے۔جن کے پاس زندگی کے لیے عمر ہی باقی نہیں ان کو عمر قید کیا کہے گی۔ حسینہ بی بی! اگر سزائوں سے مسئلے حل ہوسکتے تو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کبھی نہ بن پاتا۔ آپ نے جو سزائوں کی شکل میں سنگین قسم کی انتقامی کارروائی بنگلہ دیش میں حب الوطنی اور غداری کے نام پر کی ہے اس کا اس وقت کوئی قانونی تقاضا تھا اور نہ ہی کوئی اخلاقی جواز۔ آپ کے اس فیصلے کی روشنی میں اگر آپ کے والد شیخ مجیب الرحمن کے معاملے کو دیکھا جائے تو ان کی بغاوت کا معاملہ بھی پاکستان کے خلاف غداری کے زمرے میں ہی آتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ بغاوت اگر کامیاب ہوجائے تو وہ انقلاب بن جاتی ہے ناکام ہوجائے تو غداری ہے۔ پروفیسر غلام اعظم اور مولانا علی احسن مجاہد اور ان کی جماعت کے دوسرے ارکان آپ کے بنگلہ دیش میں آج تو رونما نہیں ہوئے تھے۔یہ تمام لوگ اس وقت بھی زندہ سلامت تھے جب آپ کے والد گرامی بنگلہ دیش کے پہلے حکمران بنے تھے۔ اس وقت ان لوگوں کی غداری کا ’’جرم‘‘ بہت تازہ تھا۔ پاکستان کے ساتھ ان کی محبت اور حمایت ایک کھلا ثبوت تھی۔ اس وقت اگر ان پر مقدمات قائم کیے جاتے تو کوئی حیرت کی بات نہ ہوتی۔ مگر آپ کے والد شیخ مجیب الرحمن نے ایک دانا انسان ہونے کی حیثیت سے جماعت اسلامی کے اکابرین پر نہ تو کوئی گرفت کی اور نہ ہی کوئی مقدمہ چلایا۔ ان کی موت کے بعد بنگلہ دیش میں کئی حکومتیں قائم ہوئیں۔ ان حکومتوں نے بھی ان لوگوں پر نام نہاد ’’غداری‘‘ کے مقدمات قائم نہیں کیے۔ محترمہ خالدہ ضیا کے اقتدار میں بھی ایسا کوئی مقدمہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ یہاں تک کہ خود آپ جب پہلی بار بنگلہ دیش کی وزیراعظم بنی تھیں تو آپ نے بھی جماعت اسلامی اور اس کے لیڈروں کے خلاف ایسا کوئی مقدمہ نہیں چلایا تھا۔ مگر آپ کے اقتدار کے اس موجودہ عہد میں بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی نے جب سابق وزیراعظم بنگلہ دیش محترمہ خالدہ ضیا کے ساتھ اپنا انتخابی اتحاد قائم کیا تو آپ کو ان کی غداری کے پرانے قصے یاد آگئے اور آپ نے ایک جنگی عدالت قائم کرکے ان کو سزائیں دلادیں۔ یہ کھلا تعصب ہے۔ ان لوگوں کی یہ تمام سزائیں ایک انتقامی کارروائی کے علاوہ کچھ حیثیت نہیں رکھتیں۔ راقم جماعت اسلامی کا فکری اور نظریاتی مخالف ہے۔ ان کے فکر وفلسفے کو آج کی انسانی زندگی کے مطابق خیال نہیں کرتا۔ لیکن راقم سیاسی کارکن ہونے کی وجہ سے کسی بھی مخالف فکر کے فریق کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا ہرگز ہرگز درست نہیں سمجھتا۔ انصاف یہ ہے کہ سیاست کا جواب سیاست سے ہی دیاجائے۔ سیاست کا جواب عداوت سے دینے والے سیاسی حکمرانوں کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوا۔ آپ نے جماعت اسلامی کا سیاسی طور پر مقابلہ کرنے کے بجائے اس کو خلاف قانون قرار دے دیا ہے۔ یاد رکھیں سیاسی اور مذہبی تنظیمیں اس طریقے سے کبھی ختم نہیں ہوا کرتیں۔ وہ اپنا عمل تبدیل کرلیا کرتی ہیں۔آپ چاہیں گی کہ جماعت اسلامی کی تنظیم البدر اورالشمس القاعدہ بن جائیں یا طالبان بن جائیں اور زیرزمین رہ کر آپ کی حکومت کے خلاف مسلح کارروائیاں کرنا شروع کردیں۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ آپ کی حکومت کا سیاسی اور عوامی سفر ختم ہوچکا ہے۔ آپ کے پاس بنگلہ دیش کی ترقی اور خوش حالی کا سرے سے کوئی پروگرام ہی نہیں۔ حسینہ بی بی! حکومتیں اعلیٰ نصب العین سے عوام میں مقبول ہوا کرتی ہیں۔ عوام کے مسائل حل کرکے کامیاب ہوا کرتی ہیں۔ اس طرح کی انتقامی کارروائی حکومتوں کے لیے کبھی نیک نامی کا باعث نہیں ہوتی۔ آپ کو اپنے اس عمل کا آنے والے بنگلہ دیش کے انتخاب میں پتہ چل جائے گا۔ ؎ دیوانے ہیں وحشت میں بہت رقص کریں گے دیکھیں گے کہ زنجیرِ جنوں کتنی کڑی ہے

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں