تلخ فیصلے

کعبہ کیا ہے؟ کعبہ خدا کا گھر ہے‘ اس گھر کا مسلمان طواف کرتے ہیں۔ لوگ اُس گھر میں عبادت کرتے ہیں جس میں کوئی خوف نہیں ہوتا۔ خدا کے گھر کا کوئی دشمن نہیں۔ جس طرح خدا تمام بنی نوع انسان کا خدا ہے‘ اسی طرح کعبہ تمام امن پسند انسانوں کا گھر ہے۔ خدا کا گھر سب کا گھر ہے بشرطیکہ اس میں داخل ہونے کی شرائط پوری کر لی جائیں۔ یہ مسجدیں‘ یہ مندر، یہ کلیساانسانوں کی عبادت گاہیں اور انسانی اقدار کے مقدس استعارے ہیں۔ ان کے اندر داخل ہونے والے انسان عبادت کرتے ہیں۔ اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔ کیا کوئی ذی ہوش اور باشعور انسان اس جگہ کی بے حرمتی کرنے کا تصور کرسکتا ہے جہاں اللہ کی عبادت ہوتی ہو؟ کیا کوئی انسان کسی مسجد کی توہین کرسکتا ہے؟ کیا کوئی انسان کسی مندر کو تباہ کرسکتا ہے؟ کیا کوئی انسان کسی چرچ کو بم دھماکوں سے اڑا سکتا ہے؟ چرچ کے اندر عبادت کرنے والے بے خطا انسانوں کو جن میں خواتین اوربچے بھی شامل ہوں‘ جلا کر راکھ کر سکتا ہے؟ خدا گواہ ہے کوئی ہوشمند انسان ایسا نہیں کرسکتا۔ ایسا کرنے والے صرف اور صرف حیوان اور درندے ہوسکتے ہیں۔ وحشی بھیڑیے ہوسکتے ہیں۔ خونخوار جانور ہوسکتے ہیں! انتہا پسند مسجدیں اڑا کر اعلان کرتے ہیں کہ یہ ہمارا کام ہے لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے۔ یہ طالبان نہیں‘ یہود و ہنود کا کام ہے۔ پشاور کا گرجا گھر اُڑا کر، سینکڑوں بے گناہوں کا خون کرکے، بچوں کے جسموں کے چیتھڑے اڑا کر انسان ہونے کا دعویٰ کرنے والوں پر حیرت ہوتی ہے۔ ہم کہتے ہیںبھارت اور اسرائیل کا کام ہے‘ طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور ہم نے ان کی بات مان لی۔ کیا فورسز اور بے گناہ شہریوں کا خون بہانے والے جھوٹ نہیں بول سکتے؟ میں ذاتی طور پر طالبان کے ساتھ مذاکرات کا حامی تھا اور اب بھی حامی ہوں مگر طالبان نے غیر مشروط مذاکرات کی تجویز کا جس طرح قتل عام کیا ہے‘ وہ وعدہ خلافی کی بدترین مثال ہے۔ پاکستان کی ریاست اور پاکستانی قوم کو ’’طالبان‘‘ کی تباہ کاریوں اور دہشت گردی کے بارے میں متفقہ فیصلہ کرنا ہوگا۔ ان کے عزائم ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ یاد رکھیں کہ ریاست کے اندر جو طبقہ‘ گروہ یا تنظیم ریاست کی محافظ افواج پر ہتھیار اٹھا لے وہ ریاست کے وجود اور قوم کی دشمن ہوتی ہے۔ طالبان کو اسی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ پاکستان کی افواج نے جتنا نقصان دہشت گردی کے خلاف موجودہ جنگ میں اٹھایا ہے‘ اتنا 1965ء میں بھارت کے ساتھ جنگ میں نہیں اٹھایا تھا۔ 1965ء میں پاکستان کی فوج کا کوئی جنرل شہید نہیں ہوا تھا۔ اس جنگ میں توہمارے جنرل بھی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ان کے علاوہ افسران اور جوانوں کی طویل فہرست ہے جنہوں نے جام شہادت نوش کیا۔پاکستان کے بے گناہ شہریوں کی تعداد بھی ہزاروں تک پہنچ چکی ہے جو دہشت گردی کا شکار ہوئے، مگر حکومت اب بھی طالبان کا نام اپنی زبان پر لانے سے گریزاں ہے۔ سخت افسوس ہے: ؎ سفینہ ہو بھی چکا نذرِ سیلِ آب اسلم مگر یہ دل ہے کہ اب بھی بھنور سے ڈرتا ہے وزیراعظم کو اس بات کی خبر ہونی چاہیے کہ دہشت گرد اس فوج کے دشمن ہیں جس کے آپ انتظامی سربراہ ہیں۔ دہشت گرد اس ریاست کے دشمن ہیں جس کے چیف ایگزیکٹو آپ ہیں۔ دہشت گرد اس ملک اور قوم کے دشمن ہیں جس ملک اور قوم کے وزیراعظم آپ ہیں۔ آپ کسی اعتبار سے بھی دہشت گردوں کو قبول نہیں ہوسکتے۔ اگر دہشت گردوں کو آپ کا لحاظ ہوتا تو وہ کبھی آپ کے فوجی جوانوںپرحملے نہ کرتے‘ کبھی آپ کے شہریوں کالہو نہ بہاتے‘ کبھی پاکستان کی اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو دھماکوں سے نہ اڑاتے اور نہ ان کے بال بچوں کا خون کرتے جن کے آپ آئینی محافظ ہیں۔ وہ کبھی اس ملک کے آئین اور قانون کی دھجیاں نہ اڑاتے جس آئین اور قانون کے تحت آپ نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا ہے۔ حکومت خطرہ دیکھ کر آنکھیں بند نہ کرے‘ آنکھیں کھلی رکھے‘ اپنے حلف اور فرض کو پہچانے‘ پشاور کے قصہ خوانی بازار میں انسانوں کی کٹی پھٹی لاشیں دیکھے۔ میرے خیال میںاب مذاکرات کا باب بند ہوجانا چاہیے۔ اب باقاعدہ اعلان جنگ کا مرحلہ ہے۔ یہ لوگ اتنے بھی ناقابلِ شکست نہیں۔ آج تک ان پر ڈھنگ سے ہاتھ ہی نہیں ڈالا گیا۔ کچھ لوگ دانستہ اور کچھ نادانستہ مذہب کے نام پر ان کے ساتھ ہمدردیاں رکھتے ہیں‘ مگر آج تک مذہب کے نام پر ان سنگدلوں نے جو مذہب اور اہلِ مذہب کے ساتھ کیا ہے‘ ایسا تو کبھی یہود و ہنود نے بھی نہ کیا تھا۔ آج پوری قوم کو یکسو ہو کر نہ صرف دہشت گردوں سے بلکہ ان کی حمایت کرنے والوںسے بھی نفرت کا اظہار کرنا ہوگا۔ ان دہشت گردوں کو نیست و نابود کرنے کے لیے تو گولا بارود کی بھی ضرورت نہیں‘ ان کو قوم اپنی نفرت سے ہی صفحۂ ہستی سے مٹا سکتی ہے۔ اس معاملے میں ہمیںبھارت کی ماضی قریب کی مثال کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔ بھارت میں 1984-85ء میں خالصتان کے نام پرسکھوں کی ایک مسلح تنظیم ابھری تھی جو بندوق کے زور پر خالصتان کے نام سے علیحدہ ریاست بنانا چاہتی تھی۔ اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے ملک کی سالمیت کو قائم رکھنے کی خاطر فوج کو ان کے خلاف جنگ کا حکم دے دیا۔ خالصہ تحریک کے جنگجو امرتسر کے گولڈن ٹمپل میں مورچہ بند ہوگئے۔ گولڈن ٹمپل سکھوں کے ایک متبرک اور مقدس مقام کا درجہ رکھتا ہے‘ مگر بھارتی افواج نے آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے گولڈن ٹمپل پربھی حملہ کردیا اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا۔ یہ بات اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت کو ان غیر ریاستی قوتوں کے خلاف نبرد آزما ہونے میں بہت نقصان اٹھانا پڑا‘حتیٰ کہ وزیراعظم اندراگاندھی بھی قتل ہوگئیں‘ مگر دہشت گردی کے خاتمے کا اس کے سوا کوئی علاج نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ حکمرانوں کو ملک و قوم کی سالمیت‘ خودمختاری‘ وقار اور آزادی کے لیے بہت تلخ فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ اب وقت کایہی تقاضا ہے کہ میاںصاحب جرأت مندانہ فیصلہ کریں۔ اس وقت لیت و لعل سے کام لیناخودکشی کے مترادف ہوگا۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں